سارہ حسین
کراچی، ڈیفنس کے ایک خاموش فلیٹ میں کل ایک بدبو دار لاش ملی۔ یہ لاش کسی بے نام، لاوارث، بے گھر خاتون کی نہیں تھی۔ یہ تھیں عائشہ آپا۔ وہی جگت عائشہ، جو کبھی کراچی کی سڑکوں پر اپنی نئی پراڈو چلاتی تھیں، غریبوں کے گھروں میں راشن پہنچاتی تھیں، بچوں کی فیسیں بھرتی تھیں، اور ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی تھیں۔
کہا جاتا ہے “ماں” کبھی کسی سے خفا نہیں ہوتی۔ مگر شاید “اولاد” ہونا سیکھنے کے لیے بھی انسان کو شعور چاہیے۔
عائشہ آپا کی زندگی کا المیہ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنی ساری جائیداد اپنے بچوں کے نام کردی۔ اُس دن کے بعد نہ فون کی گھنٹی بجی، نہ دروازے پر دستک ہوئی۔
ان کا ایک بیٹا کراچی ڈیفنس میں چار کنال کے محل نما گھر میں خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔ دوسرا بیٹا اسلام آباد میں فارم ہاؤس اور بحریہ کی کوٹھیوں کا مالک ہے۔ لیکن ماں؟ ایک سنسان فلیٹ میں، تنہا، زخمی، بھوکی، بوسیدہ اور آخرکار ایک بدبو بن کر رہ گئی۔
کبھی وہ ساری رات فلیٹ کے باہر ٹہلتی تھیں، کبھی بڑبڑاتیں، کبھی زار و قطار روتی تھیں، اور آخر میں خاموشی میں دفن ہو گئیں۔ کئی دن گزر گئے، کوئی حال پوچھنے نہ آیا، یہاں تک کہ ان کے جسم کی بو نے آواز لگائی۔
کیا یہ ماں کی قسمت تھی؟ یا اولاد کی سنگدلی؟
یہ کہانی صرف عائشہ آپا کی نہیں ہے۔ یہ ہر اُس ماں کی کہانی ہے جو اپنی ساری زندگی بچوں پر قربان کر دیتی ہے، اور بدلے میں تنہائی، بیماری اور بے بسی پاتی ہے۔



