کالےجادوکی تاریخ،پراسراراشارے،علامات اور علاج (پہلی قسط)

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم”کالا“ کے بعد فارسی اسم”جادو“ ملنے سے کالا جادوبنا۔ جادو کی تاریخ، انسانی تاریخ کی مانند بہت قدیم ہے جادو ایک علم ہے جس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے انھیں سیدھے راستے سے بھٹکایا جاتا ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جادو کابانی ابلیس تھا جس نے انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور انہیں گمراہ کرنے کا چیلنج کیا تھا اور خدا نے اس کے وسوسوں سے بچنے کی تاکید کی تھی۔جادو کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، شرک، کفر، برائی اور گناہ پر رکھی گئی ہے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے موت، بیماری، زہر، جراثیم اور بہت سے کبیرہ و صغیرہ گناہ تخلیق کئے ہیں اسی طرح ان میں ایک جادو بھی ہے۔ چونکہ جادو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اثر کرتا ہے جس طرح دو ا اپنا اثر مریض پر مرتب کرتی ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ جس طرح آگ جلاتی ہے، کینسر سے انسان سے مر جاتا ہے۔ اسی طرح جادو کے ذریعے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس امر کے واقعہ ہونے کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ لفظ جادو کو بہت سے معنوں میں لیا جاتا ہے۔مثلاً ٹونہ ”سحر“، منتر، جنتر، پراسرار اشاروں اور علامات کا استعمال کرنا تاکہ چڑیلوں اور بد روحوں کو بلایایا بھگایا جا سکے۔

جادو کسے کہتے ہے؟واقعات کے غیرفطری طور پر ظہور پزیر میں لانے کافن جادو کہلاتا ہے۔ یہ فن ہر زمانے میں ہر قوم کے افراد کے عقیدے میں داخل رہا۔ اور مختلف اشخاص ہر جگہ اس کا دعوی کرتے چلے آئے ہیں۔ قدیم مصر کے پجاری اسی دعوے پر اپنی عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے۔ چنانچہ قربانیاں جادو ہی کی بنیاد پر دی جاتی تھیں۔ قدیم مصری ، بابل ، ویدک اور دیگر روایتوں میں دیوتائوں کی طاقت کا ذریعہ بھی جادو ہی کو خیال کیا جاتا تھا۔ یورپ میں باوجود عیسائیت کی اشاعت کے جادو کا رواج جاری رہا۔ افریقہ میں اب تک ایسے ڈاکٹر موجود ہیں جو جادو کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔کالا جادو جنوں ، دیوتائوں اور بدروحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی جادو قدرت کے واقعات میں تصرف کے قابل بناتا ہے۔

رمل ، جفر ، جوتش ، اور نجوم بھی اسی کی شاخیں ہیں۔ جو توہم پرستی پر مبنی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جادو کئی شکلوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثلا تعویز ، گنڈے ، جن اور بھوت کا چمٹنا اور اتارنا وغیرہ۔تاریخ پڑھی جائے تو ایسا کوئی دور نہیں گزرا ہوگا جس میں جادو کا زکر نہ ملے۔ دنیا کے تمام مذاہب بھی جادو پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ دنیا کا ہر شعبہ جادو کے متعلق الگ الگ خیال رکھتا ہیں۔

جادو کا ذکر قرآن پاک میں بھی مختلف جگہوں پر آیا ہے، ہاروت ماروت کے قصہ میں اور اس کے علاوہ حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کا واقعہ تو سبھی جانتے ہونگے، لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں جادو کے طریقے اور رسوم و رواج مختلف رہے ہیں۔ آج بھی عرب دنیا میں جہاں آپ سمجھتے ہون گے کہ یہ قبیح حرکات ناپید ہوں گی، وہاں بھی جادو ٹونے رائج اور عام ہیں، رسومات میں فرق ہے، یہی فرق پھر مختلف طریقوں میں واضح ہو جاتا ہے، عیسائیت اور مغربی دنیا میں اس وقت فری میسن اور اس جیسی تنظیموں کا چرچا زبان زد عام ہے وہ فری میسن اور دوسری تنظیمیں جن کا نام لیا جاتا ہے۔

شیطان کے پیروکار کہلاتے ہیں اور اسی جادوئی دنیا کے پجاری ہیں وہاں یہ الگ طریقوں سے رائج ہے بد روحوں سے شگون وہاں بھی لئے جاتے ہیں ہمارے ہاں جو زیادہ پڑھ لکھ جاتا ہے، وہ یہی سمجھتا ہے کہ جادو ٹونا جہالت کی باتیں ہیں جو خوامخواہ دہرائی جا رہی ہیں، جبکہ اس شے نے معاشروں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے، گھروں کے گھر تباہ کر دیے ہیں۔

جادو دنیا کی سب سے موثر قوت ہے جو غائبانہ بلاتجدید زمان و مکان انسانی مزاج اور جسم بلکہ زندگی پر کامل دسترس رکھتی ہے۔ یعنی جادو کے زیر اثر انسان کی بسا اوقات موت واقع ہو جاتی ہے۔ جادو کےلئے عربی زبان میں لفظ ”سحر“ استعمال ہوا ہے۔ سحر وہ عمل ہے جس میں پہلے شیطان کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اس سے مدد لی جاتی ہے۔ سحر دراصل کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کا نام ہے۔ ساحر (جادوگر) جب باطل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے اور کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پلٹ کر سامنے لاتا ہے تو گویا وہ اسے دینی حقیقت سے پھیر دیتا ہے۔

سحر تفریق کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، مثلاً بیماری میں مبتلا کرنا، مار ڈالنا، رشتے داروں میں پھوٹ ڈلوانا، مالی حالت برباد کر دینا، ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا، دو شریکوںمیں جدائی ڈالنا، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا اور یہ آخری شکل زیادہ عام ہے اور سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

جادو کا علم حقیقت میں موجود ہے۔ جادو کی طاقت کا انحصار جادوگر عامل کی طاقت پر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالا علم کیا ہے؟ کالے علم کا رنگ کالا نہیں ہوتا، بلکہ کالا کہتے ہیں ظلمت، گھپ اندھیرا، کفر، شرک اور اللہ کی ذات کو چھوڑ کر غیراللہ کی مد د کو پکارنا، دراصل کالا علم اور جادو ایک ہی بات ہے۔ جادو ایک علم کے پاس اپنی حاجات لے کر جانے والے اور پھر ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے والے اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں۔

جو لوگ جادو کے علم کا انکار کرتے ہیں انہیں شاید قرآن مجید میں موجود بے شمار واقعات کا علم نہیں، جیسا کہ قصہ ہاروت و ماروت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ۔شریر جنات اور شیاطین کے تعاون کے بغیر یہ عامل، جادو گر کوئی کارروائی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ جنات ان سے تعاون کرنے کیلئے اس وقت تک تیار نہیں ہوتے جب تک ان سے کفر یہ اور شرکیہ کام نہیں کروا لیتے۔ چنانچہ انہیں جات کو تابع فرمان بنانے کےلئے اپنے ایمان کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ جادو گر شیاطین کو راضی کرنے کیلئے ایسے منتر اور کلمات ادا کرتے ہیں جن میں کفر و شرک ہوتا ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر