تقسیمِ ہند اور چکوال سے جُڑی یادیں

تحریر۔۔۔ راجندر کمار گھئی

ترجمہ و تالیف۔۔۔۔علی خان

آخری قسط۔۔۔

1946ء کے سال ہی اور خصوصاً 1947ء کے آغاز میں ہم نے ہندوستان کی تقسیم بارے بہت کچھ سنا۔ یہ عام سنتے تھے کہ ہندوستان کو اب انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پہلے پہل 11 مارچ 1947ء کا دن تقسیم کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے ان دنوں چکوال پولیس اسٹیشن میں چیمہ نام کا ایک انسپکٹر تعینات تھا جس نے پوری کوشش کی کہ چکوال کہ میں کسی کو بھی کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس انسپکٹر نے جو کچھ کہا تھا اس کو ثابت کر کے بھی دکھایا تھا۔ چکوال شہر میں کوئی دنگا فساد نہ ہوا لیکن گرد و نواح کے دیہات میں کافی کچھ ہوتا رہا تھا۔

1946ء میں ہی حالات نے سیاسی رخ لینا شروع کر دیا تھا اور چیزیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی تھیں ۔ ان دنوں لفظ پاکستان اکثر سنا گیا تھا۔ 11 مارچ 1947ء وہ دن تھا جس دن مسلم لیگ نے راست اقدام کا اعلان کیا تھا اور یقینی ایکشن لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

ہم اس وقت پرانی سبزی منڈی میں ہی رہتے تھے جو زیادہ تر مسلم آبادی کا علاقہ تھا۔ حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے تو ہم نے کسی ہندو آبادی میں چھپڑ بازار کے نزدیک منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات عام تھی کہ 11 مارچ کے دن مسلم لیگ شہر کے مختلف محلوں کا محاصرہ کرے گی۔ چکوال پولیس اسٹیشن کے سب انسپیکٹر چیمہ نے چکوال میں رہنے والے تمام اہم افراد بشمول میرے دادا بدھ راج گھئی کو یقین دلایا کہ وہ کسی کو بھی چکوال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس نے پھر اپنے الفاظ کو نبھایا۔ 11 مارچ کے دن نعرہ تکبیر کی آوازیں گونجتی رہی تھیں اور چکوال کے بہت سے دیہات کو جلانے کی خبریں بھی آئیں لیکن چکوال شہر محفوظ رہا تھا۔

12 مارچ کے دن ہمیں معلوم ہوا کہ ڈھڈیال تمام کا تمام جلا دیا گیا ہے اور وہاں کوئی بھی باقی نہیں بچا۔ میرے والد کے بڑے بھائی اور ان کا خاندان وہاں رہتا تھا ۔ ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ میرے دادا جو دعائیں مانگ رہے تھے انہوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور اسے دیوار پر دے مارا۔ اس وقت بہت اداس ماحول تھا۔

اگلے دن میں چھپڑ بازار گیا تو میں نے دیکھا کہ فوج کی کچھ گاڑیاں وہاں کھڑی ہیں۔ لوگ باہر آ رہے تھے۔ میں نے اپنے تایا جی تائی جی اور اپنے بھائی چندر اور اس کی بہن دیش کو دور سے آتے دیکھا تو خوشی سے دوڑتا ہوا گیا۔ میں انھیں نے اپنے گھر لے آیا ۔ ہم سب بہت بڑے فساد میں بچ گئے تھے۔ اب ان حالات میں وہاں رہنا ممکن نہیں تھا چنانچہ خاندان نے بھارت منتقل ہونا شروع کر دیا۔

جیسے جیسے آزادی کے دن قریب آتے گئے دونوں طرف سے لاشوں سے بھری ہوئی ٹرینیں آ جا رہی تھیں۔ ہم نے ہمیشہ سنا تھا کہ بادشاہ اور راجے مہاراجے تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر عوام کبھی ہجرت نہیں کرتی۔ یہ بہت خوفناک دن تھے اور دونوں ملکوں کی تاریخ میں بہت برا وقت تھا۔

ماحول میں تناؤ بڑھتے ہی میرے دادا نے فیصلہ کیا تھا کہ پہلے اپنے دونوں بڑے پوتوں یعنی میرے بڑے بھائی چندر پرکاش اور مجھے دہلی میں اپنے چچا کندن لال گھئی کے پاس بھیج دیا جائے۔ میرے تایا شانتی سروپ گھئی اور میرے والد شادی لال گھئی ہم دونوں بھائیوں کو پانچ اپریل 1947ء کے دن دہلی لے آئے۔ اس دن کے بعد میں کبھی چکوال نہیں جا سکا ہوں۔ ہم نے تقریباً پندرہ دن دہلی میں درلا مندر، چاندنی چوک، لال قلعہ، جامع مسجد، کناٹ پیلس اور قطب مینار وغیرہ دیکھنے میں گزارے ۔ میرے والد اور تایا چکوال واپس آ گئے تھے جب کہ ہم نے ڈی اے وی ہائر سیکنڈری سکول پہاڑ گنج میں داخلہ لے لیا۔ جولائی اور اگست 1947ء میں ہماری فیملی کے باقی ممبران یعنی میری دادی شیو دیوی، تایا جی ہردیش گھئی، تائی جی اور بہن، انکل پرشوتم لال گھئی، شانتی سروپ گھئی اور تائی بملا گھئی، آنٹی کملیش اور سورج، ان کی بیٹیاں اور آخر میں انکل کیشر چندر گھئی بھی آ گئے۔ انکل کیشر چندر گھئی نے ان دنوں حال ہی میں بی ایس سی مکمل کیا تھا۔ ہمارے خاندان کے جو افراد چکوال میں رہ گئے تھے ان میں میرے دادا، میرے والدین، میری آٹھ سالہ بہن اوشا کوچھر، اور میرا تین سالہ چھوٹا بھائی ورنندر کمار شامل تھے۔ پندرہ اگست 1947ء کو ہم نے یوم ازادی دہلی میں منایا۔ بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے تقریر کی ۔ ہمارے خاندان کے دوسرے لوگوں نے 14 اگست 1947ء پاکستان میں منایا تھا۔

ایک دن میرے انکل کیشر چندر گھئی جو کناٹ پیلس ڈی ویکو ریسٹورنٹ جو ریگل سینما کے اوپر تھا میں کافی پی رہے تھے کہ انہوں نے چکوال کے چند دوستوں کو دیکھا جو انگریزوں سے بات کر رہے تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ یہ ایک پائلٹ ہے جو چکوال سے ایک چارٹرڈ فلائٹ اپنے عزیز و اقارب کو لانے کے لیے لے جا رہے تھے۔ میرے انکل نے بھی وہاں چھ سیٹوں کی بولی دے دی۔ اس وقت ایک صرف جہاز ہوتا تھا جو ڈیکوٹا 21 سیٹر تھا۔ دہلی میں صرف ایک ہی صفدر جنگ ایئرپورٹ موجود تھا۔ جہاز میں سیٹیں تو مل گئی تھیں اب ایک چھوٹا سا تنازعہ یہ تھا کہ یہاں دہلی سے انہیں لینے چکوال کون جائے گا؟۔ انکل کیشر چندر گھئی جو بیچلر تھے وہ وہاں جانا چاہتے تھے لیکن خاندان کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ انکل پرشوتم لال گھئی جائیں گے۔

یہ ستمبر 1947ء کے ابتدائی دن تھے جب صبح چھ بجے یہ فلائٹ صفدر جنگ ایئرپورٹ سے اڑی اور تقریبا نو بجے چکوال جا کے لینڈ کر لیا۔ وہاں پر چند لوگ جمع تھے جو محض اس ایئر کرافٹ کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ وہاں ایک شخص کے پاس سائیکل تھی۔ میرے چچا نے اس سے سائیکل ادھار لی چکوال والے گھر آ گئے۔ تمام خاندان انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وقت کم تھا وہ سب جلدی سے تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنا ٹرک منگوایا اس میں اپنا سامان لے ایئرپورٹ چلے گئے۔ یہ ایئرپورٹ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ہی بنایا تھا۔ اس پر اترنے والا پہلا جہاز بھی شاید ہمارا ہی تھا۔ میرے چچا نے اس شخص کی سائیکل شکریے کے ساتھ واپس کر دی۔ وہاں ایک اور مسلہ پیدا ہوا کہ جہاز کے نچلے حصے میں تیل کی کوئی بہت بڑی لیکج تھی۔ پائلٹ نے انہیں کہا کہ وہ ان سب کو لینے اب اگلی صبح آئے گا لیکن تھوڑی سی منت سماجت کے بعد وہ ان کو بغیر سامان کے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ وہ سب جہاز میں سوار ہو گئے۔ میری ماں نے میں اپنے بکسے میں سے کچھ نکالنے کی کوشش کی مگر میرے دادا جی نے انھیں روک دیا تھا۔

یہ فلائٹ ایک بجے صفدر جنگ ایئرپورٹ دہلی پہنچ گئی۔ یہ سب تانگہ لے کر دو بجے کے قریب اپنے گھر کرول باغ پہنچ گئے۔ میں نے اپنی بہن اوشا کی تانگے سے اترنے میں مدد کی اور اپنی ماں کی گود سے وریندر کو لے لیا۔ اب ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ ہمارا خاندان ایک بار پھر اکٹھا ہو گیا تھا اور ہجرت مکمل ہو گئی تھی۔

آج اس واقعہ کو گزرے 78 سال ہو چکے ہیں لیکن چکوال کا نام آتے ہی جیسے اب بھی میرے جسم میں تھرتھراہٹ سی آ جاتی ہے۔ آج بھی اس پر ہمارے بہت سے لوگوں نے چکوال اور ارد گرد کے علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ میرا چھوٹا بھائی انیل گھئی دو بار وہاں جا چکا ہے۔ میری بہن اوشا کوچھر بیٹا منوش کوچھر میں بھی دورہ کیا ہے۔ ہم نے ان سب سے ایک ہی بات سنی ہے کہ انہیں جو توجہ محبت اور دیکھ بھال پاکستان میں ملی ہے وہ بے مثال ہے حتی کہ دکانداروں نے بھی ان سے کوئی پیسے لینے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں اپنی محبت دی۔ ہم ایک ہی جیسے لوگ ہیں جو ایک ہی جگہ مل جل کر رہے ہیں ۔ ہم ایک جیسی زبان بولتے ہیں ہمارا ایک ہی کلچر ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ادب اور احترام کرنا چاہیے ۔ میں نے چکوال سے متعلق تمام یادیں اکٹھی کی ہیں۔ اس وقت میں بارہ سال کا تھا لیکن میری یادداشت نے میرا ساتھ دیا ہے۔ میں جس جگہ پر پیدا ہوا ہوں اس کی ایک ایک گلی کوچہ مجھے یاد ہے۔ اب ہمارا خاندان بہت بڑا ہو گیا اور میں اب اپنے خاندان کا بڑا ہوں۔ پچھلی نسل کے دو ممبر بھی ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں جن میں ایک میری بھوا جی شریمتی کوشیلا کپور ہیں جن کی شادی 1943ء میں جموں کے مشہور کنٹریکٹرز کپور خاندان میں ہوئی ہے۔ وہ سو سال کی ہے اور میں دعا کر رہا ہوں کہ وہ اور بھی جئیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اوپر والا ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔ پچھلی نسل کی دوسری شخصیت میری خالہ شکنتلا دیوی گھئی ہیں جو میرے انکل کیشو چند گھئی کی بیوی ہیں۔وہ 95 سال کی ہیں اور اب بھی مضبوط ہیں۔ دعا ہے کہ وہ بھی سو سال پورے کریں۔ جب سے سوشل میڈیا شروع ہوا ہوا ہے مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اور میرے بھائی انیل گھئی عملی طور پر چکوال میں رہتے ہیں اوپر والا ہم سب پر اپنا کرم کرے۔

(ختم شد)



  تازہ ترین   
جنگ جاری رہے گی، ٹرمپ کا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا اعلان
کیا امریکا اسرائیل کی خاطر آخری امریکی فوجی تک لڑنے کیلئے تیار ہے؟ ایرانی صدر
شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام، 8 دہشتگرد ہلاک
ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، کبھی سر نہیں جھکایا، آبنائے ہرمز بھول جائیں: ایرانی فوج
ایران میں مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے؟ آسٹریلوی وزیراعظم
جنگ کا 34 واں روز: یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کیلئے تیار: امریکی اخبار
لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی حملے میں شہید
ایران نے جنگ بندی کی درخواست کردی: ٹرمپ کا دعویٰ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر