ایران اسرائیل جنگ

تحریر: عابد حسین قریشی

حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں کم از کم ہماری نسل کے لوگوں نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کی مسلسل پسپائی کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی درگت بنتے دیکھ کر ایک عجب طرح کی راحت و شادمانی محسوس کی ہے۔ ایران پچھلے کئی سالوں بلکہ دہائیوں سے انٹرنیشنل پابندیوں کی زد میں ہے۔ نہ کچھ درآمد کر سکتا ہے، نہ برآمد۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جب کسی بھی ملک پر پابندیاں ہوں، اسکی ٹیکنالوجی تک رسائی تقریباً ناممکن ہوتی ہے، ایسے میں ایران کا ایٹمی طاقت بننے کا خواب اور جدید ترین میزائل سسٹم کا موثر نظام ایرانی قوم کے عزم صمیم اور قدرت کی طرف سے ایک معجزہ سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس جنگ کی پہل اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے کی اور شاید اس غلط فہمی میں کی کہ ایران پہلے حملے کی تاب ہی نہ لا سکے گا، اور ایران کی اعلٰی فوجی قیادت اور ممتاز ایٹمی انجینئرز کی پہلے روز ہی شہادت، سابق شاہ ایران کے بچوں کو میڈیا پر پیش کرنا regime change کی کو شش،ایران کے اندر سے جاسوسی کی کوششیں، سب کسی گہری سازش کی کڑیاں تھیں۔ اس سے پہلے کافی سالوں تک اسرائیل اور امریکہ نے بڑی شاطرانہ چالوں سے مسلم دنیا میں شیعہ اور سنی کی تفریق کو ہوا دی، اور جب مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوئے تو ایران پر چڑھائی کر دی، مگر اسرائیل اور اسکا سرپرست امریکہ، ایرانی قوم کے جزبہ حریت اور ولولہ ایمانی سے پوری طرح آگاہ نہ تھے۔ جب ایران نے جوابی وار کیا اور کیا خوب کیا، کہ اسرائیل کی چیخیں امریکہ اور اسکے اتحادیوں تک پہنچ رہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ جو پہلے ثالثی اور امن کا راگ الاپ رہے تھے، اب کینیڈا سے ادھوری کانفرنس چھوڑ کر واپس امریکہ پہنچ گئے ہیں، اور لگتا ہے کہ اب امریکہ اس جنگ میں براہ راست کودے گا۔ نتیجہ ظاہر ہے، مزید تباہی ہوگی۔ مگر اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کی ستر سالہ myth ایرانی قوم نے ختم کردی ہے۔ اگر اب بھی پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک ایران کے ساتھ شانہ ملائیں تو ایران کئی ہفتوں تک لڑ سکتا ہے۔ ایران اس وقت بغیر ایئر فورس کے صرف میزائیلوں کے سہارے لڑ رہا ہے۔ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔چینی صدر کا حالیہ بیان ممکن ہے صدر ٹرمپ کو تھوڑا سوچنے پر مجبور کرے کہ کیا امریکہ ایک نئی جنگ کا حصہ بن سکتا ہے، امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی دفاعی قوت
بری طرح کھٹکتی ہے۔ ایران اس وقت ہماری جنگ بھی لڑ رہا ہے کہ اسرائیل کو اگر ایٹمی قوت بننے کی کوشش کرنے والا ایران وارے میں نہیں تو مسلمہ طور پر ایٹمی طاقت پاکستان کیسے گوارا ہو سکتا ہے۔ہمیں شاید اس کا اتنا احساس نہیں ، لیکن اگر اس جنگ میں ایران شکست کھا گیا تو جلد یا بدیر اسرائیل زخمی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ آور ہوں گے، مگر اس سے پہلے اسرائیل کو اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ اس قسم کے ایڈونچر کا سوچ بھی سکے۔ یہ وقت امتحان ہے، ایرانی قوم کے لئے مگر وارننگ ہے، باقی اسلامی ممالک کے لئے۔ اگر کسی کو شک ہے تو ذرا عمیق نگاہی سے عراق، شام اور لیبیا کا انجام دیکھ لیں، یہ سب اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے اسرائیل کو کھٹکتے تھے، مگر ایک ایک کرکے ان سب کی فوجی طاقت ختم کرکے انہیں toothless کر دیا گیا۔ اسرائیل کے لئے ایران یا پاکستان اہم نہیں، وہ مسلمانوں کا مخالف ہے۔ جو مسلمان ممالک آج اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں، خدانخواستہ ایران کے گرنے کے بعد سبھی غیر محفوظ ہوں گے۔ یہ جنگ اسرائیل اور ایران کی نہ ہے، بلکہ یہ معرکہ کفر و اسلام کا ہے۔ اور یہی اصل لمحہ فکریہ ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر