ریاض (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20جنوری2021ء) سعودی عرب میں کچھ عرصہ پہلے ہزاروں سال پُرانی پُراسرار غاریں دریافت ہوئی تھیں، جن کی شہرت کے بعد انہیں دیکھنے کے لیے سیاحوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ یہ پُراسرار غاریں جنوبی پہاڑی علاقے ’شدا‘ میں واقع ہیں۔ العربیہ نیوز کے مطابق کوہ ’شدا’ سعودی عرب کے جنوب میں الباحہ کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ جزیرة العرب کے مشہور پہاڑوں میں سے ایک ہے۔
سطح سمندر سے اس کی بلندی 1700 میٹر ہے۔ مملکت میں یہ سب سے زرخیز پہاڑ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا بھی مرکز رہتا ہے۔ اس کی پْر اسرار غاروں کی سیر کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے سیاح کچھلے چلے آتے ہیں۔ کوہ شدا اور اس کی چٹانیں گرینائٹ پتھروں کا بھی ایک بڑا ذخیرہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’شدا‘ کی غاروں کو کسی زمانے میں لوگوں نے اپنی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کیا۔
یہ پہاڑی غاریں آج ماضی میں انسانی تمدن کی یاد دلاتی ہیں اور سیاح جوق در جوق ان پہاڑی غاروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔کوہ شدا کے بارے میں ماضی میں بھی مصنفین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ الحموی اور الہمدنی جیسے مصنفین کی ممالک اور خطوں کے بارے میں لکھی کتابوں، پہلی صدی میں فوت ہونے والے شاعر الاصفہانی کی شاعری میںً بھی اس پہاڑ کا تذکرہ موجود ہے۔
دانشور اور مورخ ناصر الشدوی نے کوہ شدا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کوہ شدا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک زیریں پہاڑ اور دوسرا بالائی پہاڑ۔ زیریں پہاڑ ایک منفرد ارضیاتی منظر پیش کرتا ہے اور یہ اپنی غاروں اور وسیع گرینائٹ کے ذخائر کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ ان غاروں میں ماضی میں ہزاروں سال لوگوں کی رہائش رہی۔ چٹانوں پر آج بھی زمانہ رفتہ کے نقوش ان میں رہنے والوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی غاری قدرتی طور پر بنے بنائے گھر ہیں۔ انہیں تھوڑی بہت مرمت کے بعد رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔سعودی عرب کی وزارت سیاحت کی جانب سے مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کو سیاحتی پروگرام کے تحت جن مقامات کی سیر کرائی جا رہی ہے، ان میں شدا کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں۔



