نیویارک کا نیا سورج — ظہران حمدانی کی حیران کن جیت

تحریر و تحقیق : تنویر ساحر

نیویارک ، دنیا کے سب سے بڑے اور مصروف ترین شہر میں ایک تاریخی سیاسی موڑ آیا ہے ۔ 2025ء کے میئر الیکشن میں ظہران حمدانی نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کبھی کسی مسلم یا جنوبی ایشیائی نژاد سیاستدان نے نہیں کیا ۔

انہوں نے نیویارک کے عوام کا دل جیت کر شہر کے میئر کی کرسی حاصل کر لی ہے ، اور اس جیت نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ظہران حمدانی دراصل Zohran Mamdan ہیں ، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو کے گروپ Democratic Socialists of America سے ہے ۔ وہ 18 اکتوبر 1991ء کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد پروفیسر محمود ممدانی مشہور مصنف اور استاد ہیں ، جبکہ والدہ معروف بھارتی نژاد فلم ساز میرا نائر ہیں ۔ سات برس کی عمر میں وہ نیویارک منتقل ہوئے اور یہیں سے ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے Bronx High School of Science سے تعلیم حاصل کی اور Bowdoin College سے افریقانا اسٹڈیز میں بیچلر کی ڈگری مکمل کی ۔ امریکی شہریت انہیں 2018ء میں حاصل ہوئی ۔

نیویارک کا میئر منتخب ہونے کا عمل پیچیدہ مگر جمہوری روایت کا اعلیٰ مظہر ہے ۔ 2025ء کے الیکشن میں Ranked-Choice Voting کا طریقہ کار استعمال ہوا ، جس میں ووٹر اپنی پہلی ، دوسری اور تیسری پسند کے امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لے سکے تو سب سے کم ووٹ لینے والے امیدوار کے ووٹ اگلی ترجیحات کے مطابق تقسیم کیے جاتے ہیں ۔ اسی طریقے سے ظہران حمدانی نے بالآخر 56 فیصد ووٹ حاصل کر کے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتی ، جبکہ ان کے مدمقابل سابق گورنر اینڈریو کومو کو 36 فیصد ووٹ ملے ۔

عام انتخابات میں حمدانی کے مقابلے میں اینڈریو کومو آزاد امیدوار کے طور پر اور ریپبلکن پارٹی کے کرٹس سلیوا امیدوار تھے ۔ حتمی گنتی کے مطابق حمدانی نے 10 لاکھ 36 ہزار 51 ووٹ حاصل کیے جبکہ کومو کو 8 لاکھ 54 ہزار 995 ووٹ ملے ۔ یوں انہوں نے واضح اکثریت کے ساتھ نیویارک سٹی کے 110ویں میئر کا اعزاز حاصل کیا ۔

نیویارک میں میئر کی مدت چار سال ہوتی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ منتخب کیا جا سکتا ہے ۔ میئر شہر کے بجٹ ، ٹرانسپورٹ ، رہائش ، تعلیم ، پولیس اور شہری انتظامیہ پر وسیع اختیارات رکھتا ہے ۔
ظہران حمدانی نے اپنی مہم میں وعدہ کیا کہ وہ عوامی ٹرانزٹ کو مفت کریں گے ، کرایوں میں اضافہ روکیں گے ، سرکاری گروسری اسٹورز قائم کریں گے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائشی اسکیمیں متعارف کرائیں گے ۔ ان کے منشور کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ “نیویارک سب کے لیے جینے کے قابل شہر بنے ، نہ کہ صرف امیروں کے لیے ۔”

ان کی کامیابی کی اصل وجہ یہی عوامی منشور اور نچلی سطح پر چلائی گئی موثر مہم تھی ۔ ان کی ٹیم نے دروازے دروازے جا کر ووٹروں سے رابطہ کیا ۔ نوجوانوں ، تارکین وطن ، محنت کش طبقے اور ٹرانزٹ ورکرز نے انہیں اپنی آواز سمجھا ۔ ان کا بیانیہ “عوام کے مسائل کو عوامی انداز میں حل کرنے” کا تھا ، جو موجودہ نظام سے مایوس شہریوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب رہا ۔

ظہران حمدانی کے مذہبی اور نسلی پس منظر نے بھی انہیں نمایاں بنایا ۔ وہ مسلمان ہیں اور جنوبی ایشیائی نژاد ہونے کے باعث نیویارک کے متنوع سماج کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا تعلق بھارت سے ہے ، مگر پاکستانی و جنوبی ایشیائی کمیونٹی نے بھی انہیں بھرپور حمایت دی ، کیونکہ ان کی جیت کو ایک “برصغیر کے بیٹے” کی کامیابی سمجھا جا رہا ہے ۔

یہ جیت امریکی سیاست میں ایک علامتی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حمدانی کی کامیابی کے بعد ان کی شہریت پر سوال اٹھایا اور انہیں “کمیونسٹ ، روسی نظریات رکھنے والا خطرناک شخص” قرار دیا ۔ ٹرمپ کا یہ طرز عمل دراصل امیگریشن مخالف بیانیے کا تسلسل ہے جسے وہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں ، تاہم امریکی عوام نے اس بار ٹرمپ کی اس سیاست کو مسترد کر دیا ۔

ٹرمپ کے لیے یہ جیت سیاسی دھچکا ہے ۔ ایک مسلم ، تارک وطن پس منظر رکھنے والا شخص اب امریکہ کے سب سے بڑے شہر کا میئر ہے ۔ یہ منظر ٹرمپ کے “امریکہ فرسٹ” نظریے کے برعکس ہے ، اور اسے قومی سطح پر ریپبلکن جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے ۔ اگر حمدانی اپنی پالیسیوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ پورے امریکہ میں بائیں بازو کے نظریات کو نئی زندگی دے سکتا ہے ۔

ٹرمپ ممکنہ طور پر وفاقی فنڈنگ ، میڈیا کمپین اور سیاسی دباؤ کے ذریعے رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، مگر نیویارک کی شہری حکومت کے آئینی دائرے میں صدر کی مداخلت محدود ہے ۔ اس لیے حمدانی کے لیے اصل امتحان سیاسی نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی کا ہوگا ۔

ظہران حمدانی کی جیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکی سیاست میں اب شناخت ، نسل یا مذہب سے زیادہ عوامی فلاح اور سادگی کا پیغام اثر رکھتا ہے ۔ یہ کامیابی نہ صرف جنوبی ایشیائی نژاد امریکیوں بلکہ دنیا بھر کے محنت کشوں اور امن پسند طبقات کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے ۔

پسِ پردہ کہانی یہ ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں عوام اب “سرمایہ دارانہ سیاست” سے تنگ آچکے ہیں ۔ حمدانی کی کامیابی اس تبدیلی کی علامت ہے کہ اب ووٹروں کو چمک دمک نہیں بلکہ خلوص اور عوامی خدمت درکار ہے ۔ اگر ظہران حمدانی اپنے وعدوں پر عمل کر گئے تو یہ صرف نیویارک نہیں بلکہ پوری امریکی سیاست کا منظرنامہ بدل سکتا ہے ۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر