تقسیمِ ہند اور چکوال سے جُڑی یادیں

تحریر۔۔۔ راجندر کمار گھئی

ترجمہ و تالیف۔۔۔۔علی خان

چوتھی قسط۔۔۔

ہم بچپن میں اکثر کٹاس راج جایا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ چکوال سے زیادہ دور نہ تھا۔ میں اور میرا بڑا بھائی چندر پرکاش اکثر اس برج سے چھلانگ لگایا کرتے تھے جو لگ بھگ آٹھ فٹ اونچا اور جھیل کے اوپر تھا ۔میرے انکل کیشو چندر گھئی جو انیل گھئی کے والد ہیں وہ جھیل کے قریب کی عمارت کے اوپر سے جمپ لگایا کرتے تھے۔ یہ خاصی اونچی جگہ تھی۔ انکل کیشو چندر گھئی ہمیشہ سے میرے ہیرو رہے ہیں اور ان کی ساتھ میری بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی۔ میں ان کی بے حد عزت کرتا تھا اور محبت بھرا یہ رشتہ بس ان کی موت پر ہی ختم ہوا۔چندر پرکاش ہمیشہ ان کے کمرے کے آدھے حصہ پر قابض رہتا تھا اور ان کے کمرے کے دروازے پر اس نے “کیشو چندر گھائی یہاں موجود ہے” لکھ رکھا تھا جو بہت پرلطف معلوم ہوتا تھا۔

ہمارے انکل مرحوم کندن لال گھائی نے اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ جاب حاصل کی تھی۔ وہ جہلم کی جیل میں تعینات تھے۔ چندر پرکاش اور میں ایک بار وہاں پانچ چھ دن گزار کے آئے۔ ہم نے وہاں دریا میں کشتی پر سیر کی۔ یہ بہت خوبصورت اور یادگار سفر تھا۔ میرے مرحوم انکل کندن لال گھئی تقسیم کے وقت انڈیا میں ہمارے اینکر تھے۔ وہ ان دنوں دہلی میں تعینات تھے۔

میرے دادا کے کپور خاندان کے بہت قریب تھے۔ اس خاندان کے سربراہ لالا انوکھا مل تھے۔ یہ خاندان بھی ہجرت کے وقت چکوال سے دہلی مقیم ہونے کے لیے آیا تھا ۔

میرے والد کے بھی کپور فیملی سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ میرے دادا شری بدھ راج گھئی چکوال میں ہونے والی تقریباً تمام نمایاں سرگرمیوں میں شامل ہوتے تھے۔ میرے چچا کے سی گھئی جو انیل گھئی کے والد ہیں اور کلبوشن کپور ولد بکے شاہ آپس میں بہت اچھے دوست تھے۔ ان کا بیشتر وقت ایک ساتھ گزرتا تھا۔ میرے چچا نے بی ایس سی کے لیے گارڈن کالج راولپنڈی میں داخلہ لیا تھا۔ وہ چھٹیوں کے دوران چکوال آتے تو یہ سب ایک بار پھر اکٹھے ہو جاتے۔ وہ جب راولپنڈی سے واپس آتے تو میں اور بشن انہیں ریلوے اسٹیشن سے لینے جاتے۔ ریل گاڑی پانچ بجے آتی تھی۔ ایک بار جب ہم ریلوے اسٹیشن جا رہے تھے تو میرے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ہمارے ساتھ ساتھ کچھ فاصلہ پر ایک گدھا جا رہا تھا۔ میں نے اسے اپنی چھڑی سے چھیڑا جو اس نے پسند نہ کیا اور دولتی میری پیشانی پر دے ماری۔ میرے ماتھے پر ایک آدھے انچ کے زخم کا نشان بن گیا۔ یہ نشان بعد میں میری شناختی علامت بھی بن گیا تھا۔آج بھی میرے پاسپورٹ پر یہی شناختی علامت درج ہے۔ میرے اور میرے بڑے بھائی چندر پرکاش جو دراصل میرے تایا کا بیٹا تھا کی بہت اچھی دوستی تھی۔ ہر ویک اینڈ پر مجھے ڈھڈیال جانا ہوتا یا وہ چکوال آتا تھا۔ ہم دونوں اکٹھے شرارتیں کرتے اور اکٹھے سزا بھی جھیلتے تھے۔ اگرچہ میرے دادا جی ہم دونوں کو اپنے خاندان کے ہیرے کہتے تھے۔

لالہ بھوشن جی بھی میرے اچھے اور قریبی دوست تھے۔ بھوشن جی کے والد کا نام لالا انوکھا مل ولد مول راج تھا۔ میں نے ان کے ساتھ بھی بہت سا وقت گزارا۔ یہ بہت شاندار تعلق تھا اور اوپر والے کے کرم سے آج بھی اسی طرح مضبوط اور اسی خوبصورتی سے موجود ہے۔ ہمارا ایک اور کلاس فیلو جگندر سرنا تھا جو ہمارے ساتھ سکول جاتا تھا۔ وہ سادہ سا زمانہ تھا اور لوگوں پر آج کی طرح زندگی کا دباؤ نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا حتیٰ کہ استاد گھر میں والدین کو بتانے آتے تھے کہ بچہ پانچ سال کا ہو گیا ہے اور میں اسے سکول لے جا رہا ہوں۔ اس موقعہ پر بس لڈو تقسیم کیے جاتے تھے اور سلیٹ اور تختی کے ساتھ سکولنگ شروع ہو جاتی تھی۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا اور میرا داخلہ فوراً ہو گیا تھا۔ آج کل کے والدین کی طرح یہ مسلہ نہیں تھا کہ ایسے کریں اور ویسے کریں مگر داخلہ پھر بھی نہ ہو۔

چکوال میں دو پٹرول پمپ تھے۔ ان میں سے ایک ہمارا تھا اور دوسرا بخشی بدھ راج جی کا تھا۔ ہمارے پیٹرول پمپ پر سرخ اور پیلا کلر تھا۔ یہ پٹرول پمپ ایک دوسرے سے تقریباً ساٹھ گز دور تھے۔ یہ جگہ ایک بس سٹاپ کی طرح بھی تھی۔ تمام گاڑیاں یہاں سے ہی جاتی تھیں اور یہاں تک ہی واپس آتی تھیں ۔اپنے پٹرول پمپ کے بالکل سامنے سڑک کے پار ہم نے ایک بہت بڑی ورکشاپ بھی بنا رکھی تھی۔ یہ تقریباً ایک ہزار گز کی جگہ تھی۔ یہاں ایک لیتھ مشین (خراد مشین) نصب تھی۔ یہ مشین گاڑیوں کے مختلف پرزے تیار کرتی تھی۔ ہمارے تین ٹرک تھے جو وہاں پر کھڑے دکھائی دیتے تھے۔ ہمارا بیڈ فورڈ کا وہ ٹرک جس کا بونٹ گلابی تھا بہت خوبصورت لگتا تھا۔ مجھے وہ آج تک یاد ہے۔ اس ورکشاپ کے ساتھ ہم نے ایک چھوٹا سا دفتر بھی بنا رکھا تھا جو پی ڈبلیو ڈی سے سرکاری ٹھیکے لیتا تھا۔ یہ سڑکوں اور دیگر عمارات کی تعمیر کرتا تھا۔ ہمارا چکوال کے آس پاس ہی کہیں ایک اینٹوں کا بھٹہ بھی تھا۔ ہمارے پاس ایک بڑا ٹھیکہ چکوال کے نواح میں شاید مرید میں ایک ایئر پورٹ یا رن وے وغیرہ تعمیر کرنے کا بھی تھا۔ ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمارا چارٹرڈ طیارہ ایک دن اسی رن وے سے مجھے، میرے باپ، دادا ،میری آٹھ سالہ بہن اوشا کوچھر، اور میرے تین سالہ بھائی وریندر کمار کو لے کر یہاں سے اڑان بھرے گا۔

ہمارا کام بڑھ گیا تو میرے انکل پرشوتم لال گھئی جو اٹک ائل کمپنی راولپنڈی میں کام کرتے تھے کو ہم نے استعفی دینے کا کہا۔ اب وہ بھی اپنے خاندان کے بزنس میں ہاتھ بٹانے لگے تھے۔ ایک بار ہم نے ایک ٹاکیز کمپنی بنائی جس کا نام میرے تایا زاد چندر پرکاش گھئی ولد شانتی سروپ گھائی کے نام پر چندر ٹوئرنگ ٹاکیز رکھا گیا۔ یہ شاید 1940ء سے 1945ء کے درمیان کی بات ہے۔ اس ٹاکیز، تھیٹر یا سینما نے بہت اچھا کام کیا مگر کچھ گاؤں میں اسے آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ ہمارے پاس بہت سے فوٹوگراف تھے جو ایک گھر کی ایک الماری میں تھے۔اس گھر کا نام بلوا منگل اور امرت مینشن تھا۔ یہ شاید فلم کے نام بھی ہیں۔ ہمارے پاس پی این بینک کی ٹریژی بھی تھی۔ یہ بینک برانچ ہمارے گھر سے بمشکل سو گز دورسبزی منڈی میں تھی۔ ایک ہندو مسٹر بالی یہاں بینک منیجر تھے۔ ہجرت کے وقت چکوال چھوڑنے سے پہلے ہم نے اس ٹریژی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

میرے میرے دادا بہت مذہبی ذہنیت کے انسان تھے۔ وہ آریہ سماج کے ساتھ تھے۔ ان کی اپنے طبقے میں بہت عزت کی جاتی تھی۔ ہمارا تمام خاندان باقاعدگی سے ہر اتوار کو آریہ سماج کی محفل میں جاتا تھا۔ آریہ سماج پٹرول پمپ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور تلہ گنگ روڈ پر تھا۔

ڈی اے وی ہائی سکول دو حصوں میں تقسیم تھا۔ پہلی سے چوتھی جماعت یعنی پرائمری تک آریہ سماج سکول اور پانچویں سے دسویں تک مرکزی سکول میں جانا ہوتا تھا۔ انگلش زبان لکھنے کے لیے جی نب استعمال کی جاتی تھی۔ اتلا بازار میں لڑکیوں کے لیے پتری پاٹھ شالہ الگ سے تھا۔ میرے دادا سماج کے صدر تھے اور میرے والد ان کے مشیر تھے۔ میرے والد خود بھی آریہ سماج کے ایک متحرک ممبر تھے۔ وہ پانچ سال تک مسلسل سماج کے سیکرٹری جنرل رہے تھے۔ اگست 1947ء تک میرے والد شری شادی لال گھئی ڈی اے وی ہائی سکول کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور گرلز سکول یعنی پتری پاٹھ شالہ کے ممبر بھی تھے۔

(جاری ہے)



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر