ماجرا

تحریر: بلال الرشید

ہائے افسوس!

آج سے تین لاکھ سال پہلے ہوموسیپین یعنی انسان نے اس کر ـــہ ء ارض پہ ہوش کی آنکھ کھولی ۔ ان تین لاکھ برس میں اس نے پناہ ترقی کی ۔وہ کائنات کی ابتدا پہ روشنی ڈال رہا، اختتام کے تھیسز پیش کر رہا ہے ۔ دنیا بھر میں اس وقت بائیس ہزار یونیورسٹیاں قائم ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ان تجربات سے آدمی انصاف پسند ہو جاتا ۔ خوں ریزی تھم جاتی ۔ انتقالِ اقتدار کے اصول طے ہو جاتے ۔

ہوا اس کے برعکس ۔ انسان آج بھی ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہے ۔ آج سے ایک لاکھ سال پہلے انسان افریقہ سے نکلا ۔وسائل پہ قبضے کے لیے اس نے دو ٹانگوں پہ چلنے والی سات مختلف قسم کی انسانی سپیشیز کو کاٹ کے رکھ دیا، جو فاسلز کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ فرشتے چیخ اٹھے تھے کہ اتنا خون بہانے والا خدا کا نائب کیسے مقرر ہو سکتاہے ۔تین لاکھ برسوں میں بظاہر غلامی ختم کر دی گئی مگر انسان آج بھی کھرب پتیوں کا غلام ہے ۔ یورپ اور امریکہ نے پورا براعظم افریقہ لوٹ لیا۔

چند روز قبل ساری دنیا کی نظریں الاسکا میں ٹرمپ پیوٹن ملاقات پر لگی تھیں ۔ پورا یورپ دعا کے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا ۔ یورپ اور امریکہ اس منحوس گھڑی کو رو رہے ہیں ، فروری 2014ء میں انہوں نے جب یوکرین میں” انقلابِ عظمت ” revolution of dignityبرپا کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔سابق سویت ریاست میں روس نواز حکومت گرانے کا نتیجہ آج یورپ اور امریکہ دونوں بھگت رہے ہیں ۔ ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھول رہے ہیں ۔

ان گیارہ برسوں میں کیا کچھ نہیں ہوا۔یورپ نے روسی گیس خریدنا بند کر دی ۔ 2014ء میں روس نے امریکہ کو چار سو ارب ڈالر گیس بیچنے کا معاہدہ کر لیا۔ روس کو ایران اور شمالی کوریا کی طرح اچھوت بنانے میں امریکہ اور یورپ ناکام رہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی جوہری ریاست، دنیا کا سب سے بڑارقبہ اور ویٹو کی طاقت کو انہوں نے مذاق سمجھ لیا تھا ۔

روسی فوجی بھرپور جنگجو ہے ۔ افغانستان کی دلدل میں توخیر سویت یونین اور امریکہ سمیت کوئی کامیاب نہیں ہو سکا؛البتہ روس کے برعکس یورپی افواج میں جنگ لڑنے کا حوصلہ پایا ہی نہیں جاتا۔ امریکہ اس جنگ میں براہِ راست اتر کر اپنی طاقت ضائع نہیں کر سکتا ۔اس کا ریڈار چین پہ مرکوز ہے ، جو نہ صرف جنگی بلکہ معاشی طور پربھی امریکہ کو پچھاڑنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے ۔ گو چینی معیشت ابھی امریکی معیشت کی دو تہائی ہے لیکن پچیس ٹریلین ڈالر قرض کے ساتھ امریکی دنیا کی سب سے بڑی مقروض قوم ہیں ۔ ان سب آفتوں سے بڑی آفت مگر یہ ہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا ایک گرا ہوا شخص امریکہ کا صدر بن بیٹھا ہے ۔ٹرمپ امریکیوں کو یہ چورن بیچنے میں کامیاب رہا کہ وہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دے گا؛حالانکہ دراصل وہ امریکہ کو تباہ کروانے کی پوری صلاحیت رکھتاہے ۔ ٹرمپ صرف شارٹ ٹرم میں سوچ سکتاہے ۔کہاں ٹرمپ جیسی چالاکی اور کہاں ابرہام لنکن جیسی دوراندیشی ۔

28فروری کو یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ٹرمپ نے تلخی سے کہا : تم تیسری جنگِ عظیم (برپا کرنے )کا جوا کھیل رہے ہو ۔ اگر امریکی آلاتِ حرب تمہیں مہیا نہ ہوں ، تم دو ہفتے میں ہار جائو۔ لطیفہ یہ ہے کہ یوکرین کو بانس پہ چڑھا کر روس سے لڑوانے والے بھی امریکہ اور یورپ ہی تھے لیکن اب ہاتھیوں کی اس لڑائی میں گھاس کیا کرتی ۔

ٹرمپ ایک اٹھائی گیرا ہے ،جس نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر یوکرینی معدنیات ہتھیانے کی سوچی ۔ غزہ کی پٹی کو ہضم کرنے کا خواب دیکھا ۔ پاکستان سمیت سارے سیاسی عدم استحکام سے دوچار ممالک کے معدنی ذخائر پہ اس کی نظر ہے ۔ غزہ میں انسانی تاریخ کے بدترین قتلِ عام کے باوجود ٹرمپ کو نوبل انعام بالکل مل سکتاہے ۔ عالمی فیصلے میرٹ پر نہیں، منافقت کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں ۔ٹرمپ پہ ہر قسم کے الزامات عائد ہیں اور امریکیوں نے اسے اپنا صدر بنا لیا۔ یہ ہے انسانی دانش۔

  یہ ہے انسانیت کا حال۔ دنیا بھر میں قتل و غارت اور بے انصافی ہی غالب ہے ۔اسرائیل نے ایران پہ حملہ کیا تو طاقتور ممالک اکھٹے ہو کر ایران کو کوستے رہے کہ وہ ایٹم بم بنا کر عالمی امن تباہ کرنا چاہتاہے ۔اسرائیل کب کا بنا چکا، منافقین کی زبان سے یہ ایک بار بھی نہیں نکلا۔

یہ سب کتنا مضحکہ خیز ہے۔ یورپ اور امریکہ تیسری عالمی جنگ سے کھیل رہے تھے ۔ یوکرین کی جنگ دراصل ایک چھوٹی عالمی جنگ ہی تھی ، روس کا پلڑا جس میں غالب رہا۔ امریکہ اور یورپ دنیا کی سب سے بڑی جنگی اور جوہری قوم کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھے ۔ پاکستان اور بھارت میں جب جنگ شروع ہوئی تو اول امریکی نائب صدر نے کہا : یہ ہمارا دردِ سر نہیں ۔ آج ٹرمپ جنگ رکوانے کا سہرا اپنے سر باندھتا پھر رہا ہے ۔

انسانیت کی تاریخ یہ ہے کہ بار بار اس کے بدترین لوگوں نے اس کے بہترین لوگوں کو قتل کیا ۔ جہاں جس ملک میں جس کے پاس طاقت ہے ، وہ بزورِ شمشیر تخت پر بیٹھ جاتا ہے ۔ مصر کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔شیخ حسینہ کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ ہمیشہ طاقت کے زور پر حکومتیں ہتھیا ئی گئیں ۔ آئین کو پھاڑ کے پھینک دیا گیا ۔ایک ہی کہانی ہے، جو بار بار دہرائی جا رہی ہے ۔

چین کا وزن روس کے پلڑے میں تھا ۔ اس دنیا میں روس ، چین ، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک اسی لیے خدا نے تخلیق کیے ہیں کہ دنیا یونی پولر نہ ہو ۔ لشکروں کو خدا ایک دوسرے سے لڑواکے ان کا زور ختم کر دیتاہے ۔

یہ ہے تین لاکھ سالہ تاریخ رکھنے والے ہوموسیپین کا کرہ ارض ۔کہیں انسان انسان کا خون بہا رہا ہے ۔کہیں مرد مرد سے شادی کر رہا ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سوائے مستثنیات کے ،انسانیت کے یہ تین لاکھ سال ندامت کی ایک بھرپور داستان ہیں ۔بہرحال ، آخری پیغمبرؐ کی بعثت کو چودہ صدیاں گزر چکیں ۔ عیسائی ، یہودی ، بت پرست ، مسلمان اور ملحد فیصلہ کن جنگوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ کرہ ء ارض بائیس ہزار جوہری ہتھیاروں سے اٹا پڑا ہے ۔ سمندر اوربراعظم پلاسٹک سے اٹے پڑے ہیں ۔ جس ایلان مسک نے مریخ کو فتح کرنا ہے ، وہ اس وقت ٹرمپ کے ساتھ سرپھٹول میں مصروف ہے ۔

قیامت نہ بھی آئی تو انسان نے ایک دوسرے کو مار ڈالنا ہے۔ہائے افسوس ، بندوں پر افسوس !



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر