اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) برطانیہ کے منسٹر آف سٹیٹ برائے ساؤتھ ایشیاء و کامن ویلتھ لارڈ طارق احمد آف ویمبلڈن کی اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات۔برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر بھی اس موقع پر موجود تھے۔دوران ملاقات، کرونا وبائی صورتحال ،پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور کرونا ویکسین کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنے کے حوالے سے برطانوی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ہم نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں، محدود وسائل کے باوجود سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی سے کرونا وبا کی تیسری لہر کا مقابلہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش ہے ۔ اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے عالمی برادری کو مل کر کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ پاکستان، اقتصادی ترجیحات پر عمل پیرا ہے۔برطانیہ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے متمنی ہیں۔وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے یک-طرفہ بھارتی اقدامات کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا۔پاکستان، خطے میں معاشی استحکام اور روابط کے فروغ کیلئے افغانستان میں قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے باعث، افغانستان کی صورتحال نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وزیر خارجہ نے برطانیہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ لارڈ طارق نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہا۔ لارڈ طارق احمد اور برطانوی ہائی کمشنر نے خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
برطانیہ کے منسٹر آف سٹیٹ برائے ساؤتھ ایشیاء و کامن ویلتھ لارڈ طارق احمد آف ویمبلڈن کی اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات



