میری کے ٹو کہانی (دسویں قسط)

اُردوکس سے گورو ٹو

۲۶ جولائی ۲۰۲۵

تحریر: سعدیہ نارو

اُردوکس کیمپ سائٹ پر ۲۶ جولائی کی صبح کسی خواب سے کم نہ تھی۔ گھنے سفید بادلوں نے نیلے آسمان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ کہیں کہیں سے سورج جھانکنے کی کوشش کرتا اور روشنی کی کرنیں بادلوں کے پیچھے سے پھوٹ پڑتیں۔ کچھ ضدی بادل ٹرینگو ٹاورز سے لپٹے بیٹھے تھے جیسے اُن کے جاہ و جلال کے اسیر ہوں۔ کیمپ سائٹ کے سامنے بالتورو گلیشیئر پھیلا ہوا تھا اور اُس کے پار ٹرینگو ٹاورز اپنی پوری شان سے خاموش نگہبانوں کی طرح کھڑے تھے۔ جب ناشتے اور سامان سمیٹنے سے فرصت ملی تو میں ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
ٹرینگو ٹاورز کے سامنے کھڑے ہو کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے خواب حقیقت میں ڈھل گیا ہو۔ ان عظیم پہاڑوں کے بارے میں اب تک صرف سنا تھا، مگر آج قسمت نے یہ انمول لمحہ بخشا کہ میں اُن کے روبرو تھی۔ ایسے نظارے محض اتفاق سے نہیں ملتے، یہ ریاضت، صبر اور مسلسل کوشش کے بعد انعام کے طور پر نصیب ہوتے ہیں۔ ٹرینگو ٹاورز کی بلندیوں کو دیکھ کر مجھے وہ شعر یاد آ گیا جو کل ہی ایک پتھر پر لکھا دیکھا تھا:
مل ہی جائے گی منزل بھٹکتے بھٹکتے
گمراہ تو وہ ہیں جو گھر سے نکلتے ہی نہیں
(سپاہی مشاہد)
اس لمحے دل نے گواہی دی کہ میری منزل واقعی قریب آ رہی ہے۔ آج میں ٹرینگو ٹاورز کے سائے میں کھڑی ہوں تو یقیناً کل کے ٹو کے قدموں میں ہوں گی۔
ٹرینگو ٹاور، قراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلے میں بلتورو گلیشیئر کے شمال میں ایک ہی رِج پر جڑی ہوئی کئی چوٹیوں کا مجموعہ ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے مشکل اور خطرناک چٹانی چوٹیاں سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے سیدھے، چکنے اور دیوار نما گرینائیٹ ڈھلوان انہیں دنیا کے بہترین راک کلائمبنگ مقامات میں سے ایک بناتے ہیں۔ ٹرینگو فیملی ایک ہی قطار میں زمین کے سینے پر شان سے ایستادہ تھی۔ سب سے پہلے سب سے اونچی چوٹی گریٹ ٹرینگو ٹاور (6,286 میٹر) پھر نیم لیس ٹاور (6,239 میٹر) اور اس کے بعد ٹرینگو کیِسل، ٹرینگو پَلپِٹ اور ٹرینگو مونک۔ ہر ایک اپنی انفرادیت پر نازاں مگر سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔ جیسے پہاڑوں میں بھی رشتہ و احترام کی کوئی لکیر ہو۔ اس صبح وہ خاموشی سے ہمیں اگلے سفر کی تیاری کرتے دیکھ رہے تھے۔
اُردوکس سے گورو ٹو تک ہمیں ۱۴ کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا۔ سات بجے ٹیم لیڈر عمیر حسن نے روانگی کا اعلان کیا تو ہم نے ٹولیوں میں سفر کا آغاز کر دیا۔ گائیڈز نے بھی ہمارے ساتھ قدم ملا لیے۔ انتظامی ٹیم اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھی۔ پورٹرز تیزی سے سامان اور خیمے سمیٹ کر خچروں پر لادنے لگے۔ ٹرینگو ٹاورز بدستور ہمیں جاتا دیکھ رہے تھے۔ خاموش مگر نگاہوں میں ایک مانوس سا لگاؤ لیے۔ جانے والوں کو بھلا کون روک سکتا ہے۔ ان پر شکوہ پہاڑوں کے سائے میں سکون کے چند لمحے گزارنے والے نہ تو ہم پہلے تھے اور نہ ہی آخری۔ ہمارا سفر جاری تھا مگر ٹرینگو فیملی ہمیں رخصت کرنے کے بعد بھی دیر تک ساتھ رہی۔ ہم بالتورو کے اونچے نیچے راستوں پر گورو ٹو کی سمت بڑھ رہے تھے اور وہ اپنے بلند قامت سائے سے ہمیں یوں گھیرے ہوئے تھیں جیسے کوئی مہربان بزرگ کھیلتے ہوئے بچوں پر شفقت بھری نظر رکھے کھڑے ہوں۔
