تحریر۔۔۔ راجندر کمار گھئی
ترجمہ و تالیف۔۔۔۔علی خان
تیسری قسط۔۔۔
میں نے اپنی یاداشت کے زور پر چکوال کا ایک نقشہ بنایا ہے جو چکوال 1947ء کے وقت کا ہے۔ یہ کوئی پیشہ وارانہ قسم کا نقشہ تو نہیں مگر میرا مقصد بس یادوں کا ایک نقشہ سا کھینچنا ہے۔ چکوال اس وقت تین چیزوں ریوڑی، رس اور چمڑے کے جوتوں کے لیے مشہور تھا۔میں نے اپنے بنائے گئے نقشہ میں ایک ریوڑی کی اور ایک رس کی دکان بھی دکھائی ہے۔ رس کی وہ دکان رام نارائن کی تھی۔ ریوڑی کی دکان اس کے بلکل سامنے تھی۔ وہاں کچھ اور دکانیں بھی تھیں۔ ہمارے گھر کے قریب پرانی سبزی منڈی میں چمڑے کے جوتوں کی کئی دکانیں تھیں۔ مکھن شاہ کی دکان ہماری گلی کے نکڑ میں واقع تھی۔ مکھن شاہ کے دو چھوٹے بھائیوں کی بھی جوتوں کی دکانیں تھیں جن کے لکڑی سے بنے دروازوں پر انگريزی کے لفظ “ایکس” سے مشابہ لوہے کی پٹییاں سی لگی ہوتی تھیں۔ اب ہندوستان میں میرٹھ ریوڑی کے لیے مشہور ہے۔ رام نارائن کا خاندان ڈیرہ دون میں آباد ہو گیا تھا اور اب وہ یہاں رس اور بیکری کا اچھا کاروبار کر رہے ہیں۔ چکوال کی چپل بنانے کا کام یہاں سے جانے والے کچھ لوگوں نے دہلی کے لال قلعہ کے سامنے لاجپت رائے مارکیٹ میں شروع کیا تھا مگر یہ زیادہ دیر نہ چل سکا تھا۔ چمڑے کے جوتوں کی اچھی مارکیٹ اب آگرہ میں ہے۔
میرے بنائے گئے نقشہ میں ہمارے گھر کی پوزیشن واضح ہے۔ حاجی صاحب کی صابن والی دکان اور ہمارے گھر کے عقب میں غلام دین کا گھر بھی واضح ہے۔ گلی کی اترائی میں کپور خاندان کی حویلیاں بھی دکھائی ہیں۔ یہ بہت معزز لوگ تھے۔ پی این بنک (پنجاب نیشنل بنک ) غلہ منڈی کے کونے میں تھا۔ اتلہ بازار جانے والے راستے پر ڈاکٹر سندر سنگھ کا کلینک تھا جو ہمارے فیملی ڈاکٹر تھے۔ان سے آگے دو دکانیں چھوڑ کر جگدیش منیاری والے اور جنرل مرچنٹ تھے۔ میرے ماموں کے سسرال ہونے کی وجہ سے یہ ہمارے رشتہ دار بھی تھے۔ بعد ازاں مارچ 1947ء سے ہجرت کرنے تک ہم ان کے گھر ہی رہے تھے۔ کچھ دور ہمارے سُنار دیوان چند اور اس کے والد کی دکان تھی۔ اس زمانے میں خواتین صراف کے پاس نہیں جاتی تھیں بلکہ سُنار گھر آتے تھے اور زیور کا ناپ لے کر جاتے تھے۔ زیورات تیار ہونے پر وہ گھر پہنچا دیتے اور رقم وصول کر لیتے تھے۔ دیوان چند بھی ہجرت کے وقت دہلی آئے تھے اور کرول باغ میں مقیم ہوئے تھے۔ ان کے پوتے پڑپوتے آج بھی سنار کا کام کرتے ہیں۔
اس مقام سے مڑنے کے بعد سیدھا جانے پر لڑکیوں کا سکول (پُتری پاٹھ شالا) آتا تھا۔ سکول کے پاس سے مڑتے ہی ایک دوسرے کے سامنے دو دکانیں آتی تھیں۔ دونوں پر سوڈے کی بنٹے والی بوتلیں فروخت ہوتی تھیں۔ اگلی دکان درسی کتب اور سٹیشنری کی تھی۔ یہ دکان بھی رام نارائن کی تھی۔ یہاں سے راستہ چھپڑ بازار کو جاتا تھا۔ اس چھپڑ (تالاب) میں پانی کی اچھی خاصی مقدار ہوتی تھی مگر اس میں کیچڑ اور گار وغیرہ ہوتی۔ بعد میں یہ تالاب مٹی سے بھر دیا گیا تھا اور میدان بن گیا تھا۔ اب بچے اس پر کھیلتے تھے اور یہاں پر تقریبات اور تہوار وغیرہ منعقد ہوتے تھے۔ کبھی کبھار اس جگہ پر مختلف دکانیں سجتی تھیں جن میں مختلف گیمز کے سٹال ، فوٹو گرافر اور مشین سے ہاتھوں اور بازو پر نقش و نگار (ٹیٹو) بنانے والے بھی بیٹھتے تھے۔ میرے بڑے بھائی چندر پرکاش جو ڈھڈیال رہتے تھے ایسے موقعہ پر ہمیشہ میرے ساتھ ہوتے تھے۔ ایک بار ہم دونوں نے ایک ساتھ ایک تصویر بنوائی تھی (تصویر تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔ ایک بار ہم دونوں نے اپنے اپنے بازو کی اندرونی جلد پر اور ہتھیلی کی پچھلی طرف نام لکھواۓ تھے۔ سی پی گھائی اور آر کے گھائی ۔ یہ نام آج بھی میرے ہاتھ پر موجود ہے۔
