اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ایف اے ٹی ایف،افغانستان کی صورتحال اور جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کے حوالے سے اہم بیان آگیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنا موقف پوری قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے۔مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دد طرفہ گفتگو میں، اس حوالے سے تبادلہ ء خیال کر چکا ہوں، اور انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کر چکا ہوں۔ہندوستان، ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایف اے ٹی ایف کا مقصد، منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو روکنا ہے تو ہمارا بھی یہی ہدف ہے۔ ہم اپنے مفاد کے پیش نظر، منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے آگے بڑھتے رہیں گے۔یہاں فاٹف اور ہماری سوچ یکجا ہے وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اور ہم اپنے مقاصد کے تحت اس پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں، ہمیں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو پروگرام دیا گیا اس پر عملدرآمد بہت مشکل تھا لیکن ہم نے کیا۔ہم نے چودہ قوانین میں ترامیم کیں۔ہم نے نئ قانون سازی کی۔ہم نے انتظامی نوعیت کے اقدامات اٹھائے۔ہم نے ذمہ داران کی نہ صرف نشان دہی کی بلکہ ان کے خلاف کارروائی بھی کی۔پاکستان کی عدلیہ اور انتظامیہ اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ہماری مقننہ نے اپنا ذمہ ادانہ کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک سفارتی کاوشوں کا تعلق ہے، اس مسئلے پر چین، سعودی عرب، ملائشیا، انڈونیشیا اور خلیجی ممالک نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا۔ میں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے فیٹف کے معاملات کو سلجھانے کیلئے جو کچھ کیا وہ ملکی مفاد میں کیا۔اڈے دینے سے انکار ہم نے ملکی مفاد میں کیا، وزیر خارجہ ہم آئندہ بھی جو فیصلے کریں گے وہ ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے، آرمی کو تربیت دی، ادارے کھڑے کیے۔ امریکی رائے عامہ، امریکی افواج کے مزید افغانستان میں رکنے کے حق میں نہیں ۔ انخلاء کا فیصلہ کر چکنے کے بعد بھی امریکی حکومت نے انہیں مالی معاونت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔جہاں تک امن کا تعلق ہے، تو اس کا فیصلہ افغانوں نے خود مل بیٹھ کر کرنا ہے۔یہ فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے کہ وہاں قانون کیسا ہونا چاہیے، کس کو کیا اختیارات حاصل ہونگے، کس کے کیا حقوق ہوں گے۔ پاکستان بطور پڑوسی، امن کیلئے دعاگو بھی ہے اور مدد بھی جو ممکن ہوئی ہم کرتے رہیں گے، وزیر خارجہ ہماری پالیسی بہت واضح ہے ۔ہم افغانستان میں امن و استحکام اور خوشحالی کے خواہشمند ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت دوگنی ہو، وزیر خارجہ افغانوں کے فیصلے ہم نہیں کر سکتے، ہم ان کے فیصلوں کا احترام کر سکتے ہیں۔افغان عوام کو فریقین پر معاملات کے تصفیے کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ میں اہلیان جنوبی پنجاب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ پہلی مرتبہ ان کیلئے بجٹ میں اس قدر خطیر رقوم رکھی گئی ہیں۔اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کا بجٹ، جنوبی پنجاب کی ترقی پر خرچ ہو۔سابقہ ادوار میں 33 فیصد آبادی پر محض 17 فیصد ترقیاتی فنڈ خرچ ہوتا رہا۔جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم عمران خان رکھ چکے ہیں۔کل میری ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور دیگر سیکریٹریز جنوبی پنجاب کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ مجھے پورا شیڈول دکھایا گیا جس کے مطابق جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کیلئے 63 ایکٹر زمین کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے ۔انشاءاللہ اگست کے پہلے ہفتے میں جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کا عملی طور پر کام شروع ہو جائے گا ۔
میں نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنا موقف پوری قوم کے سامنے پیش کر دیا



