تحریر: محمد سلیم
دنیا کے موسم ایک لطیف توازن پر قائم ہیں، جسے ہم اکثر محسوس تو کرتے ہیں، مگر سمجھ نہیں پاتے۔ اس توازن کو بگاڑنے یا سنوارنے والے کچھ مظاہر ایسے بھی ہیں جو نظر نہیں آتے مگر پوری دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان میں دو بڑے کردار “ایل نینو” اور “لا نینا” ہیں. بحرالکاہل کے سینے میں جنم لینے والے یہ موسمی مظاہر دنیا بھر کے درجہ حرارت، بارشوں، قحط، سیلاب اور طوفانوں کے پیچھے کارفرما ہو سکتے ہیں۔
ایل نینو (El Niño) ہسپانوی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے “ننھا لڑکا” ، عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ۔ کیونکہ یہ مظہر عموماً کرسمس کے آس پاس نمودار ہوتا ہے۔ ایل نینو تب پیدا ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے مشرقی حصے کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتے ہیں۔ یہ گرم پانی سمندری ہواؤں کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں بارشیں کم یا زیادہ ہو جاتی ہیں، گرمی بڑھ جاتی ہے یا کبھی قحط جیسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں ایل نینو کا مطلب اکثر مون سون کی کمزوری ہوتا ہے۔ یعنی بارشوں میں کمی، فصلوں کی تباہی، اور خشک سالی کا خدشہ۔ آسٹریلیا میں جنگلات کی آگ بڑھ جاتی ہے، جبکہ امریکہ کے کچھ حصے شدید بارشوں اور طوفانوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایل نینو دراصل قدرت کا وہ جھٹکا ہے جو ایک چھوٹے سے سمندری درجہ حرارت کی تبدیلی سے پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔
لا نینا (La Niña) اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ہسپانوی زبان میں “ننھی لڑکی” کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس مظہر میں بحرالکاہل کا وہی مشرقی حصہ غیر معمولی طور پر ٹھنڈا ہو جاتا ہے، جس سے عالمی موسمی پیٹرن ایک اور رخ اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں اس کے نتیجے میں مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہو سکتی ہیں، جس سے سیلاب اور زمین کھسکنے جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں مظاہر نہ صرف ایک دوسرے کے مخالف ہیں بلکہ کبھی کبھی باری باری اور کبھی مسلسل کئی سالوں تک کسی ایک ہی مظہر کا تسلط رہتا ہے۔ اس تسلسل کو “ENSO cycle” کہا جاتا ہے ، یعنی El Niño Southern Oscillation۔ اس چکر میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت اور فضائی دباؤ کا ایک پیچیدہ رقص جاری رہتا ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا سے لے کر جنوبی امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا تک محسوس ہوتے ہیں۔
سائنسدان سیٹلائٹس، ویڈر ریڈارز، جدید ویڈر سٹیشنز اور ماڈلنگ سسٹمز کے ذریعے ایل نینو اور لا نینا کی پیشگوئی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ان کا وقت اور شدت پوری درستگی سے معلوم کرنا آسان نہیں۔ کیونکہ یہ مظاہر نہ صرف سمندر میں پیدا ہوتے ہیں، بلکہ ہواؤں، دباؤ، نمی اور زمینی جغرافیے سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اب ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا موسمیاتی تبدیلی (climate change) ان مظاہر کو مزید شدید بنا رہی ہے؟ اس پر سائنسدانوں کی رائے ابھی واضح نہیں، مگر کئی مشاہدات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں ایل نینو اور لا نینا کے اثرات مزید شدید اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔
ایک اور سوال. اس سال پچھلے سال کی نسبت بارشیں زیادہ کیوں ہیں؟
سن 2023 کے آخر اور 2024 کے اوائل میں ایل نینو کی شدت موجود تھی، یعنی بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں سمندری درجہ حرارت معمول سے زیادہ تھا۔ اس کا اثر جنوبی ایشیا میں مون سون کی کمزوری کی صورت میں نکلا، یعنی بارشیں کم ہوئی
لیکن 2025 کی درمیانی مہینوں (یعنی جون، جولائی) میں سائنسدانوں کے مطابق ایل نینو کمزور پڑ چکا ہے اور نیوٹرل فیز یا لا نینا کی ابتدائی علامات سامنے آ رہی ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب سمندر کی سطح معمول سے ٹھنڈی ہونے لگتی ہے، اور اس کے اثر سے مون سون ہوائیں زیادہ نمی لے کر آتی ہیں اور جنوبی ایشیا میں بارشوں کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔



