عابد حسین قریشی
ایسے ہی آج خیال آیا کہ کبھی اپنے آپ سے بھی ملاقات ہوئی۔ جواب آیا کہ مدت ہوئی اپنے آپ سے ملاقات کی فرصت ہی نہ ملی۔ مصروفیت تو زیادہ نہ تھی، پھر تساہل تھا، یا غفلت۔ کچھ تو تھا جس نے اپنے آپ سے مدتوں ملاقات ہی نہ ہونے دی۔ انسان بھی کیا شاندار مخلوق ہے۔ سارا دن بظاہر مصروف، دوڑ دھوپ میں مگن، روزی روٹی کا فکر، عہدے اور منصب کے تقاضے بلکہ حفاظت کا سر درد، اولاد کی تعلیم اور شادی بیاہ کے جھنجھٹ، کہیں مکان کی تعمیر کی فکر تو کہیں ملازمت میں ترقی اور تبادلہ کا مسئلہ۔ اپنے لئے تو وقت ہی نہیں بچتا۔ بقول منیر نیازی۔ کچھ وقت چاہتے تھے، کہ سوچیں تیرے لئے۔ تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا۔ کیا ہم زمانہ کی گردش لیل و نہار میں، زندگی کی سنگلاخ پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے اپنے آپ کو فراموش کر دیتے ہیں۔ جب بھی اس پر غور کیا، تو جواب ملا کہ اپنا کیا ہے، کچھ بھی تو نہیں، خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ ہی جائیں گے۔ درمیانی پڑاو کے لئے سامان اکٹھا کرتے کرتے بوڑھے ہو گئے۔ کچھ سامان ضروری تھا اور بہت سا غیر ضروری۔ یہ ضروری اور غیر ضروری کی بحث بھی لاحاصل ہو جاتی ہے، جب یہ سب کچھ اپنا تھا ہی نہیں۔ یہ تو سب اللہ تعالٰی کی مہربانی سے ملا جو کچھ بھی ملا۔ اسکے علاوہ دے بھی کون سکتا پے۔ بعض اوقات بلکہ ذاتی طور پر اکثر وہ ملا جس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اور اس مالک کائنات سے جب بھی دل کے خشوع سے نمناک آنکھوں سے کچھ مانگا، کائنات کے سب سے بڑے سخی نے عطا فرما دیا۔ مگر اس سب کے باوجود اپنے آپ سے کم کم ہی ملاقات رہی۔ پھر سوال اٹھا کہ چلیں یہ تو سستی یا کوتاہی ہوگئی کیا، اپنے پیاروں اور چاہنے والوں سے ہی ملاقات ہوئی۔ ضرور ہوتی رہی ، شاید دل کی بات نہ ہو سکی۔ وہ کیا ایک انڈین گانے کا بول تھا، کہ “دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی”۔ انسان کے گردا گرد جو لوگ ، جو رشتے اور جو تعلق ہوتے ہیں، ان سے بھی ہم ملاقات میں تساہل برت جاتے ہیں۔ کیا ہم اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر ان سے گپ شپ کرتے ہیں، انکی بزرگانہ مگر معصوم باتوں کو انجوائے کرتے ہیں۔ ان کا خیال رکھتے ہیں، یا انہیں بوجھ سمجھتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی جوانی اور ادھیڑ عمری اپنی اولاد کی خوشیوں کے لئے قربان کر دی ، کیا وہ ہماری توجہ کے بھی مستحق نہیں۔ کیا ہم کبھی اپنے بھائیوں کے ساتھ بچپن والے قہقہے لگاتے ہیں۔ یا جائیداد کے حساب کتاب میں سارے رشتے کھو چکے ہیں، وہ بہنیں جو کبھی بھائیوں پر وارے نیارے جاتی تھیں۔ کیا انہیں باپ کی وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش میں ہم انہیں فراموش تو نہیں کر چکے۔ کیا ہم اپنی اہلیہ کے خوف سے اپنی بہنوں کے لئے اپنے گھر کے دروازے بند تو نہیں کر چکے۔ کیا کبھی کسی غریب رشتہ دار کی دلجوئی کی۔ یا صرف امیر اور صاحب ثروت لوگوں کے پیچھے بھاگتے عمر برباد کر دی۔ مگر یہ تو خسارہ کا سودا تھا۔ جب اتنی عمر گزرنے کے باوجود اپنے آپ سے ہی ملاقات نہ ہوسکی، تو زندگی کا میزانیہ تو خراب ٹھہرا۔ اپنے آپ سے کس طرح اور کب ملاقات ممکن ہے۔ ذرا مشکل سوال ہے۔ کبھی تنہائی میں چند منٹ کے لئے آنکھیں موند لیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں کہ زندگی کس طرح گزری، دوسروں میں خامیاں ڈھونڈتے اور اپنی ذات کی تشہیر کرتے گزری یا غیر سنجیدہ انداز میں کھا پی کر گزار دی۔ کیا وہ کچھ کر سکے جسکی صلاحیت اللہ تعالٰی نے دی تھی یا اسکے برعکس منفی جزبات و خیالات کے ساتھ خلق خدا کو تنگ کرنے میں گزار دی۔ کیا جو ہم نظر آرہے تھے، ہم تھے بھی؟ یا محض واہمہ تھا، تکلف تھا بناوٹ تھی۔ کیا ہم اپنے آپ کوexplore یا کم از کم تلاش ہی کر پائے۔ جواب بڑے سے نو(No) میں آئے گا۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا۔ شاید ہم اپنے آپ کو نہ تلاش کرنا چاہتے ہیں نہ ملاقات۔ اسے زمانہ کی ستم ظریفی کہیں یا اپنی خود سری، نالائقی کہیں یا تساہل، مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک انسان اپنے زندہ ہونے کی کوئی معقول وجہ تلاش نہیں کرتا، اپنے آپ سے ہمکلام ہو کر ملاقات نہیں کرتا، اپنے آپ کو دریافت نہیں کرتا، وہ محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر ہی تو ہوتا ہے۔ اور وہ تو اس کیفیت کی سرشاری سے متعارف ہی نہیں ہو پاتا، “” کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ ایک دن دل سے پوچھا، اپنے آپ سے ملاقات کیسے ممکن ہے، دل نے سرگوشی کی، کہ پہلے اپنی “میں” کو تو مٹا، کہا کہ میرے پاس تو میں کے علاوہ کچھ بھی نہیں، دل نے پھر جھنجھوڑا کہ “”میں “”ختم کرکے خالص بندہ بن کر آ خود سے ملاقات ہوجائے گی۔ طریقہ تھوڑا مشکل ہے، مگر اکسیر ہے۔ دل کی باتیں دل میں رکھنا، پھر ان پر کڑھنا، تلملانا، اور کبھی کبھی پچھتانا۔ کوئی بندے سے پوچھے۔ جو باتیں دل میں رکھ کر دوسروں سے کہہ نہیں سکتے، اپنے آپ سے کیوں نہیں کرتے۔ ممکن ہے وہ سراغ ہی پا سکو، جس کی تلاش میں عمر گزار دی۔اگر دل میں لوگوں کے لئے رنجشیں یا منفی جزبات ابھرتے ہیں، تو کسی کو معاف کرکے دیکھ لو۔ اگر اہلیہ سے نہیں بنتی تو خاموش رہ کر دیکھ لو، اگر اولاد خود سر ہے، تربیت نہیں کر سکے، تو اب ان سے بچ بچا کے دیکھ لو، اگر دوستوں کے پاس اب فرصت نہیں رہی، تو کسی ایک کو تو دکھڑے سنانے کے لئے ڈھونڈو۔ اگر اپنی تلاش کرنا چاہتے ہو، تو مخلوق خدا سے پیار اور شفقت کرکے دیکھ لو۔ ممکن ہے کسی شکستہ دل میں تجھے اپنا عکس نظر آجائے اور من کی تلاش کا سفر اختتام پزیر ہو۔ کہ تیرا دل اگر شکستہ ہو تو عزیز تر ہے، نگاہ آئینہ ساز میں۔



