عبرتناک داستان
ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے مرنے والوں کے لواحقین کو خون بہا کے طور پر دی جانے والی دیت کی منحوس چوبیس کروڑ کی رقم خاندان کے اٹھارہ افراد کے لیے خونی بن کر ان کی تباہی اور بربادی کا باعث بن گئ یہ داستان بھی دوسروں کے لیے بھی عبرت کی ایک مثال ہے ۔
اس قتل کے بعد فیضان حیدر کی اہلیہ زہرہ کا خاندان جوہر ٹاون کی خوشحال آبادی میں منتقل ہو گیا ۔ مقتول فیضان کا مکینک سسرشہزاد بٹ اپنا زیادہ وقت نئے چھت کی گھر پر ہوائی فائرنگ کر کے گزارتا تھا ۔ اس خاندان کی زندگی میں نیا ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب مقتول فیضان کے سسرشہزاد بٹ نے دوسری شادی کرلی۔ فیضان کی بہن نے ایک لالچی شخص سے شادی کر لی ۔ فیضان کی بیوی زہرہ اور شیرخوار بیٹے کو کل پانچ کروڑ ملے تھے، زہرہ دوسری شادی کرنا چاہتی تھی لیکن باپ لڑکے کو پسند نہیں کرتا تھا، ماں نیببلہ بیٹی کی طرف دار تھی۔ فیصان کے سسر نےطیعش میں آکر پہلی بیوی نیببلہ اور بیوہ بیٹی زہرہ دونوں کو قتل کر دیا ۔ یہ خود اس وقت جیل میں سڑ رہا ہے، پیسہ گھر اور گاڑی دوسری بیوی کے قبضے میں چلی گئی۔ وہ کسی دوسرے شخص کے چکر میں پڑھی، وہ شخص سارا مال لے کر غائب ہو گیا۔ فیضان کے دوسرے بھائی بھی دولت گنوا کر کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے۔
ادھر دوسرے مقتول فہیم کے لواحقین بھی رقم کے لیے لڑتے رہے۔ یہ آدھا خاندان بھی قتل ہو گیا، کروڑوں کی رقم میں سے کچھ وکیل کھا گئے، کچھ پولیس کھا گئ اور کچھ رشتہ داروں نے ہڑپ کر لیا
یہ خاندان اس وقت کمپسپری کی زندگی گزار رہا ہے۔ مقتول فہیم کی بیوی شمائلہ نے زہر کھا کر خودکشی کر لی اور بعد میں پیسوں کے لیے اس کا خاندان بھی لڑتا رہا۔ اس خاندان کے کچھ افراد بھی جیل میں گئے۔
ریمنڈڈیوس کی رہائی کے لیے ملنے والے کروڑوں روپے کے منحوس اثرات ابھی تک ہیں اور پیسے لینے والا کوئی بھی فرد اس کے اثرات سے پیچھا نہ چھڑا سکا۔
——————-
اس کا کیس لڑنے والا وکیل زاہد بخاری تھا جو میرا بچپن سے لے کر Bsc تک کلاس فیلو اور دوست تھا اور عظمی بخاری کا والد تھا اس نے بھی اس کیس میں کروڑوں روپے کماے اور پچھلے سال کرونا سے وفات پا گیا اور وہ بھی ساری دولت ادھر ھی چھوڑ گیا ھے۔
انوار شیخ ایڈووکیٹ



