نیروبی (شِنہوا) جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمت اور فسطائیت مخالف عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں عالمی نظم ونسق اقدام کے موضوع پر ایک سیمپوزیم منعقد کیا گیا۔
یہ پروگرام کینیا میں چینی سفارت خانے نے منعقد کیا، جس میں چین اور کینیا کے ماہرین نے شرکت کی۔ سیمپوزیم کا مقصد تاریخ پر غور کرنا، عالمی نظم ونسق اور امن کو مضبوط کرنے کے راستے تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
کینیا میں چینی سفارت خانے کے ناظم الامور ژانگ ژی ژونگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اس جنگ میں فتح کی سالگرہ منانے کے لئے بیجنگ میں گزشتہ ہفتے عظیم الشان ریلی اور فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جس میں لاکھوں شہریوں، 20 سے زیادہ غیرملکی سربراہان اور متعدد بین الاقوامی مہمانوں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ سب سے پہلے شروع ہوئی اور سب زیادہ عرصے تک جاری رہی، جس کے دوران 3 کروڑ 50 لاکھ افراد نے اپنی جانیں گنوائیں اور فسطائیت مخالف عالمی جنگ کی فتح میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کو یاد کرنا نفرت کو پروان چڑھانا نہیں ہے بلکہ اس طرح کے المیے کو دوبارہ ہونے سے روکنا ہے۔کثیرجہتی نظام کی حفاظت اور یکطرفہ اور دھمکی آمیز رویے کی مخالفت کرکے جنگ عظیم دوئم کے نتائج اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا پیش کردہ عالمی نظم ونسق اقدام خودمختار مساوات، بین الاقوامی قانون اور کثیر جہتی تعاون کے لئے چین کا عزم ظاہر کرتا ہے اور عالمی نظم ونسق میں اصلاحات کے لئے ایک رہنما طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
افریقہ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو پیٹر کاگوانجا نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم میں چین کی فتح نے صدی پرانے غیرملکی تسلط اور انسانیت کی تذلیل کا خاتمہ کیا۔ چین نے ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنا رتبہ بحال کیا اور افریقہ اور دیگر جگہوں پر نوآبادیاتی نظام کے شکار افراد کو متاثر کیا کہ وہ اپنی آزادی کے لئے لڑیں۔
کینیا میں چینی سفارت خانے کے زیر اہتمام عالمی نظم ونسق اقدام پر سیمپوزیم کا انعقاد



