محمد نعمان اعوان
ایاد عبداللہ میرا بہت ہی معصوم دوست ہے، جب میں اسے ملا تھا اس کی عمر 12 سال تھی، آج 3 سال بعد اس کا خط موصول ہوا جو ایک ایسے کاغذ پر لکھا گیا تھا جس پر پہلے کسی کمپنی کے اعدادوشمار کا پرنٹ لیا گیا تھا۔
خط کی وجہ أبو شادي نامی شخص ہے، یہ وہ شخص ہے جس کی وجہ سے میری اور ایاد کی ملاقات ہوئی۔
ایاد سے میری ملاقات مشرقی غزہ کی مشہور دکان پر ہوئی تھی جو لذیز ترین کنافہ کی وجہ سے پورے غزہ میں مشہور ہے، میں جب الزیتون کے علاقے میں مشہور زمانہ کنافہ کی تلاش کے لیے پہنچا تو ہر چھوٹے بڑے نے مجھے ایسی اپنائیت سے اس دکان کا بتایا تھا جیسے وہ ابھی وہیں سے آ رہے ہوں یا وہ سب اسی دکان میں حصہ دار ہوں۔ میں جب مشہورِ زمانہ أبو شادي کی دکان کے سامنے پہنچا تو اس کے داخلی دروازے پر ایک سائن بورڈ آویزاں تھا ” غریبوں کو ان کا نصیب کھانے دو”۔ لوگوں کا رش تھا کہ بڑھتا جاتا تھا لوگ آتے، کنافہ اپنے ساتھ لاے شاپروں میں ڈالتے اور چلتے بنتے۔
میں جب اندر داخل ہوا تو میری ملاقات ایک کم سن لڑکے سے ہوئی جو لکڑی کی ایک مرمت کردہ کرسی پر بیٹھا کنافہ کھا رہا تھا جس کی مٹھاس اور لذت اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔
وہیں ہم میں باتیں شروع ہوئیں اور جب ایاد کو معلوم ہوا کہ میں پاکستانی ہوں تو اس نے پاکستان اور افواج پاکستان سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا۔ اسی نے مجھے بتایا کہ مسعود القتاتی أبو شادي المعروف “غریبوں کا باپ” مشرقی غزہ کے الزیتون علاقے کا بے تاج بادشاہ ہے جو اپنی سخاوت ، دریا دلی اور ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ایاد نے بتایا تھا کہ وہ 5 شیکلز کا کنافہ ایک شیکل میں کھاتا ہےاور جس دن وہ بھی نہ ہوں تو
أبو شادي اسے کہتا ہے ” چلو آج تم میرے مہمان بن جاو”.
ایاد کی عمر زیادہ نہیں لیکن عربی ایسی فصاحت سے لکھتا ہے کہ اس پر رشک آتا ہے، آج بھی پہلے سے پرنٹ شدہ کاغذ پر اس کے خط کا عنوان پڑھ کر ایک بار میں سن سا ہوگیا۔ اس بے ترتیبی سے تہہ کیے گئے کاغذ کے اوپری حصے پر انتہائی اوپر درمیان میں ایاد نے لکھا تھا۔ ” میرا میزبان چلا گیا”۔
ایاد اگر اس حالت جنگ میں بچ گیا تو یقیناً ایک بہت بڑا قلم کار بنے گا۔ اس نے مجھے اپنے خط میں مشرقی غزہ کی گلیوں کی پھر سے سیر کرا دی اور اس دکان کے کنافہ کا ذائقہ اپنی تحریر سے میری زبان پر لے آیا۔ مگر یہ مکتوب بہت تکلیف دہ ہے۔ ابو ایاد نے لکھا ہے
” اے میرے پسندیدہ ملک میں رہنے والے دوست یہاں ہر ماہ غموں سے نڈھال ہوکر رخصت ہوتا ہے اور اس مہینے نے الزیتون سے اس کا باپ چھین لیا، أبو شادي کل اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں چل بسا ہے، مجھے نہیں معلوم ہمارے بارے میں تم لوگوں کو کیا خبریں پہنچ رہی ہیں یا کتنی خبریں پہنچ رہی ہیں مگر مجھے اتنا معلوم ہے کہ أبو شادي کی اطلاع دینے کے لیے تو میں موجود ہوں لیکن شاید تمہیں میری موت کی خبر دینے والا کوئی نہ ہو، غزہ کی گلیوں میں موت اتنی سستی ہے جتنا أبو شادي کا کنافہ تھا, لیکن میرے پیارے دوست موت کا ذائقہ أبو شادي کے کنافہ کے برعکس بہت کڑوا ہے، یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ان چند ہفتوں میں کئ بار اسے چکھ چکا ہوں”.
ایاد سے میرا 3 سال میں بذریعہ خط یہ پہلا رابطہ تھا اور مجھے یقین نہیں تھا کہ اس نے میرا پوسٹل ایڈریس سنبھال رکھا ہے، جب ہم ملے تھے تب وہ 12 سال کا تھا مگر شاید اس کو بارود کی خوشبو تب بھی آ رہی تھی اور اس نے ٹھان لی تھی کہ میرا ہمدرد یہی شخص بنے گا، اسے ہی سب لکھ بھیجوں گا۔
اسی نوعیت کے ایک اور پرنٹ شدہ کاغذ پر ایاد لکھتا چلا گیا ، اس نے ان کاغذوں کو دھاگے کی مدد سے لف کیا ہوا تھا۔ جیسے جیسے خط آگے بڑھتا گیا میرے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی گئ۔ اس نے اگلا حصہ اپنے خاندان سے متعلق لکھا تھا۔
“پیارے دوست شاید تم اب غزہ میں کبھی کنافہ، قطائف اور بسبوسا جیسی لذیز سوغاتیں نہ کھا سکو کیونکہ یہ پکوان تو کیا اب تو ان کو بنانے والے ہی ناپید ہونے کو ہیں۔ أبو شادي کی موت کا دکھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ 2 ہفتے پہلے والد گرامی کے انتقال کے بعد میں نے سوچا تھا کہ أبو شادي ہے ناں ہم سب غریبوں کا باپ۔ بابا کا انتقال کیسے ہوا لکھنے کی ہمت نہیں، تمہیں الشفا ہسپتال یاد ہے جہاں ہم تمہارے کچھ ٹیسٹ کرانے گئے تھے؟ بابا کا علاج بھی وہیں سے چل رہا تھا پچھلے 5 سال سے لیکن ہم پر تو زمین ہی تنگ ہے، الشفا سمیت دیگر ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہونے کے باعث بابا کے ڈائیلیسیس نہ ہو سکے اور وہ اس قدر تکلیف میں تھے کہ دعا کرتے رہے کہ کوئی اسرائیلی طیارہ ہمارے گھر پر بھی بم گرا جاے “۔
مجھے اس خط سے کنافہ کی خوشبو کی بجاے اب بارود اور خون کی بو آ رہی ہے ، جی کرتا ہے الزیتون کے اس علاقے میں اڑ کر پہنچ جاوں اور أبو شادي کی دکان پر ایک تختی نصب کردوں، “ابو شادی چلا گیا لیکن اس کا پیغام جاری رہےگا ” ، اک عجیب بے بسی ہے۔
ایاد نے لکھا ہے کہ ” غزہ شہر میں واقع سب سے بڑے ہسپتال الشفا میں 200 افراد کی میتوں کو ہسپتال کے احاطے میں بنائی جانے والی ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے، بابا بھی اسی اجتماعی قبر کا حصہ بن گئے ہیں ، یہ قبر ہم سب مسلمانوں کی اجتماعی قبر ہے اے میرے پاکستانی دوست , ,آج چوتھا دن ہے میرے ماموں خون کا عطیہ دینے اسی ہسپتال میں گئے تھے لیکن ان چار دنوں کے دوران الشفا ہسپتال سے کسی بھی شخص یا امدادی سامان کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے. یہ ابلاغ عامہ، یہ امن کے عالمی ادارے یہ مسلم اتحاد سب کدھر ہے ؟ میرے ساتھ اپنی زندگی کا لذیز ترین کنافہ کھانے والے میرے دوست ہم یہاں کھانے، بجلی اورپانی کا انتظار نہیں کرتے بلکہ موت کا انتظار کرتے ہیں، جی کرتا ہے تمہیں سب لکھ بھیجوں لیکن میرے پاس تو اتنے کاغذ بھی نہیں کہ ارض فلسطین کے 6 ہزار بچوں سمیت 18 ہزار ہم وطنوں کا نوحہ تمہیں لکھ کر بھیج کے دل کا بوجھ ہلکا کرلوں۔ میرے اگلے خط کا انتظار کرنا اور اگر یہ انتظار لمبا ہوگیا تو سمجھ جانا میں کسی اجتماعی قبر کا حصہ بن گیا ہوں،زندہ رہا تو جلد تمہیں مزید لکھوں گا مگر خوف تو یہ ہے کہ یہ خط بھی تم تک پہنچ پاے گا یا نہیں “۔
اب میں روز ایاد کے خط کا انتظار کرتا ہوں، بے یقینی ایسی ہے کہ معلوم ہی نہیں کر سکتا کہ میرا پیارا دوست زندہ بھی ہے یا نہیں ۔ دعا کریں کا اس کا اگلا خط جلد مجھے مل جاے تو آپ تک پہنچاؤں، مگر اس نے لکھ بھی دیا تو کیا اور میں نے پڑھ بھی لیا توکیا، میں تو شرمندہ ہوں کہ اگر ایاد کو یہ معلوم ہو گیا کہ اس کا پاکستانی دوست تو صرف اس لیے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر فلسطین کے لیے کچھ پوسٹ نہیں کر رہا کہ میرے اکاؤنٹ ہی معطل نہ ہو جائیں ، ایاد کےلیے آپ بھی دعا کریں، اس کا اگلا مکتوب جیسے ہی ملا میں آپ تک ضرور پہنچاوں گا۔



