اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری ے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم کی عدم شرکت کی رپورٹس پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خطے کی تیزی سے تبدیل شدہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کا پیغام جائے۔ نیر بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی قومی سلامتی کےمعاملے کو سیاست سے بالاتر سمجھتی ہے۔ قومی سلامتی ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ ہمسائیہ ملک افغانستان کی صورتحال خطرناک ہے۔ افغانستان کے معاملات پاکستان پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ نیر بخاری نے مزید کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کو نظرانداز کرنے کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں لازمی شرکت کرنی چائیے لیکن افسوسناک امر ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی م اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو یہ وزیراعظم کی طرف سے خارجہ اور داخلہ پالیسی سے اظہار لاتعلقی ہوگا۔ نیر بخاری نے یاد دلایا ہے کہ بھارت سے کشیدگی کے وقت بھی وزیراعظم پارلیمان سے غائب رہے اور عوامی نمائندگان کے مرکز پارلیمان کے زریعے قوم کو اعتماد میں لینے کی زحمت گوارا نہ کی۔نیر بخاری نے مزید کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیراعظم کا زمہ دارانہ رویہ اپنانے میں حرج ہی کیا ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے اسی رویے نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہےقومی سلامتی کمیٹی میں وزیراعظم کی عدم شرکت سے منفی پیغام جائیگا۔
نئیر حسین بخاری کا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم کی عدم شرکت کی رپورٹس پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار



