تحریر و نظم: محمد آصف آصی
مٹی کی خوشبو اور یادوں کا قافلہ
رات کی خاموشی میں کبھی آپ نے مٹی کی خوشبو محسوس کی ہے؟
وہ خوشبو جو بارش کے پہلے قطرے کے بعد اٹھتی ہے… مگر میرے دیس کی مٹی کی خوشبو اس سے بھی گہری ہے۔ یہ پسینے سے بھیگی، خون سے مہکی، اور دعاؤں سے روشن ہے۔ اس میں ہل چلاتے دہقان کے خواب بھی ہیں، اور سرحد پر شہید ہونے والے جوان کی آخری مسکراہٹ بھی۔
جب میں 14 اگست کی صبح کھڑکی پر آتا ہوں تو ہوا میرے کان میں پرانی داستانیں سناتی ہے—قافلوں کی گرد آلود سڑکیں، ریل کی پٹڑیوں پر لٹکتے امیدوں کے جھنڈے، ماں کے آنچل میں لپٹی اذیتیں، اور دور آسمان پر وہ سبز ہلالی پرچم جو ہر باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا وعدہ تھا۔
یہ پاکستان کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، یہ ایک معرکۂ حق کی فتح کا نشان ہے—جہاں حق نے اپنے حصے کا خون مانگا، اور قوم نے ہنستے ہوئے یہ نذرانہ پیش کر دیا۔
ساقی جاوید کا سلامِ وطن
شاعر کی نظر میں وطن ایک نقشہ نہیں، ایک احساس ہے۔ ساقی جاوید کی شہرہ آفاق نظم “چاند میری زمیں، پھول میرا وطن” اسی احساس کی جیتی جاگتی تصویر ہے:
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعلِ یمن
میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے
میرے دہقاں پسینوں کے ڈھالے ہوئے
یہ اشعار صرف منظر کشی نہیں کرتے، یہ اعلان ہیں کہ یہ مٹی قیمتی بھی ہے اور محنت کی گواہ بھی۔ یہاں کی فصلوں میں رنگت بھی ہے اور قربانی کی خوشبو بھی۔
معرکۂ حق کی قسم (آصی)
یہ زمین میری دعا کا بدن ہے
یہی میرا خواب، یہی میرا وطن ہے
یہ وہ مٹی ہے جس میں خون کی خوشبو ہے
یہ وہ خوشبو ہے جو صدیوں سے بے زنگ ہے
میرے دہقان کا پسینہ یہاں موتی بنتا ہے
میرے ملاح کا عزم سمندر کو شرمندہ کرتا ہے
یہاں فوجی جواں آسمان کی طرح اونچے ہیں
یہاں استاد چراغ کی طرح جاگتے ہیں
میں نے دیکھا ہے معرکۂ حق کی صبح
جب ظلم کی رات کانپ کے گِر گئی تھی
جب ایمان کی تلوار روشنی میں نہائی تھی
میں نے سنا ہے وہ صدا—”پاکستان زندہ باد”
جو وقت کی دیواروں میں آج بھی گونجتی ہے
اے میرے وطن!
میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں
کہ تیرا چراغ بجھنے نہ دوں گا
چاہے میری سانس کی آخری بوند بھی
اسی کی روشنی میں تحلیل ہو جائے
تاریخ کا وہ دن جب وقت تھم گیا
14 اگست 1947 کی رات محض کیلنڈر کا ایک ورق پلٹنے کی کہانی نہیں تھی۔ یہ وہ رات تھی جب لاہور کی گلیوں سے کراچی کی بندرگاہ تک ایک ہی صدا تھی—”پاکستان زندہ باد”۔
پشاور کے قلعے پر ہلالی پرچم لہرایا تو تاریخ جیسے احترام سے کھڑی ہو گئی۔ ریڈیو پاکستان سے گونجتی پہلی اذان نے اس نئے وطن کی روح میں ایمان کا پانی ڈال دیا۔
یہ سب کچھ محض سیاست کی بازی نہیں تھی، یہ ایک معرکۂ حق کی کامیاب گونج تھی—ایک جنگ جس میں ایمان، عزم اور قربانی نے مل کر باطل کو شکست دی۔
آج کا عہد
یاد رکھیے، دشمن کبھی مکمل رخصت نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنا لباس بدلتا ہے۔ آج یہ معرکہ تعلیم، معیشت، انصاف اور سچائی کے محاذ پر لڑنا ہے۔ ہمیں اپنے اپنے مورچے سنبھالنے ہیں—چاہے وہ کلاس روم ہو، عدالت، کھیت یا کارخانہ۔ حق کا پرچم ہمیشہ بلند رہنا چاہیے۔
ساقی جاوید کا پیغام
آخر میں، ساقی جاوید کے یہ مصرعے جیسے ہمارے عہد کا تحریری حلف نامہ ہیں:
میرے فوجی جواں جُرأتوں کے نشاں
میرے اہلِ قلم عظمتوں کی زباں
میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
چراغ بجھنے نہ دینا
یہ ملک خون، پسینے اور ایمان کی امانت ہے۔
اس کی حفاظت محض سرحدوں پر نہیں، بلکہ ہمارے ہر فیصلے، ہر عمل اور ہر دن میں ہونی چاہیے۔ معرکۂ حق کا چراغ جلتا رہے—کہیں یہ بجھ نہ پائے، کہیں ہمارے آنے والے بچے اندھیرے میں نہ رہ جائیں۔
یومِ آزادی مبارک!



