پاکستان انڈیا کی حالیہ مختصر سی جنگ میں ہماری افواج خصوصاً ایئر فورس نے بھارتی طاقت کا گھمنڈ تو زمین بوس کیا ہی، مگر اس فتح کا اصل سواد امریکی صدر ٹرمپ لے رہے ہیں۔ صبح ناشتہ سے رات ڈنر تک امریکی صدر کم از آٹھ دس مرتبہ یہ کہنا ضروری سمجھتا ہے، کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ اس نے تجارت کی دھمکی دے کر رکوائی اور اس جنگ میں سات طیارے گرائے گئے۔ بے احتیاطی میں کچھ احتیاط ٹرمپ صاحب یہ کرتے ہیں، کہ یہ نہیں بتاتے کہ جہاز کس ملک کے گرے تھے۔ ظاہر ہے پاکستان کا تو کوئی جہاز نہیں گرا،اسلئے سوائے انڈین میڈیا کے باقی ساری دنیا جانتی ہے, کہ جہاز کس کے گرے۔ اب ایک تازہ بیان میں ٹرمپ نے صرف سات جہاز گرنے کی بات نہیں کی، بلکہ یہ بھی کہا کہ جہاز بالکل نئے اور بہت خوبصورت بھی تھے۔ اب یہ بالکل پاکستانی سٹائیل میں شریکوں کو تنگ کرنے والی بات ہے۔ کہ ایک تو جہاز گرے اور اوپر سے خوبصورت اور نئے بھی۔ مودی الگ پریشان ہے، کہ ٹرمپ کو کس طرح یہ بات بھلوائی جائے، مگر لگتا ہے، عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے ذہن میں جو بات بیٹھ جاتی ہے، اسکا بھولنا مشکل ہوتا ہے۔ بات غزہ کی جنگ کی ہو، ٹرمپ کہتا ہے، اس نے پندرہ جنگیں اب تک بند کرائی ہیں اور ایک ایسی جنگ بھی بند کرائی جس میں سات جہاز گرائے گئے۔ کسی ملک کا سفیر کاغذات اسناد پیش کرنے جائے، صدر ٹرمپ اسے یاد دلاتا ہے، کہ اس نے ایک ایسی جنگ بند کرائی ہے، جس میں سات جہاز گرائے گئے تھے۔ بات یوکرین جنگ کی ہو، امریکہ روس تعلقات کی یہ سات جہازوں والا ذکر ہر جگہ موجود ہوگا۔ ٹرمپ نے مودی کی اچھی خاصی چھیڑ بنا لی ہے۔ مودی تو اب اس طرح کی کانفرنسز میں بھی جانے سے احتراز کر رہا ہے، جہاں ٹرمپ موجود ہو۔ اسطرح کے شریک سے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے، کہ بار بار کسی کو ہزیمت کی کہانی یاد کراکے کوئی نئی جنگ ہی نہ شروع کرا دے،
ٹرمپ، مودی اور سات جہازوں کی کہانی