چھپڑ بازار یعنی اُتلا بازار سے نکل کر سیدھا جاتے ہوتے اور تلہ گنگ روڈ کو چھوتے ہوۓ ہم آریہ سماج ڈی اے وی پرائمری سکول پہنچ جاتے تھے۔ آریہ سماج سے الٹے ہاتھ پر ایک راستہ مغرب کی طرف (کمیٹی باغ والی سڑک، مترجم) تلہ گنگ روڈ کے پاس ڈی اے وی ہائی سکول کو نکلتا تھا۔ آریہ سماج پرائمری سکول سے بائیں طرف ہی مڑنے پر چکوال کے بس اسٹاپ اور برما شیل پٹرول پمپ کی طرف جایا جا سکتا تھا۔ پاس ہی چکوال کا ریلوے اسٹیشن تھا (جو اب سنا ہے کہ ویران رہتا ہے)۔
سبزی منڈی میں واقع ہمارے گھر سے دائیں طرف مڑنے اور بلکل سیدھا چلنے پر ہمارا پہلا سامنا ایک دانتوں کے معالج سے ہوتا تھا۔ اس کے پاس ایک ایسی مشین تھی جو پاؤں سے چلائی جاتی تھی۔ یہ معالج اس مشین پر مصنوعی دانتوں کی صفائی اور رگڑائی وغیرہ کرتا تھا۔ اس کے الٹے ہاتھ پر ایک خاصی کھلی جگہ تھی اور اس میں ایک کنواں بھی تھا۔ یہاں بائیں طرف لالہ انوکھا مَل کا مکان تھا جو میرے دادا کے سالے تھے۔ اس گھر میں میرے بہترین دوستوں میں سے ایک بُھوشن رہتا تھا جو لالہ انوکھا مل کا پوتا تھا۔ اس کنوئیں کے دائیں طرف ایک تنگ و تاریک سی گلی میں جوگندر سرنا اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ جوگندر،بُھوشن اور میں تینوں اکٹھے سکول جاتے تھے۔ ہم تینوں رام نارائن کی بیکری کے پاس سے گزرتے تھے جو عموماً اپنی بھٹھی(اوون یا تنور)پر کام کر رہا ہوتا تھا۔ اس کی دوسری طرف کی دکان پر ریوڑی والا مصروف ہوتا جو گُڑ کا گٹہ بنا کر اس کے اوپر تِل چڑھاتا تھا۔ کچھ دور جا کر ہم ایک اور کھلی جگہ پہنچ جاتے تھے۔ اس جگہ کے ایک طرف (مشرق میں) ہاسپٹل تھا جب کہ دوسری طرف (مغرب میں) گھر تھے۔ ان گھروں کے درمیان میں ایک تنگ گلی شاید تین چار فٹ کی تھی جس میں دوسرا مکان لالہ ہری چند کا تھا جو پٹرول پمپ کے کاروبار میں ہمارے پارٹنر تھے۔ لالہ ہری چند کا بڑا بیٹا دیوراج میرے والد کے ساتھ پٹرول پمپ پر ہی کام کرتا تھا۔ لالہ ہری چند کا دوسرا بیٹا سکول میں استاد تھا اور تیسرا بیٹا سائنسدان تھا جس کی عالمی سطح پر اچھی ساکھ تھی۔میرے بھائی انیل گھائی نے ویکیپیڈیا پر ان کا ذکر تفصیل سے کیا ہے اور چکوالیوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں شئیر بھی کیا ہے۔ اب یہ خاندان رائے بریلی میں مقیم ہے۔
اس کھلی جگہ سے تھوڑا آگے اور اوپر کی طرف چلنے پر ہم تلہ گنگ روڈ پر پہنچ جاتے تھے۔ یہاں پہنچ کر دائیں طرف کچھ ہی دور چکوال کا تھانہ تھا۔ اس مقام پر یعنی تلہ گنگ روڈ پر بلکل سامنے ڈی ایم کا دفتر تھا۔ ہم اس دفتر کے اندر سے شارٹ کٹ مار کر سیدھے ڈی اے وی سکول پہنچ جاتے تھے اور گھر واپس بھی اسی راستے سے آتے تھے۔ یہ اُتلا بازار(چھپڑ بازار) کی نسبت بہت کم راستہ تھا۔ میرے دادا بھی اپنی چھڑی اور چھتری اٹھائے یہی راستہ اپنے پٹرول پمپ تک جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
(جاری ہے)



