تحریر: عابد حسین قریشی
بڑی خوش الحانی اور کمال دلسوزی کے ساتھ ایک نوجوان نعت خواں کا یہ مصرعہ جب کانوں کی سماعتوں سے گزرا کہ” میں تو خود انکے در کا گدا ہوں۔ اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں۔” تو دل میں ایک ایسا سوز و گداز اور وارفتگی کا سماں بندھا کہ بیان سے باہر ہے۔ یہ مصرعہ سن کر ہی آنکھیں بیھگ گیئں، کہ جو خود انکے در کا گدا ہو، وہ درود و سلام کے علاوہ کیا تحفہ اور اپنی التجاوں اور عرضداشتوں کے ساتھ آنسوؤں کے ہدیہ کے علاوہ در مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور کیا نذر کر سکتا ہے۔ انکے در پر حاضری کے بعد اگر کبھی ہوش سنبھل سکیں تو عقیدت کے پھول، نمناک آنکھیں، عرضیوں اور گزارشات کی ایک لمبی فہرست، اور دل کی بہت سی وہ باتیں جو دل میں ہی کہیں چھپی ہوتی ہیں، زبان پر عرض و نیاز کی صورت رواں ہو جاتی ہیں۔ در مصطفٰی پر کھڑے ہو کر ایک لمحہ کے لئے بندہ دنیا کے بکیھڑوں سے ماورا ہو کر اس لذت آشنائی سے ہمکنار ہوتا ہے، جس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ سچ تو یہ ہے ، کہ اس در پر ہی تو دلوں کا قرار اور قلب و نظر کا سرور اور ایک پرکیف بہار کا لطف آتا ہے، کہ آنسوؤں کی لڑی ہوتی ہے، در مصطفٰی صل للہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا ہے، نہ من کو اپنی خبر اور نہ تن کو اپنا ہوش۔ بیتابی یکسوئی میں تبدیل ہوتی ہے، اور پھر آقا کریم کے پاس اگر حاضری قبول ہوگئی تو بارگاہ الہی میں اس کی مقبولیت اس شان سے ہوتی ہے کہ حور و ملائک بھی رشک کناں نظر آتے ہیں۔ اور کیا خانہ کعبہ کے بعد دنیا میں در مصطفٰی صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی ایسا مقام ہے، جہاں وہ سکون قلب، وہ راحت جاں، وہ دلوں کا چین اور قرار، وہ آسودگی، وہ طمانیت ملتی ہے۔خانہ کعبہ میں اللہ تعالٰی کا جلال و تمکنت اس قدر واضح اور روشن ہوتا ہے، کہ دلوں پر ایک فطری رعب اور دبدبہ بھی نظر آتا ہے، کہ وہ مالک کائنات کا دربار ہے، جہاں صدائیں اور دعائیں براہ راست سنی جاتی ہیں اور انوار و نوازشات کی بارش ہمہ وقت جاری و ساری نظر آتی ہے، مگر در مصطفٰی صل للہ علیہ وآلہ وسلم پر یہی انوار و محبت کی برسات ذرا مختلف رنگ میں نظر آتی ہے۔ یہ جمال و کمال مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا الگ رنگ اور انگ ہے۔ یہ رحمتوں اور برکتوں کی تقسیم کا در ہے، یہ ہم جیسے گناہ گاروں کی امید اور یقین کا در ہے، یہ بی بی آمنہ کے در یتیم کا در ہے،یہ رحمت العالمین کا در ہے، یہ خاتم النبیین کا در ہے، کہ یہاں دلوں کی بات سنی جاتی ہے، اور اکثر فوری جواب بھی آتا ہے،یہاں تو صرف حاضری سے ہی دلوں کو تسکین اور طمانیت ملتی ہے۔ یہ در تو سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کی وہ محفوظ پناہ گاہ ہے، کہ جہاں حاضر ہونے والا یہی سمجھ رہا ہوتا ہے، کہ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم اسکی بات سن رہے ہیں اور وہ اپنے سارے دکھڑوں کی پوٹری اس امید اور یقین کے ساتھ اس در پر کھولتا ہے، کہ اس میں خیر ہی ڈلے گا۔ اور یہاں ہے بھی تو خیر ہی خیر۔ یہ سب باتیں سوچتے اور خیر و انعام کے اس بے مثل و باکمال در کی فیوض و برکات پر نگاہ دوڑاتے، ایسے ہی ذرا تاریخ کے جھروکوں پہ نظر پڑی اور اپنے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش اور بچپن کا عرصہ اور اس میں ہونے والے چند ایسے اشارے کہ جن سے یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ یہ بچہ بہت ہی نادر اور منفرد خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوا اور یہ بات بھی مسلمہ ہے اور بلا شک و شبہ ہے، کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت بلکہ غالباً انکی عمر مبارک کے پہلے آٹھ سال تک ان کے دادا حضرت عبدالمطلب زندہ تھے، اور وہ صرف محمد مصطفٰی کے دادا ہی نہ تھے بلکہ قریش کے ایک معتبر قبیلہ بنو ہاشم کے سردار اور خانہ کعبہ کے متولی بھی تھے۔ آپکے چچا ابوطالب بھی قریش کے سرداروں میں ممتاز حثیت کے مالک تھے اور انہیں اس بات کا احساس تھا کہ انکے گھرانے میں پیدا ہونےوالا یہ بچہ کوئی عام بچہ نہ تھا، اس میں کوئی خاص بات ضرور ہے جو قبیلہ اور خاندان کے دیگر بچوں میں نہ تھی ۔ اس لئے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیدائش سے ہی خصوصی خیال رکھا جانے لگا۔ تاجدار مدینہ کے لئے تو خود مالک کائنات نے سارے راستے بنانے تھے۔ انکی پیدائش سے لیکر پرورش، لڑکپن ، جوانی سبھی کچھ تو سب کے سامنے ہے۔ یہ تو ہر حوالہ سے بے داغ ہے، اجلا ہے، نکھرا ہوا اور دلکش و دلربا ہے، کہ اس ذات کریم پر رشک آتا ہے۔ وہ تو اس وقت بھی نبی تھے جب یہ کائنات ابھی تخلیق بھی نہ ہوئی تھی۔ اس وقت بھی نبی تھے، جب پیدا ہوئے اور چالیس سال پر تو محض ظاہری اعلان نبوت تھا۔ وہ اللہ تعالٰی کے محبوب ترین نبی ہیں۔ قرآن کریم میں کم و بیش پچیس نبیوں اور پیغمبروں کا نام لیکر ذکر ہوا ہے، مگر جو پروٹوکول نبی آخرالزماں، تاجدار مدینہ، محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرآن کریم میں بیان ہوا ہے، وہ منفرد بھی ہے، اور معتبر بھی، وہ انوکھا بھی ہے اور قابل رشک بھی، وہ قابل فخر بھی ہے اور باعث فخر و انبساط بھی۔ وہ دلربا بھی ہے اور با وقار بھی۔اس میں حسن یار بھی ہے، اور محبوب کی اداوں پر پیار بھی،اس میں محبت و عقیدت کا اظہار بھی ہے اور وفا کیشی کی بہار بھی، یہ محبوب اور محب کے لازوال عشق کی داستان بھی ہے اور محبوب کے مقام و مرتبہ کے پنہاں اسرار بھی۔ بلکہ قرآن تو اول و آخر نبی آخرالزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان کا پرچار بھی تو ہے ۔ کیا کسی اور نبی یا رسول پر اللہ تعالٰی نے اور اسکے فرشتوں نے درود بیھجا ہے۔ کیا یہ عام سی سعادت ہے۔ کیا اس پر سارے نبیوں کو فخر نہیں ہوگا اور کیا ساری امت محمدی اس بات پر نازاں و شاداں نہیں ہوگی۔ اور پھر جب اس نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک پر کھڑے ہوں، تو اس در پر مجھ جیسا خطا کار کیا تحفہ پیش کر سکتا ہے، جہاں اللہ تعالٰی خود درود بھیج رہا ہو۔ بس اس در کی گدائی اگر مل جائے تو قیصر و کسری کی شاہی بھی اسکے آگے ہیچ ہے۔ یہ در مصطفٰی صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی گدائی میں ہی تو ہم جیسے گناہ گاروں کی رہائی ہے، شفاعت ہے، مقدر کی یاوری ہے اور وہ سب کچھ ہے، جسکی خواہش اور تمنا کی جا سکتی ہے۔



