تقسیمِ ہند اور چکوال سے جُڑی یادیں

تحریر۔۔۔ راجندر کمار گھئی

ترجمہ و تالیف۔۔۔۔علی خان

پہلی قسط۔۔۔

ہمارے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے ایک گاؤں کسک (چوآسیدن شاہ) سے تھا۔ میرے پردادا شری گنگا رام جی وہاں مقیم تھے۔ان کی کسک میں ایک دکان تھی جہاں پر ضروریات زندگی کا سامان ملتا تھا۔ وہ نہایت سادہ،نیک اور روحانی قسم کی شخصیت تھے. کسک گاؤں کی خواتین ہر روز خیر و برکت کے لیے ان کے پاؤں چھونے آیا کرتی تھیں ۔ نوے سال سے زائد عمر گزارنے کے بعد جب وہ بستر مرگ پر تھے تو تمام خاندان ان کے بستر کے پاس جمع ہوا اور ان سے درخواست کی کہ وہ خاندان کے ایک بے اولاد جوڑے کے لیے دعا کریں۔ یہ سن کر میرے پردادا نے آنکھیں موند لیں۔ خاصی دیر کے بعد جب انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو بولے کہ انھوں نے اپنے بڑوں کی ارواح سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے اس بات کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر خاندان کے افراد میں سے کسی نے درخواست کی کہ وہ ہونے والے بچے کا نام بھی رکھ دیں۔ میرے پردادا نے بچے کا نام دھنپت رائے تجویز کیا تھا۔

میرے پردادا کی وفات کے ایک سال بعد جب اس بے اولاد جوڑے کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام دھنپت رائے ہی رکھا۔ دھنپت رائے نے چورانوے سال کی عمر میں 2014ء میں دہلی میں انتقال کیا۔ میں چونکہ یہ ساری بات جانتا تھا اس لیے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد میں دھنپت رائے کے بہت قریب ہو گیا تھا۔ دھنپت رائے اردو زبان میں شاعری کرتے تھے جسے میں نے ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ ان کی چار کتب شائع ہوئی ہیں۔ ان کتب میں ایک طرف اردو اور ایک طرف ہندی زبان میں لکھا گیا ہے۔ دھنپت رائے کی کسک سے متعلق ایک نظم بھی موجود ہے (نظم تصاویر میں موجود ہے)۔

میرے دادا مرحوم شری بدھ راج گھئی 1888ء میں کسک میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور کھیوڑہ نمک کی کان میں چند سال کام کرتے رہے۔ وہ بہت خوددار اور محنتی انسان تھے۔ وہ آمدہ حالات کا اچھا ادراک بھی رکھتے تھے۔ انھیں قدرت سے محبت تھی۔ آج میں اور میرا خاندان جو کچھ بھی ہیں سب ان کی فراست اور منصوبہ بندی کی وجہ سے ہیں۔

مجھے کبھی کسک جانے کا موقع تو نہیں ملا لیکن میں اس کے تقریباً آدھے راستے یعنی چوآ سیدن شاہ تک گیا ہوں۔ چوآ سیدن شاہ ایک چھوٹا سا خوبصورت قصبہ ہے جہاں بہت سارے چشمے بہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ان میں کچھ چشمے چوکور بھی تھے کہ جس طرح اکثر حوض ہوتے ہیں۔ یہ چشمے ایک دوسرے کے آس پاس بھی ہیں۔ ان چشموں میں مچھلیاں تیرتی دکھائی دیتی تھیں۔ اس علاقے کے تمام لوگ بہت سادہ محبت کرنے والے اور قدرت سے قریب رہنے والے تھے۔

میرے دادا شری بدھ راج گھئی اپنے خاندان کے لیے بڑا سرمایہ تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی ترقی کے لیے بہت محنت کی۔ وہ کسک سے جموں چلے گئے تھے۔ جموں میں وہ اپنے سالے شری انوکھا مل لالہ مرحوم کے ساتھ مل کر ایک تعمیراتی کمپنی میں تعمیرات کا کام کرتے تھے۔ انوکھا مل لالہ کا کام اچھا خاصا چل رہا تھا لیکن وہ جموں میں خوش نہ تھے چنانچہ انہوں نے اپنے دوستوں کے اصرار پر چکوال میں واپس آنا پسند کیا۔ (جاری ہے)



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر