جنرل فیض کا کورٹ مارشل: جنرل باجوہ کو عدالت نے بلایا تو وہ پیش ہونے کے پابند ہیں، ذرائع

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)جنرل فیض کی نمائندگی کرنے والی ماہرین قانون کی ٹیم نے اب تک اس معاملے پر کوئی فیصلہ ہونے کی تردید کی ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 12 اگست 2024ء کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ ان کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کا باضابطہ آغاز کیا گیا ہے۔ دسمبر کو، ریٹائرڈ جرنیل پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کی گئی اور اس دن سے ان کا مقدمہ فوجی عدالت میں باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل فیض کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) کی اب تک کئی سماعتیں ہو چکی ہیں۔ استغاثہ اس وقت اپنے گواہ پیش کر رہا ہے جس کے بعد دفاعی ٹیم اپنے گواہوں کو بلائے گی۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اگر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عدالت طلب کرتی ہے تو وہ پیش ہوں گے، کیونکہ قانوناً وہ پیش ہونے کے پابند ہیں۔ ریٹائرڈ جرنیل نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی ہر سماعت میں شرکت کی ہے کیونکہ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے ملزمان کیلئے ایسا کرنا لازمی ہے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ جنرل فیض جسمانی لحاظ سے تندرست اور اچھی صحت میں دی نیوز نے جنرل فیض حمید کے مرکزی وکیل میاں علی اشفاق سے رابطہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا دفاعی گواہوں کی فہرست کو حتمی شکل دی جا چکی ہے یا نہیں، اور یہ بھی کہ فیصلہ آنے تک کورٹ مارشل کی کارروائی کتنا عرصہ جاری رہے گی۔ میاں علی اشفاق سے کورٹ مارشل کی کارروائی سے واقف کچھ ماہرین قانون کے دعوؤں کے متعلق پوچھا گیا، ان ماہرین کا خیال ہے کہ استغاثہ اور دفاعی گواہوں کی جرح کیلئے درکار وقت کی وجہ سے جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ آنے میں ایک ماہ سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔ سوال کے جواب میں میاں اشفاق نے کہا، ’’صرف وہی لوگ اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں جو ذاتی حیثیت میں کیس کی معلومات رکھتے ہوں یا پھر کیس کی پالیسی سے آگاہ ہوں۔ جرح ایک معمول کا طریقہ کار ہے، اور اس میں وقت لگتا جنرل فیض حمید کے وکیل سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا دفاعی گواہوں کی فہرست فائنل ہو گئی ہے اور ان کے دفاع میں کون پیش ہوگا۔ میاں علی اشفاق نے جواب دیا کہ جب استغاثہ اپنے مکمل شواہد پیش کر دے گا تو ہم اپنے گواہوں کا فیصلہ کریں گے۔ ہم دفاعی گواہوں کے بارے میں اپنا فیصلہ استغاثہ کے گواہوں کی ریکارڈنگ مکمل ہونے کے بعد کریں گے۔ یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے، اور دفاعی گواہوں کو پیش کرنے کا مرحلہ ابھی نہیں آیا۔ میاں علی اشفاق سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا جنرل فیض حمید یا ان کی قانونی ٹیم جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور دفاعی گواہ بلائے گی؟ میاں اشفاق نے جواب دیا، ’’میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کر رہا۔ معاملہ کیس میں ہونے والی پیشرفت اور اس پیشرفت کے نتیجے میں گواہان کے مطابقت رکھنے کے متعلق ہے۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ آیا یہ بات ہمارے لیے سوُد مند ثابت ہوگی بھی کہ نہیں کیونکہ یہ ہمارے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سسکتی ہے۔ فیصلے کو حتمی شکل دینے سے پہلے کافی غور و خوض ہوگا۔ جب ان سے ایسی میڈیا رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وکلاء کی ٹیم نے فیض حمید کے دفاع میں جنرل باجوہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو میاں علی اشفاق کا کہنا تھا، ’’یقین مانیں میں شاید ہی کسی میڈیا والے سے رابطے میں ہوں۔ یہ لوگ اپنے تئیں گواہوں کی فہرستیں تخلیق کر رہے ہیں۔ تمام باتیں کیس کی کارروائی اور استغاثہ کے گواہان پر منحصر ہیں، کسی بھی ریٹائرڈ یا حاضر سروس گواہ کو بلانے کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔



  تازہ ترین   
مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ
آزاد کشمیر الیکشن کا تیسرا مرحلہ: باغ اور حویلی میں پولنگ کا وقت ختم، گنتی شروع
اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس
بلوچستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
امریکی سکیورٹی گارنٹی ناقابل اعتبار ہونے پر مکہ دفاعی معاہدہ ہوا: ایران
آزاد کشمیر الیکشن کا تیسرا مرحلہ: باغ اور حویلی کے 4 حلقوں پر پولنگ
بلوچستان: فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک
ایران جنگ کے مستقبل پر امریکی کابینہ اور مسلح افواج کے درمیان اختلافات





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر