واشنگٹن (نیشنل ٹائمز)امریکہ میں گرمی کی شدت میں انتہائی اضافے کے بعد مغربی ریاستوں کیلیفورنیا اور نیواڈا کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق نیویڈا کے شمال میں، کیلیفورنیا کی سرحد کے قریب اور سیرا نیواڈا کے جنگلاتی علاقے کے کچھ حصوں میں آسمانی بجلی گرنے سے جنگل کی آگ بھڑک اٹھی اور جنگل کے قریب آباد رہایشیوں کو دیگر جگہوں پر منتقل کیا جارہا ہے۔ امریکہ میں گرمی کی شدت میں انتہائی اضافے کے بعد مغربی ریاستوں کیلیفورنیا اور نیواڈا میں ریکارڈ درجہ حرارت کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ چند ہفتے پہلے امریکہ کے مغربی حصے میں ایک خطرناک ہیٹ ویو آ چکی ہے اور اس خطے میں جون کا مہینہ اب تک کا سب سے گرم ترین مہینہ رہا ہے۔ امریکہ کے مغربی خطے میں جنگل کی آگ پر قابو پانے کی کوششیں کرنے والے فائر فائٹرز کا کہنا ہے کہ ہوا اتنی خشک ہے کہ آگ کو روکنے کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعہ گرایا گیا زیادہ تر پانی زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ موسم کی پیش گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لاس ویگاس میں درجہ حرارت 47.2 سینٹی گریڈ کی ریکارڈ حد بھی عبور کرسکتا ہے۔ اوریگون میں فریمونٹ وینما نیشنل فارسٹ میں تیز ہواں سے پھیلنے والی جنگل کی آگ کے بعد انخلا کے مزید احکامات جاری کیے گئے۔ آگ کیلیفورنیا کے لیے بجلی فراہم کرنے والی تاروں کے لیے بھی خطرہ بن رہی تھی۔ کیلیفورنیا میں پاور گرڈ آپریٹرز نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے برقی سامان کا استعمال کم کرکے بجلی بچائیں۔ کیلیفورنیا کے علاقے ڈیتھ ویلی میں جمعے کو درجہ حرارت 54.4 ڈگری سینٹی گریڈ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا اور ہفتے کے آخر میں بھی ایسی ہی گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
امریکہ میں گرمی کی لہر،متعدد ریاستوں کے جنگلات میں آگ بھڑک آٹھی



