کراچی(آئی این پی) سندھ ہائیکورٹ کے جناب جسٹس شفیع محمد صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی سم اور سوشل میڈیاآئی ڈیزبندکرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائدکردیا۔سندھ ہائی کورٹ میں جمعہ کو سماعت کے موقع پر ویکسین نہ لگوانے والوں کی سم اور سوشل میڈیاآئی ڈیزبندکرنے سے متعلق حکومتی اقدامات کیخلاف درخواست پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس شفیع محمدصدیقی نے ریمارکس دئیے کہ حکومت کو صرف ایک شخص نہیں بلکہ آپ کے ساتھ موجود وکلا کی بھی فکر ہے، کوروناکاشکارشخص اپنے ساتھ 200 مزیدافرادکومتاثرکرتاہے۔ کوروناایسی وباہے ایک شخص دوسروں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتاہے، حکومت کو آپ کے کولیگ،فیملی اوراردگردوالوں کی فکرہے۔درخواست گزار نے کہا حکومت جبراً اپنے فیصلے عوام پر لاگونہیں کراسکتی، ویکسین لگانالازمی ہے تومطلوبہ قانون سازی کی جائے، حکومت کو شہریوں کی موبائل سمیں بند کرنے سے روکا جائے۔سہیل حمید ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کو پہلے قانون سازی کرنا ہوگی، جس پر جسٹس شفیع محمد صدیقی نے استفسار کیا کہ آپ قانون سازی کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کوروناوائرس سے متاثرہ شخص شہرمیں چلتاپھرتابم ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ سم بلاک کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کہاں ہے؟ تین صفحات کی درخواست پر کیسے کارروائی روک دیں؟سندھ ہائی کورٹ نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی سم اور سوشل میڈیاآئی ڈیزبندکرنے سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست دائرکرنے والے وکیل پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائدکردیا۔
ویکسین نہ لگوانے والوں کی سم بند کرنے کا فیصلہ، حکومتی فیصلے کیخلاف درخواست مسترد



