زبردستی غائب کئے جانے والے افراد کے لئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نےآواز اٹھا دی

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے زبردستی غائب کئے جانے والے افراد کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے بل میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 7جون کو قومی اسمبلی تقریباً 20بل پیش کئے گئے۔ پیش کیے جانے والے بلوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل تھا اس کے ساتھ غائب کئے جانے والے افراد کے متعلق بل بھی شامل تھا۔ اس ترمیمی بل میں پاکستان پینل کوڈ کی کچھ شقوں میں اور کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی شقوں میں بھی تبدیلی کی گئی تھی۔ اس بل پر قومی اسمبلی میں کوئی تقریر نہیں ہوئی اور جلد بازی میں اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ عوام اور میڈی کی نظروں سے اوجھل کر دیا گیا۔ اس ترمیمی بل میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ زبردستی غائب کیا جانا آزادی سے غیرقانونی طور پر محروم کرنا ہے تاہم انٹیلی جنس ایجنسی کے میڈیٹ کے بارے میں کوئی وضاحت نہ ہونے سے اس جرم پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسی کے میڈیٹ کی وضاحت سپریم کورٹ نے زبردستی غائب کئے جانے والے مقدمے کی سماعت میں کہا گیا تھا آئی ایس آئی کا یہ دعویٰ ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں آئی ایس آئی کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے حالانکہ اس کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے۔ یہی وہ گرے ایریا ہے جس کی مدد سے ریاستی ایجنسیاں زبردستی غائب کئے جانے پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ زبردستی غائب کئے جانے کو علیحدہ سے ایک جرم مانا جائے اور شکایت کرنے اور یہ عمل کرنے والوں قابل احتساب ٹھہرانے ک لئے علیحدہ سے ایک قانونی طریقہ کار ہونا چاہیے اور زبردستی غائب کئے جانے افراد کے خاندان کو معاوضہ دیا جانا چاہیے لیکن یہ ساری باتیں اس ترمیمی بل میں موجود نہیں۔ اس مسئلے کے لئے ایک ایسے انداز کی ضرور ہے جو ساری باتوں کا احاطہ کرتا ہوں۔ آئی ایس آئی کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی ضروری ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہو کہ اگر کسی کو اس طرح سے غائب کیا جاتا ہے تو اسے کسی باقائدہ ریاستی مرکز میں رکھنا چاہیے۔ جن لوگوں کو غائب کیا گیا ہے انہیں اور ان کے خاندان اور شاہدین کو تحفظ فراہم ہونا چاہیے اور معاوضہ دینا چاہیے۔ اس مسئلے کے لئے نئی قانون سازی کے لئے بین الاقوامی معاہدے کی توثیق کی جانی چاہیے تاکہ زبردستی غائب کئے جانے والے افراد کو تحفظ دیا جا سکے۔ 1960میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے آرمی ایکٹ کی شق 2 (1) (d) میں ترمیم کر دی تاکہ فوج کو کچھ خاص مقدمات میں یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ سویلین پر بھی فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ ایسا قانون بھارت اور اسرائیل میں بھی نہیں ہے۔ آرمی ایکٹ کے اسی قانون کے تحت انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کو بھی 8مئی سے اب تک غائب رکھا گیا اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر احتجاج کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے تسلیم کیا کہ ادریس خٹک ان کی حراست میں ہے۔ اس لئے کوئی بھی قانونی طریقہ کار میں شامل ہونا ضروری ہے جس میں آرمی ایکٹ کی یہ ترمیم ختم کی جا سکے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حال ہی میں پیش کیے جانے والے بل میں یہ بات ضروری ہے کہ اس میں انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ زبردستی غائب کئے جانے افراد کے بارے میں قانون سازی انسانی حقوق کی وزارت کو کرنی چاہیے نہ کہ قانون نافذ کرنے والی وزارت کو، کیونکہ بنیادی فرق ان دونوں میں یہ ہے کہ وہ اس ایشو کو وہ کس طرح دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیمی بل اگر اسی طرح سے موجود رہا تو وہ زبردستی غائب کیے جانے والے افریط کو نہیں روک سکے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی متنبع کرتی ہے کہ اس بال کے بارے جلدبازی سے کام نہ لایا جائے اور مطالبہ کرتی ہے کہ قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی یا کسی اور عوام فورم پر اس مسئلے پر بحث و مباحثے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈروں کو دعوت دی جائے۔



  تازہ ترین   
نام نہاد ناکہ بندی کے بعد جلد آپ 4 سے 5 ڈالر والے پٹرول کو یاد کریں گے: ایران
اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا، امریکا کا سخت رویہ رکاوٹ بنا: عباس عراقچی
امید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کئی گھنٹے بعد بھی بغیر کسی معاہدے کے ختم
ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہئے، متعدد نکات پر اتفاق ہوا: ایران
مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے: ایرانی صدر
وزیراعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات، شہباز شریف کا خطے میں امن کیلئے بامعنی ثالثی کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ
امریکہ-ایران مذاکرات کے نتائج سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ڈونلڈ ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر