میری کے ٹو کہانی (گیارہویں قسط )

گورو ٹو سے کنکورڈیا
۲۷ جولائی ۲۰۲۵

گورو ٹو پر ۲۷ جولائی کی صبح ایک خوشگوار تازگی لیے طلوع ہوئی۔ نرم دھوپ بادلوں کے کناروں سے چھن کر برف پوش چوٹیوں پر بکھر رہی تھی اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی جو روح کو سرشار کر رہی تھی۔ چاروں طرف ایک گہرا سکون اور ٹھہراؤ تھا۔ صبح سات بجے ہم نے ناشتہ کیا، سامان باندھا اور حسبِ روایت ایک دائرے کی صورت میں جمع ہو گئے۔ سینئر گائیڈ نیک اختر نے دن کے سفر کے متعلق ہمیں بریفنگ دی۔ آج میرا وہ خواب پورا ہونے والا تھا جس کے تانے بانے میں پچھلے تین سال سے بُن رہی تھی۔ کے ٹو کو قریب سے دیکھنے اور اس کے سائے میں کچھ وقت گزارنے کا خواب۔ خوشی اور اطمینان کے ساتھ ایک سنسناہٹ سی پورے وجود میں دوڑ رہی تھی۔
رات کے کھانے پر ہمارا گروپ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ چند ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کنکورڈیا سے آگے کے ٹو بیس کیمپ اور پھر براڈ پیک بیس کیمپ تک جائیں گے۔ براڈ پیک بیس کیمپ پر ان کے قیام کے لیے خیموں، خوراک، گائیڈ اور پورٹرز کا انتظام عمیر حسن نے رات ہی کو کر دیا تھا۔ انہیں صبح سویرے گورو ٹو سے روانہ ہونا تھا تاکہ شام تک وہ اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔ یہ بہترین مگر مشکل پلان تھا۔ میرے دل میں ان ساتھیوں کے لیے رشک ضرور تھا مگر میں جانتی تھی کہ اس طویل اور کٹھن سفر کا بوجھ میرا جسم فی الحال نہیں اٹھا سکتا۔ شوق اپنی جگہ لیکن حقیقت پسندی کا تقاضا یہی تھا کہ میں اپنے اصل مقصد ساتھ جڑی رہوں۔ یوں میں نے خود کو سمجھایا کہ کم کو ہی زیادہ سمجھوں کیونکہ ہر چیز حاصل نہیں کی جا سکتی۔
آٹھ ہزار میٹر بلند دو عظیم الشان پہاڑوں کے بیس کیمپ دیکھنے کا ارادہ رکھنے والا پانچ رکنی گروپ علی الصبح روانہ ہو چکا تھا۔ اس میں ذیشان، فرحان، نصیر، اویس اور عمران شامل تھے۔ پیچھے رہ جانے والے ہمارے گروپ نے تقریباً سوا سات بجے کنکورڈیا کی جانب اپنی ٹریکنگ کا آغاز کیا۔ آج راستے میں دوپہر کے کھانے کے لیے کوئی پڑاؤ طے نہیں تھا۔ اس لیے کک زمان بھائی اور ان کی ٹیم نے ہم سب کے لیے لنچ پیکٹ تیار کر دیے۔ جن میں ابلا انڈا، ابلا آلو، بسکٹ اور خشک میوہ جات شامل تھے۔ گورو ٹو سے کنکورڈیا کے درمیان چشموں کا پانی تو مل جاتا ہے مگر وہ پینے کے لائق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم نے اپنی بوتلیں کیمپ سے ہی صاف پانی سے بھر لیں۔
سفر کا آغاز ہوا تو یوں لگا جیسے ہم کسی اور ہی سیارے پر قدم رکھ رہے ہوں۔ ہمارے قدموں کے نیچے صدیوں پرانی برف کی تہیں تھیں جن پر وقت نے پتھروں کی دبیز چادر بچھا دی تھی۔ خچروں کی آمد و رفت سے بالتورو گلیشیئر پر راستہ واضح تھا۔ ہم متوازن رفتار اور مضبوط قدموں کے ساتھ اس برفیلے ٹریک پر آگے بڑھتے رہے۔ کئی مقامات پر برف جم کر شیشے کی مانند تھی اور پھسلن پیدا کر رہی تھی۔ سورج کی تمازت سے دھیرے دھیرے پگھلتی برف پر ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑ رہا تھا تاکہ گرنے اور چوٹ لگنے سے محفوظ رہیں۔
حدِ نگاہ تک پھیلے بالتورو پر ہمارا سفر جاری تھا۔ دائیں بائیں بلند چوٹیوں پر بادلوں کا بسیرا تھا۔ کہیں کہیں برف کے بڑے بڑے ٹیلے دکھائی دے رہے تھے جنہیں سیریکس (Seracs) کہا جاتا ہے۔ سیریکس گلیشیئر کے بہاؤ کے دوران اُس وقت بنتے ہیں جب برف ناہموار زمین سے گزرتی ہے۔ اس سے گہری دراڑیں (crevasses) اور بلند ابھار پیدا ہوتے ہیں۔ پھر یہ برف کے بڑے، بے قاعدہ ٹکڑوں یا میناروں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کئی میٹر اونچے ہوتے ہیں۔ چونکہ گلیشیئر ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے، اس لیے یہ ڈھانچے غیر مستحکم ہوتے ہیں اور قریب جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ کالے بھورے پتھروں سے اٹے بالتورو پر ان سفید میناروں کی موجودگی ایک دلفریب کشش رکھتی ہے۔
قراقرم کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ ہم سب ٹولیوں میں بٹے ہوئے سفر کر رہے تھے۔ آج ہمیں تقریباً چودہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ عاطف اور فیصل بھائی ہمارے ساتھ چل رہے تھے، جبکہ پنکیش اور ستیش ہم سے پیچھے تھے۔ تقریباً نو بجے ہم ایک جگہ سستانے کے لیے رکے تو ایک مختصر سی محفل سخن جم گئی۔ کسی نے شعر پڑھا تو کسی نے داد دی۔ یہ مشاعرہ جاری تھا کہ گائیڈ حبیب نے ہمیں دوبارہ روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ہم نے اپنے قدموں کی رفتار سنبھالی اور اردگرد کے جادوئی حسن کو آنکھوں کے راستے دل میں اتارتے آگے بڑھنے لگے۔
پونے دس بجے کے قریب پورٹرز کا ایک قافلہ نمودار ہوا۔ ان کے ساتھ ہمارے سامان سے لدے خچر تھے۔ ان کے گزرنے سے کچھ لمحوں کے لیے بالتورو کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ خچروں کے گلے کی گھنٹیاں، پتھروں پر ان کے قدموں کی آواز، اور پورٹرز کی مخصوص سیٹیاں مل کر ایک طلسمی سا شور پیدا کر رہی تھیں۔ پورٹرز ہر مہم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ جو خاموشی سے ہماری ضروریات کا سامان اٹھائے ہماری منزلیں آسان کرتے ہیں۔ یہ قافلہ ہمارے بعد گورو ٹو سے نکلا تھا اور اسے ہم سے پہلے کنکورڈیا پہنچ کر خیمے اور کچن کیمپ نصب کرنے تھے۔
راستے بھر برف کی چٹاخ پٹاخ اور برفیلی دراڑوں میں بہتے پانی کی مدھم سرگوشیاں ہمارے ساتھ چلتی رہیں۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے ہم کسی طلسماتی دنیا میں بھٹک رہے ہیں جہاں ہوا بھی اپنی پراسرار سرگوشیوں میں کوئی گیت سنا رہی ہے۔ دوپہر کے قریب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ٹریک تنگ پگڈنڈی میں بدل گیا۔ دائیں جانب پہاڑ تھا، جس کے ایک بڑے پتھر پر ندیم بھائی بیٹھے تھے، اور بائیں طرف برف کے ڈھیر پر ہمارے چند ساتھی آرام کر رہے تھے۔ ندیم بھائی نے ہمیں بھی رکنے اور لنچ کرنے کا مشورہ دیا۔ ہم نے اپنے لفافے کھولے اور بالتورو کی خاموش فضا میں دوپہر کا کھانا کھایا۔
ندیم بھائی اور میرا ساتھی گپ شپ اور سگریٹ کے دھوئیں میں مگن ہو گئے اور میں چند قدم آگے بڑھ کر پہاڑ سے بہتے چشموں کے پاس جا بیٹھی۔ شفاف پانی پتھروں سے ٹکرا کر جلترنگ کی صورت بہہ رہا تھا۔ اس کی ٹھنڈک آنکھوں میں اتر رہی تھی اور آواز روح کو چھو رہی تھی۔ اس لمحے دل چاہا کہ وقت تھم جائے اور میں اسی منظر میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاؤں۔ پہاڑوں کے سفر میں ٹھہرنا کہاں ممکن ہوتا ہے۔ جب ساتھیوں نے چلنے کا اشارہ دیا تو میں نے بھی دل پر قابو پا کر اٹھنے کا فیصلہ کیا۔
دوپہر ایک بجے کے قریب موسم کے تیور بدلنے لگے۔ نیلا آسمان آہستہ آہستہ سرمئی بادلوں سے بھر گیا۔ ہوا میں خنکی در آئی تو ہم نے جیکٹیں پہن لیں۔ پہاڑوں میں موسم کے انداز بدلنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ ایک لمحہ دھوپ کا، اگلا لمحہ کہر کا۔