بالتورو گلیشئیر اپنی وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے پھیلا ہوا تھا۔ گھنے بادلوں سے سورج کی کرنیں چھن چھن کر زمین پر اتر رہی تھیں۔ ہم زمان و مکان سے بے خبر اس جادوئی ماحول کا حصہ بن چکے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ بالتورو کے سینے پر چھوٹی چھوٹی گلیشیائی جھیلیں چمکتی نظر آئیں۔ ان ہی میں سے ایک ننھی جھیل نے جیسے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس روک لیا۔ اس کا سبز شفاف پانی نگاہوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ برف کے پیالے میں قید یہ زمرد جھیل مجھے بالتورو کے ماتھے کا جھومر محسوس ہوئی۔ اگر ولیم ورڈز ورتھ اسے دیکھ لیتا تو ضرور اس کے حسن پر ایک نظم کہتا۔ مگر ہماری منزل ابھی دور تھی اور سفر طویل۔ اس لیے زمرد جھیل کو آنکھوں میں سمیٹ کر ہم آگے بڑھ گئے۔
سوا نو کے قریب ہماری ملاقات فوجی جوانوں کے ایک گروپ سے ہوئی جو چھٹی پر گھر جا رہے تھے۔ وہ چھٹی جس کا انتظار شاید ڈیوٹی کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہو گا۔ اپنے گھر کا آنگن، ماں کے ہاتھ کی روٹی، بیوی بچوں کا پیار اور بہن بھائیوں سے ملاقات۔ یہ سب خوابوں کی طرح ان کی آنکھوں میں روشن تھا۔ قراقرم کے ان بلند و بالا پہاڑی سلسلوں اور میلوں پھیلے برف زاروں میں وقت جیسے ٹھہر سا جاتا ہے۔ یہاں دن گن گن کر گزرتے ہیں۔ جہاں انسانوں اور خچروں کا آنا جانا بھی صرف سال کے تین مہینے تک محدود ہوتا ہے اور پھر خاموش پہاڑ، تنہا گلیشیئرز اور گہری خاموشی ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ ان پہاڑوں سے رخصتی اور میدانوں کی طرف واپسی کی خوشی ان جوانوں کے چہروں سے چھلک رہی تھی۔ اس وقت کا انہوں نے مہینوں انتظار کیا ہو گا۔ کاندھوں پر بیگ لٹکائے اپنے استاد کی نگرانی میں جب وہ ہمارے قریب سے گزرے تو ہم نے انہیں بات چیت کے لیے روک لیا۔ چند خوش گوار جملوں کا تبادلہ ہوا اور آخر میں نعرے گونج اٹھے جن کی بازگشت اردگرد کے پہاڑوں نے دیر تک سنبھالے رکھی۔ الوداعی کلمات کے بعد ہمارے گروپ نے اپنی راہ لی، جس میں گروپ لیڈر عمیر، گائیڈ نیک اختر، گائیڈ حبیب، ستیش اور پنکش شامل تھے۔
گیارہ بجے کے قریب سورج اور بادلوں کی کشمکش ختم ہوئی اور چمکیلی دھوپ نے آسمان پر اپنی سلطنت قائم کر لی۔ اب برف صرف ہمارے قدموں تلے نہیں بلکہ دائیں بائیں برفیلے میناروں کی صورت میں بھی موجود تھی۔ گلیشیئر کے اوپر بننے والے یہ برفانی ابھار، جنہیں سرَیکس (Seracs) کہا جاتا ہے، وقت کے ساتھ برف میں پڑنے والی دراڑوں سے وجود میں آئے تھے۔ یہ قدرت کا حسین مگر خطرناک کرشمہ تھے۔ ایک مقام پر گلیشیئر میں بل کھاتی دراڑیں اژدھے کی مانند دکھائی دیں، جن کے اندر برفیلا پانی برق رفتاری سے بہہ رہا تھا۔ قدرت کی ان انوکھی صناعیوں میں ہم جیسے گم ہو چکے تھے۔
ہمیں سفر کرتے تقریباً پانچ گھنٹے بیت چکے تھے۔ بھوک اور تھکن اپنے وجود کا احساس دلانے لگے تھے۔ ایسے میں دور ایک اونچے ٹیلے پر ہمیں میز اور کرسیاں سجی نظر آئیں۔ ہمارا گروپ لنچ بریک کے لیے وہاں بیٹھ چکا تھا۔ جلد ہی ہم بھی ان سے جا ملے۔ عاطف ہمارے ساتھ جبکہ فیصل بھائی کچھ دیر بعد پہنچے۔ مجھے آتا دیکھ کر وقاص نے فوراً اپنی کرسی خالی کر دی۔ تھوڑی دیر میں نور عالم گرم کھانا لے آیا۔ چند نوالوں نے ہی جیسے بدن میں نئی جان ڈال دی۔ سب نے اطمینان سے کھانا کھایا اور کچھ دیر سستانے کے بعد ہم دوبارہ سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔
تقریباً ایک بجے کے قریب ہم گورو ون پہنچے۔ موسم کے تیور بدلنے لگے تھے۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی اور بادلوں کا رنگ سفید سے سرمئی ہونے لگا۔ سردی کے ہلکے جھونکوں نے بیگ سے جیکٹ نکالنے پر مجبور کر دیا۔ عمیر ہمارے ساتھ تھے اور ہم سب آگے پیچھے چل رہے تھے۔ اسی دوران کنکورڈیا سے ملکی اور غیر ملکی ٹریکرز واپس آتے دکھائی دیے۔ پورٹرز ان کے سامان سے لدے خچروں کو بالتورو کی اونچی نیچی چڑھائیوں پر ہانک رہے تھے۔ دوسری جانب کنکورڈیا کی سمت سے خالی خچر فوجی چوکیوں کے لیے راشن اور دیگر سامان پہنچا کر واپس لوٹ رہے تھے۔ چلتے رُکتے ہمارا سفر جاری رہا اور بالآخر سوا تین بجے کے قریب ہم گورو ٹو پہنچ گئے۔ ایک اور سنگ میل عبور ہو چکا تھا۔
بالتورو پر گورو ٹو کے مقام پر ایک ہموار اور نسبتاً وسیع جگہ پر ہمارا کیمپ لگا تھا۔ فضا میں خنکی اپنے عروج پر تھی۔ جو ممبران پہلے پہنچ گئے تھے ان میں سے کچھ خیموں میں آرام کر رہے تھے اور کچھ کیمپ کے اردگرد چہل قدمی میں مصروف تھے۔ احتشام اور نصیر جابجا بکھرے ہوئے پتھروں میں سے خوبصورت پتھر تلاش کررہے تھے۔ انتظامی ٹیم حسب معمول اپنے کاموں میں جٹی تھی۔ میس ٹینٹ کے سامنے مہدی اور موسیٰ جمی ہوئی برف توڑ کر ہٹا رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ کیمپ کے سامنے ایک بڑے تکونی پہاڑ پر ایس کام کے سگنلز مل جاتے ہیں۔ یہ سنتے ہی ذیشان اور چند ممبران اپنے موبائل فونز سنبھالے پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچے تاکہ اپنے پیاروں سے رابطے کی کوشش کر سکیں۔
اسی دوران کچن ٹینٹ میں رات کے کھانے کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔ پھیلتی خوشبو اور چولہے کی حرارت نے اس برف زاد میں جیسے زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔ میس کیمپ میں کھانے کے بعد کچھ دیر گپ شپ اور قہقہوں کا سلسلہ رہا مگر تھکن اور ٹھنڈ نے مجھے زیادہ دیر وہاں ٹھہرنے نہ دیا۔ خیمے میں آ کر سلیپنگ بیگ میں خود کو لپیٹا تو بدن نے سکھ کا سانس لیا۔ رات بھرپور آرام ضروری تھا کیونکہ اگلی صبح ہم سب کی زندگیوں کا شاید اب تک کا سب سے اہم دن آنے والا تھا۔
جاری ہے۔۔۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر