اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارے کا سار ا بجٹ سیشن شروع سے آخر تک عوا م کی توہین تھا۔ حکومت کے کردار اور اسپیکر کے طرز عمل کی وجہ سے جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اراکین کو ان کے حق سے محروم کیا گیا اور ہم اپنا ووٹ درج نہیں کر سکے۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ وہ یہ جان سکیں کہ لاہور، کوئٹہ، کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ تاریخ یا اسلامی تاریخ پر عمران خان کا لیکچر نہیں سننا چاہتے۔ وہ یہ نہیں جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟ اور آپ نے تو تین سال کا حساب دینا تھا اس کی بجائے آپ ہمیں لیکچر دے رہے ہیں اور قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے وزراءاس بجٹ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت جو بھی اقدامات کر رہی ہے اس سے امیروں کو فائدہ ہو رہا ہے غریبوں کو نہیں۔ ملک میں بے تحاشہ مایوسی ہے اور اسمبلی کے ملازمین خودکشیاں کر رہے ہیں۔ لوگ تین سال سے ایک ہی بات بار بار سن کر بور ہو چکے ہیں۔ عوام این آراو کی رٹ نہیں سننا چاہتے اور یہ بھی نہیں کہ اس حکومت سے پہلے کیا حالات تھے۔ آپ نے امیر لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی ہے۔ یہ بجٹ بھی امیر لوگوں کے لئے این آر او ہے۔ جس میں امیر کےلئے ریلیف اور غریب عوام کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ عوام کو ریاست اور جمہوریت پر بھروسہ ہونا چاہیے اس کی بجائے آپ ایف بی آر کو گرفتار کرنے کا اختیار دے رہے ہیں جو کہ قطعی طور پر غلط ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول نے کہا کہ عمران خان کو گذشتہ تین سالوں کا حساب دینا چاہیے اور یہ نہیں بتانا چاہیے کہ وہ آگے کیا کریں گے کیونکہ انہوںنے تین سالوںمیں تباہی کے علاوہ اس ملک کو کچھ اور نہیں دیا۔ اب وزیراعظم کے پاس کوئی وقت نہیں اور عوام ان کا حساب کریں گے۔ ہم بھی آپ سے آپ کی ساری بدعنوانیوں کا حساب لیں گے۔ ہمیں عمران خان اپنی تقریر میں کہانیاں سنانے کی بجائے یہ بتائیں کہ جو مشکل حالات انہوں نے پیدا کر دئیے ہیں ان کا حل کیا ہے؟ چیئرمین بلاول نے کہا کہ اسد قیصر اس ملک کی پارلیمانی تاریخ کے سب سے خراب اسپیکر ہیں۔ اسی اسپیکر نے اپوزیشن اراکین کو ان کے حق سے محروم کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائد عوام کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ پوری قوم اور پارلیمان کو جوابدہ ہوتا ہے۔ شہباز شریف کے ایوان میں نہ ہونے کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ شہباز شریف کے خاندان میں ایک فوتگی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ نہ آسکے لیکن ان کے باقی اراکین کو تو ایوان کے اندر موجود ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی این ایل اور جے یو آئی ایف غیر حاضر اراکین کو شوکاز نوٹس دے گی اور ان اراکین سے پوچھ گچھ کرے گی کہ وہ ایوان میں کیوں حاضر نہیں ہوئے۔ نیب کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ کسی بھی ادارے کو نیب پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک نیب کے چیئرمین اور نیب افسران اپنے اثاثے عوام کے سامنے نہیں لاتے انہیں کسی کے بھی اثاثوں کی چھان بین کا کوئی حق نہیں۔ چیئرمین بلاول نے اعجاز جاکھرانی کے گھر پر نیب کے دھاوے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس وقت اعجاز جاکھرانی گھر بھی نہیں تھے اور صرف گھر کی خواتین اور بچے گھر میں موجود تھے۔ اعجاز جاکھرانی تو قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے لیکن ان کا انتخاب چرا لیا گیا۔ اعجاز جاکھرانی نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اعجاز جاکھرانی کے حلقہ انتخاب میں دوبارہ گنتی کا حکم جاری کریں۔
یہ سارے کا سار ا بجٹ سیشن شروع سے آخر تک عوام کی توہین تھا



