شام ڈھلے طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد میں میرے علاوہ بس، نصیر ہاشمی صاحب تھے اور طارق وحید علوی اور خالد جمیل۔ باقی شاید دو درجن رشتہ دار تھے، جو ہمیں نہیں جانتے تھے۔ اور وہ ڈیڑھ دو سو نمازی جو باقاعدگی سے وہاں آتے تھے۔
ایک بات عجیب ہوئی۔ نماز جنازہ شروع کرنے سے قبل امام صاحب نے کہا، مرحومہ کے ورثاء اور عزیز آگے آجائیں۔ یعنی منبر کے ساتھ بنے دروازے سے گزر کر آگے اس صحن میں آ جائیں جہاں میت رکھی ہوئی تھی۔ (یہ لفظ لکھنا بعض اوقات کیسا عجیب لگتا ہے۔ میت۔) سو باقی لوگ مسجد کے اندرونی ہال میں صف بندی کرنے لگے اور چار پانچ ورثاء آگے جانے لگے۔ میرا دل چاہا کہ میں بھی آگے چلا جاؤں۔ پھر خیال آیا، پتا نہیں یہ مناسب ہو گا یا نہیں۔ میں ان کا رشتہ دار تو نہیں تھا۔ اسی وقت میں نے نصیر ہاشمی صاحب کو آگے بڑھتے دیکھا۔ اور آگے بڑھتے ہوئے، دروازے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے انہوں نے پلٹ کر پیچھے دیکھا، جیسے صفوں کے درمیان کسی چہرے کو ڈھونڈ رہے ہوں۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی انہوں نے آنکھوں سے اشارہ کیا۔ میں پلک جھپکتے میں ان کے پیچھے جا پہنچا۔ اس دروازے کو عبور کرتے ہوئے میرے ذہن میں جیسے کوئی سرگوشی گونجے جا رہی تھی۔ ہاں، ہم بھی تو ورثاء میں ہیں۔ ہاں، ہم بھی تو ورثاء میں ہیں!
لگ بھگ چوالیس برس قبل سلمٰی رضا سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ کچھ سینئر تھیں۔ شاید مجھ سے پانچ چھ سال پہلے ‘اخبار جہاں’ سے وابستہ ہوئی تھیں۔ ان کا نام سب جانتے تھے۔ میں سال بھر نائٹ ڈیسک کا تجربہ رکھنے والا بچونگڑا تھا جو اس ادارے میں نیا نیا شامل ہوا تھا اور سب لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں تھا۔
لیکن قسمت کو یہ منظور نہ تھا۔ چار ماہ بعد ہی میری سلمٰی رضا سے لڑائی ہو گئی!!
اس زمانے میں نثار احمد زبیری صاحب اخبار جہاں کے ایڈیٹر تھے۔ میں نے انہیں تجویز پیش کی کہ جولائی میں شہزادہ چارلس اور ڈیانا کی شادی ہونے والی ہے، دنیا بھر میں شور مچا ہوا ہے، ہم برطانیہ میں شائع ہونے والی کتابوں کی مدد سے چھ سات قسطوں میں ان کے تعلق پر ایک نیم رومانی کہانی شائع کریں جو حقائق پر مبنی بھی ہو اور لوگوں کو پسند بھی آئے۔ آخری قسط اس ہفتے چھپے جس ہفتے کے ٹائٹل پر شاہی شادی کی تصویریں شائع ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس تجویز میں میرا اپنا ایجنڈا پوشیدہ تھا۔ یعنی یہ کہ کہانی میں لکھوں اور ادارے میں سب کو پتا چل جائے کہ یہ نیا لڑکا تو کہانی کار ہے۔
یہ تجویز فورا” منظور ہو گئی کیونکہ اس زمانے میں سرکولیشن بڑھانے کی ہر ترکیب آزمائی جاتی تھی۔ جنگ لندن کے تعاون سے چار پانچ دن میں دو ناول نما کتابیں بھی پہنچ گئیں جن میں چارلس اور ڈیانا کے مبینہ خفیہ افئیر کی داستان بیان کی گئی تھی۔ ہفتے بھر بعد یہ قسط وار سلسلہ شروع ہو گیا۔
ان دنوں تمام سب ایڈیٹرز اپنے اپنے حصے کی کاپیاں فائنل کر کے بھیجتے تھے۔ کسی کے ذمے آٹھ صفحے ہوتے تھے، کسی کے بارہ، کسی کے سولہ۔ اتفاق کہئے یا بد قسمتی، جن دو صفحات پر میرا لکھا ہوا قسط وار سلسلہ شائع ہونا تھا وہ سلمٰی رضا کے ذمے تھے۔ سلمٰی رضا اپنا کام بروقت نہیں، وقت سے پہلے کرنے کی عادی تھیں۔ سو انہوں نے پہلے ہفتے ہی وارننگ دے دی کہ اپنے قسط وار سلسلہ کا کتابت شدہ مواد، کاپی بھیجنے کے دن سے بھی دو دن پہلے تیار ہو کر انہیں مل جانا چاہئے۔ میں نے کسی نہ کسی طرح پہلے ہفتے ان کا مطالبہ پورا کر دیا۔ لیکن اگلے ہفتے میں یہ کام وقت سے پہلے نہ کر سکا۔ یعنی کام کاپی جانے سے پہلے تو ہو گیا مگر دو دن پہلے نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ مجھے اپنے حصے کے آٹھ صفحات بھی تیار کرنے ہوتے تھے اور پھر پورے دو بڑے صفحات پر چھپنے والی کہانی بھی لکھنی ہوتی تھی۔
تیسرے ہفتے جھڑپ ہو گئی! کاپی پیسٹنگ والے کمرے میں رشید رستم قلم کی موجودی میں ہمارے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پھر مقدمہ ایڈیٹر صاحب کی عدالت میں پیش ہوا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ سلمٰی رضا اپنے بقیہ صفحات تیار کرا کے فارغ ہو جائیں گی اور میں کہانی والے دو صفحے بعد میں اپنی ذمہ داری پر تیار کرا دیا کروں گا۔
فیصلہ تو ہو گیا، لیکن ہم دونوں کی بات چیت بند ہو گئی۔ اب سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا، ہم دونوں نے شاید ڈھائی سال تک ایک دوسرے سے بات نہیں کی! ہم کوشش کرتے تھے کہ دوسروں کو ہماری باہمی ناراضی کا پتا نہ چلے، ہم محفلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی بات بھی نہیں کرتے تھے۔ ایک نہایت شریفانہ قسم کی لاتعلقی تھی۔
پھر یاد نہیں کیسے یہ خاموش جنگ ختم ہوئی۔ ہم رفتہ رفتہ دوستی کی طرف بڑھنے لگے۔ میرا خیال ہے 1985 کے آتے آتے ہم پرجوش دوست بن چکے تھے۔
اگلے بیس بائیس سال ایسے گزرے کہ وہ ہر قدم میرے ساتھ رہیں۔ شفیع عقیل صاحب کے جانے کے فورا” بعد جب میر جاوید رحمٰن صاحب نے مجھے ایڈیٹر بنانے کی بات چھیڑی تو میں نے انکار کر دیا۔ ایڈیٹر بننا ٹیڑھا کام تھا۔ جاوید صاحب کے ساتھ تو اور بھی ٹیڑھا۔ پھر ادارتی بورڈ میں سلمٰی رضا اور انوار علیگی مجھ سے سینئر تھے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ علیگی صاحب پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں کہ وہ صرف فکشن کے صفحات دیکھ سکتے ہیں۔ سلمٰی رضا کے کمرے میں ہونے والی میٹنگ میں، جب میں نے جاوید صاحب سے اصرار کیا کہ کسی سینئر کو ہی ایڈیٹر بننا چاہئے تو سلمٰی نے گھبرا کر بے ساختہ کہا۔ “سنو، مجھے نہ پھنساؤ۔ میں تمہیں سینئر ماننے کو تیار ہوں۔ کہو تو لکھ کر دے دوں۔” میر جاوید رحمٰن نے وہی بھرپور قہقہہ لگایا جو کھلے دروازے سے پورے دفتر کو سنائی دیتا تھا۔
بے شمار واقعات ہیں جو یاد کے افق پر جگمگاتے ہیں۔ پاکستان کے 50 ویں یوم آزادی پر ہم نے ایک خصوصی ضخیم شمارے میں پاکستان کے 50 نام ور فرزندوں کے انٹرویو کرنے کی ٹھانی۔ سلمٰی رضا کو محسوس ہوا کہ میں ان کے ذمے کم انٹرویوز لگا رہا ہوں، شاید ان کے سینئر ہونے کی وجہ سے ان پر کم بوجھ ڈال رہا ہوں۔ انہوں نے بحث کر کے زبردستی دو کے بجائے چار انٹرویوز کا ذمہ لیا اور حسب عادت وقت سے پہلے اپنا کام نمٹا دیا۔
یاد آتا ہے، ایک شام ہم دونوں اسلام آباد کے کسی گیسٹ ہاؤس کے احاطے میں ٹہل رہے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہم تیز بارش میں پھنس چکے تھے۔ پوری ٹیم شاید کسی وزیراعظم کا انٹرویو کرنے گئی تھی۔ سلمٰی نے ٹہلتے ٹہلتے کہا۔ “یہ میری سلیم شاہی جوتی دیکھ رہے ہو؟ بارش سے بالکل برباد ہو گئی ہے۔” میں نے ان کی جوتی پر نظر ڈال کر کہا۔ “شاہی آثار تو سارے بہہ گئے ہیں، یہ صرف سلیم رہ گئی ہے۔” وہ ہنس ہنس کر دوہری ہو گئیں۔ نجانے کتنے دن تک وہ اس بات کا حوالہ دے کر ہنستی رہیں۔
اخبار جہاں میں کئی لوگ ایسے تھے جن کے لئے اخبار جہاں صرف ملازمت کی جگہ ہی نہیں تھی، جینے اور تر و تازہ رہنے کا سہارا بھی تھا۔ سلمٰی بھی انہی میں سے ایک تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچیس تیس سال گزار کر جب وہ اخبار جہاں سے رخصت ہوئیں تو دنیا سے الگ تھلگ ہو گئیں۔ انہوں نے کچھ وقت آج ٹی وی میں بھی گزارا، ایک دو اور جگہ بھی کام کیا۔ مگر کہیں ان کا دل نہ لگا۔ اس دوران میں بھی صحافت ترک کر چکا تھا۔ وہ گنتی کے چند لوگوں سے رابطہ رکھتی تھیں۔ نصیر ہاشمی، رضیہ فرید، رعنا فاروقی اور ایسے ہی چند لوگ۔ کراچی پریس کلب کے الیکشن والے دن ان سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ گھنٹوں باتیں ہوتی تھیں۔ ایک بار میں نے انہیں پریس کلب سے ان کے گھر چھوڑا۔ اس روز وہ پیر کی تکلیف کے باعث ذرا مشکل سے چل رہی تھیں۔
رضیہ فرید اور نصیر ہاشمی ڈیڑھ ماہ پہلے آخری بار ان سے گھر جا کر ملے تھے۔ وہ بہت زیادہ بیمار تھیں، انہیں دیکھ بھال کی شدید ضرورت تھی اور دیکھ بھال کا انتظام نہ تھا۔ رضیہ فرید نے اس رات ایک طویل فون کال میں جو کچھ بتایا، اس نے مجھ بہت مضطرب رکھا۔ رضیہ مجھ سے زیادہ پریشان تھیں۔ پھر کل صبح رعنا فاروقی کی ایک فیس بک پوسٹ نے وہ اندوہ ناک خبر سنا دی جس کا کئی دن سے خدشہ تھا۔
سو جب مسجد رحمانیہ میں، میں آگے بڑھ کر صحن میں وہاں پہنچا جہاں رشتہ داروں کو آنے کے لئے کہا گیا تھا تو وہ سرگوشی میرے کانوں میں گونجے جا رہی تھی، ہاں ہم بھی تو ورثاء ہیں۔ تعلق چالیس برس سے بھی پرانا ہو جائے تو ہم سب لگ بھگ ایک دوسرے کے ورثاء ہی تو بن جاتے ہیں۔
خاموشی سے رخصت ہو جانے والی سلمٰی رضا، الوداع۔ آگے پیچھے ہم سب کو آپ کے پاس ہی آنا ہے۔





