اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزارت صنعت و پیداوار میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں روسی حکومت کے نمائندے ڈینس نازاروف، سیکرٹری صنعت و پیداوار، وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں روس سے انسولین کی درآمد، مقامی سطح پر مشترکہ پیداوار اور مجوزہ پالیسی بورڈ پروٹوکولز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ڈریپ نے روسی کمپنی زاوود میڈوسنٹیز سے انسولین درآمد کے لیے لاہور کی کمپنی جینیٹکس فارماسیوٹیکلز کو رجسٹریشن جاری کر دی ہے۔ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان فارماسیوٹیکل جوائنٹ وینچر دو طرفہ معاشی تعلقات کی مضبوطی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں انسولین کے بڑے پیمانے پر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے، روس سے درآمد کی جانے والی انسولین پاکستانی مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان میں انسولین کی مقامی سطح پر تیاری کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور جلد ہی مقامی مینوفیکچررز اور روسی کمپنیوں کے مابین مشترکہ پروٹوکول پیش کیا جائے گا۔ہارون اختر خان نے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیشی سے قبل ایک جامع اور مربوط تجویز تیار کریں تاکہ اس منصوبے کو پالیسی اور عملی سطح پر جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ، روس کے ساتھ فارماسیوٹیکل تعاون پر پیش رفت