سوا ایک بجے کے قریب ہم بالتورو گلیشئیر پر واقع ایک فوجی چوکی پر جا رکے۔ وہاں موجود جوانوں نے خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔ برف، پتھروں اور خاموشی کے اس جہان میں ان کے چہروں کی مدھم مسکراہٹ نے جیسے زندگی لوٹا دی۔ چوکی کے خوش اخلاق افسر نے ہمیں چائے کی فراخدلانہ پیشکش کی۔ انہیں سب “استاد جی” بلا رہے تھے۔ وہ ایک دن پہلے ہی ایک بلند پوسٹ سے اس کیمپ سائٹ پہنچے تھے۔ ایسے موسم میں، ایسے مقام پر، چائے ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ جب تک چائے تیار ہوتی رہی، ان جوانوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ انہی میں ایک خوش شکل اور شرمیلا سا نوجوان اویس تھا، جو صوابی کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا تھا اور فوج کے میڈیکل شعبے سے وابستہ تھا۔ باتوں باتوں میں ایک اور جوان بھی آ ملا۔
استاد جی نے مسکراتے ہوئے مجھے اور میرے ساتھی کو کانچ کے کپوں میں چائے پیش کی۔ وہ لمحہ کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ برفیلے میدان کے بیچ گرم چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ، جیسے روح میں زندگی کی حرارت بھر رہی ہو۔ اتنی دیر میں فیصل بھائی بھی پہنچ گئے، تو میں نے مسکرا کر اپنا کپ انہیں تھما دیا۔ چائے کی اس سادہ سی پیشکش نے اس دن کے سفر کو ایک خوبصورت یاد میں بدل دیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ بالتورو جیسے ویران گلیشئیر پر ایسی مہمان نوازی نصیب ہو گی۔ ان جوانوں کے خلوص اور اپنائیت نے دل کو چھو لیا۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھنے کی تیاری کی۔
برف کے میناروں اور گہری دراڑوں کے بیچ سے گزرتے، تقریباً ساڑھے تین بجے کے قریب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ایک بڑے پتھر پر “Cairn” بنا ہوا تھا۔ پتھروں کا ایک چھوٹا سا مینار، جو راہنمائی کے لیے بنایا جاتا ہے تاکہ آنے والے مسافر بھٹک نہ جائیں۔ ہمارے زیادہ تر ساتھی آگے جا چکے تھے اور گائیڈ حبیب فیصل بھائی کے ساتھ پیچھے رہ گیا تھا۔ رہنمائی نہ ہونے کے باعث ہم ایک مقام پر غلط سمت میں اُتر گئے۔ جلد ہی احساس ہوا کہ ہم اصل راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ ٹیم لیڈر عمیر حسن تمام گائیڈز سے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ ہم تنہا ہیں تو انہوں نے فوراً موسیٰ کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج دیا۔
آٹھ دن کے مسلسل سفر کے بعد آج ہم اپنی منزلِ مقصود کے قریب تھے۔ بس ایک گھنٹے کی مسافت اور باقی تھی۔ ۴:۲۵ پر، جب ہم بالتورو کے ایک موڑ پر پہنچے تو میرے گائیڈ موسیٰ نے پہاڑوں کے پار ہاتھ سے اشارہ کیا “باجی، یہ کے ٹو ہے۔” میری دھڑکن ایک لمحے کو رک سی گئی۔ میں نے نگاہ اٹھائی تو سامنے برف میں لپٹا ایک نیم پوشیدہ دیو ہیکل پہاڑ کھڑا تھا۔ اس کی چوٹی گھنے بادلوں میں چھپی ہوئی تھی، مگر اس کا جلال بادلوں کے پردے سے بھی جھلک رہا تھا۔ میری ایک نظر کے ٹو پر تھی اور دوسری اپنے قدموں پر کہ کہیں یہ خواب ناک منظر میری نگاہوں کے سامنے سے گزر نہ جائے۔
جوں جوں میں آگے بڑھتی گئی، پہاڑ نمایاں ہوتا گیا۔ ۴:۳۹ پر جب میں کنکورڈیا کے میدان میں پہنچی تو اس لمحے ایسے لگا جیسے محنت، خواب، اور دعائیں ایک جگہ سمٹ آئی ہوں۔ وفور جذبات سے میری آنکھیں بھر آئیں اور منظر دھندلا گیا۔ کے ٹو کے سامنے کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوا جیسے زندگی سے میرے سارے گلے شکوے ختم ہو گئے ہوں۔ جیسے قسمت نے آج اگلا پچھلا سارا ادھار چکا دیا ہو۔
کنکورڈیا پر عین کے ٹو کے مقابل ہمارے خیمے نصب تھے۔ ہوا میں برف کی خنکی تھی، مگر ساتھیوں کے چہروں پر خوشی کی حرارت۔ ہم نے اپنا خیمہ تلاش کیا، سامان رکھا اور موٹی جیکٹیں اوڑھ لیں۔ اتنا فاصلہ طے کرنے کے باوجود میرے لیے خیمے میں زیادہ دیر ٹکنا ممکن نہ تھا۔ میری نظریں مسلسل کے ٹو پر جمی تھیں۔ دل چاہتا تھا کہ بادل چھٹ جائیں اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اپنی پوری شان اور تمکنت کے ساتھ سامنے آ جائے۔
میں نے سن رکھا تھا کہ ماضی میں کئی گروپوں کے ساتھ ایسا بھی ہو چکا ہے کہ وہ کنکورڈیا پر کے ٹو دیکھنے کی امید لیے بیٹھے رہے لیکن بادلوں نے اجازت نہ دی۔ شاید اسی لئے میرے دل میں بھی ایک انجانا سا خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ذرا سی غافل ہوں اور چوٹی نمایاں ہو کر دوبارہ بادلوں میں چھپ جائے۔ اور پھر رات ۷:۵۶ پر بادل ہٹے اور کے ٹو اپنے مکمل جلال اور شان کے ساتھ نمایاں ہوا۔ چوٹی کو دیکھتے ہی ہم سب کے چہروں پر خوشی کی چمک آ گئی اور ہم ساری تھکان بھول گئے۔ ایسے لگا جیسے سرد ویرانے میں عید اتر آئی ہو۔
اب اندھیرا چھانے لگا تھا۔ جنریٹر چلنے لگے اور میس کیمپ کے بلب ایک ایک کر کے جل اُٹھے۔ سردی شدید تھی، اتنی کہ فون اور پاور بینک تک چارج نہیں ہو رہے تھے۔ رات کے کھانے پر خبر ملی کہ وہ ٹیم، جو علی الصبح کے ٹو بیس کیمپ اور براڈ پیک بیس کیمپ کے لیے نکلی تھی، تھکن کے باعث کنکورڈیا سے آگے نہیں جا سکی۔ کنکورڈیا پر ان کا مختصر آرام ایک طویل توقف میں بدل گیا تھا۔
کھانے کے بعد جشن کی رات شروع ہوئی۔ میس کیمپ میں موسیقی کی محفل سجی۔ سب جیکٹوں اور ٹوپیوں میں لپٹے، سردی سے ٹھٹھرتے، فیصل بھائی کے گانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ رات گہری ہونے لگی اور ستارے چمکنے لگے۔ کے ٹو بادلوں کے پار اپنی پوری عظمت کے ساتھ ایستادہ تھا۔ میں کچھ دیر میس کیمپ کی چہل پہل میں بیٹھی رہی، جب تھکان بڑھنے لگی تو اپنے خیمے میں سونے کے لیے آ گئی۔ اگلی صبح آرام کا دن تھا۔ ایک ایسا دن جس میں ہم دل بھر کر کے ٹو کا نظارہ کر سکتے تھے۔ خواب پورا ہو چکا تھا، مگر اس کی سرشاری ابھی باقی تھی۔
(جاری ہے)



  تازہ ترین   
جنگ جاری رہے گی، ٹرمپ کا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا اعلان
کیا امریکا اسرائیل کی خاطر آخری امریکی فوجی تک لڑنے کیلئے تیار ہے؟ ایرانی صدر
شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام، 8 دہشتگرد ہلاک
ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، کبھی سر نہیں جھکایا، آبنائے ہرمز بھول جائیں: ایرانی فوج
ایران میں مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے؟ آسٹریلوی وزیراعظم
جنگ کا 34 واں روز: یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کیلئے تیار: امریکی اخبار
لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی حملے میں شہید
ایران نے جنگ بندی کی درخواست کردی: ٹرمپ کا دعویٰ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر