مندوخیل نے کہا کیا ہم آئین کے پابند ہیں یا عدالتی فیصلے کے پابند ہیں، سلمان اکرم نے کہا سپریم کورٹ فیصلے کا احترام ہے،لیکن عدالت کیلئےضروری نہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا بند دروازوں کے پیچھے شفاف ٹرائل نہیں ہو سکتا، ہم ایک لکھی ہوئی تحریر کو فیئر ٹرائل کےلیے جواز بنارہے ہیں، آپ مجھے 10سال سزا دے دیں اور کہیں آپ کو اپیل کا حق نہیں، کیس کوئی اور سنتا ہے فیصلہ کوئی اور جاری کرتا ہے، دنیا میں کورٹ مارشل کے لیے 2 ماڈلز اپنائے گئے ہیں اور ٹرائل کے لیے قابل ججز کو بھرتی کیا جاتا ہے۔دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا 103 لوگوں میں سے اعتراف کتنوں نے کیا ہے، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا پاکستان میں سزا دینےکا ریٹ 95 فیصد ہے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتاکہ اعتراف کی بنیاد پر سزا ہو جائے، اعتراف کی بنیاد پر سزا ہمارا ہی انوکھا طریقہ ہے۔جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دیے اگر ملزمان اعتراف نہیں کرتےتو انکار بھی تو نہیں کرتے، سلمان اکرم نے جواب دیا انکار کے پیچھے وجہ ہے، آپ اس میں سے خوف کو نہ نکالیں، دنیا میں پورا سسٹم بدل کر رکھ دیا گیاہے، اوپن ٹرائل کا تصور بھی موجود ہے، اس موقع پر جسٹس امین الدین نے کہا ہمارے سامنے جو معاملہ ہے ہم نے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے 19 ویں صدی والا کورٹ مارشل اب دنیامیں تبدیل ہوچکا ہے، 2025 میں 1860والےکورٹ مارشل کی کارروائی کا اطلاق یونیفارم پرسنل پربھی نہیں ہوسکتا، پتہ نہیں 2 سال تک کیا ہوتا رہا، ایک کاغذ تک باہر لیکر جانے کی اجازت نہیں تھی، ضمانت کا حق بھی حاصل نہیں۔ سلمان راجہ نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کے بعد صرف یہ لکھا جاتا ہے ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، اس پر جسٹس مسرت نے ریمارکس دیے ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، ہم ایسے ہی ساری ساری رات بیٹھے رہتے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہم سزائے موت کی اپیل پر مہینوں سماعت کرتے ہیں، جب ملٹری کورٹ فیصلے پر آرمی چیف کو اپیل جاتی ہےتوکتنےوقت میں فیصلہ ہوتاہے؟ اس پر سلمان اکرم نے جواب دیا چند منٹوں میں ہی فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ موجود ہے، 159 ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ ملزمان کا ٹرائل کالعدم قرار دیا گیا تھا کیونکہ تمام ملزمان کا اعترافی بیان ایک جیسا ہی تھا، اس موقع پر جسٹس امین الدین نے کہا جو کیس ہمارے سامنے نہیں اس پر بات نہ کریں۔ وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیے ایف بی علی کیس میں ایازسپرا اور میجراشتیاق آصف کا وکیل رہا، اس وقت ٹرائل اٹک جیل میں ہوتا تھا اور ٹرائل کے بعد ریکارڈ جلادیا جاتاتھا، جب ٹرائل ختم ہوتا تو ہماری اٹک قلعے سے نکلتے وقت مکمل تلاشی لی جاتی تھی، ایک کاغذ تک نہیں لیکر جانے دیا جاتا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سیویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
ہم سزائے موت کی اپیل پر مہینوں سماعت کرتے ہیں، ملٹری کورٹ فیصلے پر آرمی چیف کو اپیل جاتی ہے تو کتنے وقت میں فیصلہ ہوتا ہے؟ جج آئینی بینچ



