ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز) نوشہرو فیروز کے علاقے محبت ڈیرو میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی لڑکی سے متعلق کیس میں نامزد وڈیرے نے عبوری ضمانت کرا لی۔
لڑکی کے اہلخانہ کا مؤقف
چند روز قبل قتل کی گئی لڑکی کے اہلخانہ نے ایک رشتے دار پر اغوا کرکے زیادتی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ واقعے کے بعد لڑکی بطور امانت وڈیرے کے گھر چھوڑی تھی تاہم اس کی لاش ملی۔
وڈیرے کا مؤقف
دوسری جانب مقامی وڈیرے عزیزاللہ ڈھراج نے بتایا تھا کہ لڑکی اس کے گھر رہ رہی تھی لیکن امانت نہيں تھی، لڑکی کا والد ان کے پاس ملازم ہے، واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی اور ملزم کی شادی کا فیصلہ کیا اور بدلے میں ملزم کے گھر کی دو خواتین متاثرہ لڑکی کے رشتے داروں کے نکاح میں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔وڈیرے کے مطابق لڑکی اہلخانہ نے آکر بتایا کہ لڑکی نے نشہ آور گولیاں کھالی ہیں تو انہیں اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔ ملزم وڈیرے نے لڑکی کو ملزم کے ساتھ شادی کرنے اور 4 لاکھ جرمانےکافیصلہ سنایا تھا اور واقعے کے بعد سے وڈیرہ فرار تھا تاہم اب بتایا جا رہا ہے کہ فیصلہ کرنے والے ملزم وڈیرے نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی ہے۔
قتل کیس کا پس منظر
مقتولہ کے والد کی مدعیت میں زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیاہے، مقدمے کے متن کے مطابق 4 ماہ قبل ملزم نے میری بیٹی سےزیادتی کی تھی، وڈیرے نے فیصلہ کرکے فریقین پر 4 لاکھ جرمانہ عائد کیا تھا اور وڈیرے نے میری بیٹی کی ملزم سے شادی کرانے کافیصلہ کیا تھا۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزم لال ڈنو اور اس کے بھائی نے میری بیٹی کو زہریلی گولیاں کھلائیں، بیٹی نے بتایا کہ دونوں ملزمان نے زہریلی گولیاں زبردستی کھلائیں، بیٹی کو تشویشناک حالت میں گمبٹ اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔
نوشہروفیروز: لڑکی سے زیادتی کے بعد قتل کیس میں نامزد وڈیرے نے ضمانت کرا لی



