اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے ٹرانسفر کیس کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے وکیل منیر اے ملک نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ عدالتی فیصلے میں نئی ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے جج کے حلف اٹھانےکے بارےمیں کچھ نہیں کہا گیا، آرٹیکل 194 کے تحت حلف کو لازم قراردیا گیا ہے، حلف اٹھائے بغیر ججز کی سینیارٹی کا تعین نہیں کیا جاسکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں سنگین غلطیاں ہیں۔پانچوں ججز کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔اس کےعلاوہ سپریم کورٹ آئینی بینچ کے 19 جون کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔واضح رہےکہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر کو درست قرار دیا تھا اور 5 رکنی بینچ نے سنیارٹی کا معاملہ صدر پاکستان کو بھجوا دیا تھا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 19 جون کو ججز ٹرانسفر کیس میں محفوظ فیصلہ سناتےہوئے ججز ٹرانسفر کے خلاف درخواستیں مسترد کی تھیں۔سپریم کورٹ نے 2-3 کی اکثریت سے کیس کا فیصلہ سنایا اور 3 ججز نے ججز کے ٹرانسفر کو آئینی قرار دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سرفراز ڈوگر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے طور پر کام جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے دیگر ہائیکورٹس سے ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ تبادلہ کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے سنیارٹی کے معاملے پر رواں سال 20 فروری کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ان ججز میں جسٹس سرفراز ڈوگر ،جسٹس محمد آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر ہوئے تھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے ٹرانسفر کیس کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی



