بیجنگ(نیشنل ٹائمز)چینی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں کے ایک گروپ کی جانب سے شائع ہونے والے مضمون میں کوویڈ-19 کے لیبارٹری سے اخراج کے نظریہ کو مسترد کردیا گیا ہے۔چین کے سائنسی جریدے ، سائنس چائنہ لائف سائنسز میں شائع ہونے والے مضمون میں سائنس دانوں نے اس بات پر بحث کی ہے کہ کوویڈ-19 کا باعث بننے والا سارس-کووی -2 ، نوول کورونا وائرس کے انسانی ساختہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔چینی محققین کا کہنا ہے کہ 2003 کے سارس-کووی کے مقابلے میں سارس-کووی -2 نے انسانی آبادیوں کے ساتھ زیادہ بہتر مطابقت پیدا کرلی ہے اور اس کی جانوروں کی میزبانی سے انسانی میزبانی کی تبدیلی کا عمل زیادہ وسیع ہوچکا ہے۔مضمون میں لکھا گیا ہے کہ فطری چنا کے ذریعہ ارتقا کی دلیل کے تحت اس طرح کی مطابقت پذیری موجودہ وبا کے آغاز سے پہلے ہی مرحلہ وار انتخاب کی مدد سے ہوسکتی ہے۔اس نظریہ کے تحت سارس-کووی -2 کا کسی بڑے شہر کی جانوروں کی مارکیٹ سے ممکنہ ظہور نہیں ہوسکتا اور کسی لیبارٹری میں اس کی افزائش کا امکان اس سے کہیں زیادہ ناممکن ہے۔مضمون میں مزید کہا گیا کہ سارس-کووی -2 کی اصل پر بات چیت کرتے ہوئے اس کی مطابقتی تبدیلی کے طویل عمل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
چینی سائنس دانوں نے کوویڈ19-کے لیبارٹری سے اخراج کے نظریہ کو مسترد کردیا



