ایلون مسک امریکی صدر کے ان چہیتے افراد میں بھی شامل تھے جنہیں غیر معمولی اختیارات دیے گئے تھے۔دیگر وزرا اور عہدیداروں کے مقابلے میں ایلون مسک کا انداز ہمیشہ غیر روایتی رہا تھا۔ایلون مسک اہم موقعوں پر بھی اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ امریکی صدر کے اوول آفس آتے اور ایک بار بچے نے اپنی ناک میں انگلی گھما کر ناک 145 سال پرانی میز سے پونچھ دی تھی جس پر صدر ٹرمپ نے یہ تاریخی میز فوری طور پر تبدیل کرادی تھی۔ریزولیٹ ڈیسک شاہ بلوط کی لکڑی سے بنا ہوا ہےجو برطانیہ کے بحری جہاز ایچ ایم ایس ریزولیٹ سے حاصل کی گئی تھی۔ یہ برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے 1880 میں خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کےجذبے سے صدر ردرفورڈ کو تحفے میں دی تھی۔اس میز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لنڈن بی جانسن، رچرڈ نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے علاوہ باقی تمام صدور نےاسی میز کو استعمال کیا تھا۔اسے صدر جان ایف کینیڈی کی ہدایت پر 1961 میں اوول آفس منتقل کردیا گیاتھا۔
ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کو خیرباد کہہ دیا



