تحریر: عابد حسین قریشی
تفاخر محمود گوندل لکھنے والے ہوں، اور کتاب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم پر ہو، تو یہ دو آتشہ تو ہوگی ہے، پر لطف، باکمال بھی ہوگی۔” تبسم چمنستان ادب” کیا خوبصورت و دلکش کتاب کا نام ہے، ڈاکٹر تبسم اپنے نام کی طرح چہرے پر ہمہ وقت مسکراہٹ سجائے زمانہ سے منفرد انسان، ادیب، شاعر، اقبال شناس، دوست نواز، مخلص و بے ریا ، ہمدرد و غمگسار۔ علامہ اقبال پر اتنا کچھ لکھ دیا اور اتنی فصاحت و بلاغت سے لکھا کہ مدتوں شاید اس طرح کا اقبال شناس پیدا ہو۔ ایک سو سے زائد کتب کے مصنف ڈاکٹر تبسم سر تا پا پاکستان، عبادت گزار بھی ایسے کہ کوئی سحر بغیر سجدہ ادا کئے کم ہی گزری ہو گی۔ انسانیت اور پاکستان کے لئے ہمہ وقت دھڑکتے دل کے ساتھ ہمدرد و خیر خواہ۔ سٹیج کے بادشاہ، الفاظ کے جادو گر۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی دو تین اتنی پر مغز تقریریں سنیں، کہ دل عش عش کر اٹھا۔ الفاظ کا چناو کمال کا اور انکی ادائیگی لاجواب۔ شاہینوں کے شہر سرگودھا کی پہچان، آن اور شان۔ جب تک ملاقات نہ تھی، تو ہمدم دیرینہ اور اپنے کلاس فیلو میاں محمد آصف سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس جو کافی سال سرگودھا میں ہی مقیم رہے، کی زبانی غائبانہ تعارف رہا، مگر جب چند سال قبل میں نے کچھ لکھنا لکھانا شروع کیا، تو ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم سے براہ راست فیض یاب ہونے کا شرف ملا۔ اور پہلی ہی ملاقات میں کچھ یوں لگا۔ ایک شخص اس طرح میرے دل میں اتر گیا۔ جیسے وہ جانتا تھا میرے دل کے راستے۔ ڈاکٹر صاحب سے اتنی محبت اور شفقت ملی کہ بیان سے باہر ہے۔ میری درخواست پر میری دونوں کتابوں عدل بیتی اور تجاہل عادلانہ کے review بھی لکھے، ایک کا پیش لفظ بھی اور دونوں کتابوں کی رونمائی کی تقریبات کے لئے سرگودھا سے لاہور تشریف لاتے رہے۔ اور اپنے حسن کلام سے محفل کو گرماتے رہے۔ برادر عزیز پروفیسر تفاخر محمود گوندل عصر حاضر کے منفرد سیرت نگار ہیں۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض و برکت سے وہ جو کچھ بھی لکھ رہے کمال لکھ رہے ہیں۔ جو مقفع و مسجع اردو ہم نے محمد حسین آزاد اور مولانا ابوالکلام آزاد کے ہاں کسی زمانہ میں دیکھی تھی، وہ تفاخر گوندل کے ہاں بحر بیکراں کی طرح موجزن و رواں دواں ہے۔ تفاخر گوندل نے ڈاکٹر تبسم پر یہ خوبصورت کتاب لکھ کر حق دوستی تو ادا کیا ہے، مگر ادب و شاعری کے فلک کے دمکتے اور چمکتے ستارے کو خراج عقیدت پیش کرکے ہم جیسے ڈاکٹر تبسم کے پرستاروں کا مان بڑھایا ہے۔ اللہ تعالٰی چمنستان ادب کے متوالوں کو سلامت رکھے۔



