اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی
حاضرین کرام، خواتین وحضرات
میرے لئے اس اہم فورم میں شرکت باعثِ اعزاز ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر ایشیاءاینڈ پسیفک اعلی سطحی وڈیوکانفرنس بلاشبہ ایک بروقت اقدام ہے جو عالمی تعاون کے ناگزیر ہونے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
میں “کرونا وبا کے مضمرات سے آگاہی کیلئے منعقدہ اس کانفرنس کے انعقاد پر چینی قیادت کو مبارکباد دینا چاہوں گا
جس میں عالمی وبا سے نمٹنے، اقتصادی قوت بڑھانے، دیرپا ترقی کیلئے سرسبز شاہراہ ریشم کے فروغ کیلئے تعاون کے حوالے سے عالمی تعاون پر زور دیا گیا ہے
میں خاص طورپر اپنے پیارے دوست جناب وانگ ژی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے یہ غیرمعمولی اقدام اٹھایا ہے۔
میرے لیے یہ امر بھی باعث اعزاز ہے کہ آج کی پرمغز معروضات کو سمیٹنے کی ذمہ داری میں انجام دے رہا ہوں۔ اس کانفرنس کے دوران تخلیقی اور فائدہ مند تصوارت وخیالات پیش کئے گئے ہیں۔
حاضرین کرام
آج ہم ایک ایسے موقع پر مل رہے ہیں جب دنیا غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ایشیاءاور پسیفک کے ممالک عالمی امور کے مرکزی مقام کے قریب آرہے ہیں جبکہ ہم سب ممالک کو مشترکہ طورپر بڑی بڑی مشکلات ومسائل کا سامنا ہے جن میں سے چند ایک ماحولیات کا تغیر، کورونا، عدم مساوات اور غیرروایتی خطرات جیسے مسائل شامل ہیں۔
کورونا وبا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ طبی تباہی کے علاوہ اس کے دور رس سیاسی، سماجی اور معاشی اثرات دنیا پر مرتب ہوئے ہیں۔ کورونا وبا کانتیجہ معاشی کساد بازاری، دیوالیہ پن، معاشی دباو، بے روزگاری اور عالمی سطح پر رسد کے متاثر ہونے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ اس نے موجودہ عالمی معاشی نظام کی قوت مدافعت کا امتحان لیا ہے اور ان طریقوں کو نئی شکل دی ہے کہ کس طرح معاشی اور سماجی مسائل کو دیکھا اور حل کیاجانا چاہئے۔
جیسا کہ نہایت مستحسن انداز میں اس کانفرنس میں بیان کیاگیا ہے کہ کورونا وبا کے بعد معاشی بحالی کے لئے ہمیں اتحاد، یک جہتی اور کثیرالقومی تعاون کی ضرورت ہے۔ کورونا سے نمٹنے میں ہمارا تعاون بروقت معاشی بحالی میں نفع بخش ہوگا جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم کرونا کی تشخیص اور اس کے علاج سے متعلق اپنے تجربات کا تبادلہ کریں؛ تحقیق اور پیداوار بڑھا کر ویکسین کی فراہمی، رسائی اور اس کی مناسب قیمت پر دستیابی میں اضافہ کریں؛ ترقی پزیر ممالک کی ویکسین تک رسائی کو بڑھائیں؛ اور ترقی پزیر ممالک کے لئے کثیرالقومی ترقیاتی اداروں سے ترجیحی وسائل کی فراہمی پر زور دیں۔ یہ کام صرف موثر کثیرالقومی پالیسی اقدامات اور وسیع البنیاد تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔
مزید برآں کورونا وبا سے بحالی کے لئے ترقی پزیر ممالک کو مالی وسائل کی ضرورت ہے جن کی فراہمی کا عمل تیز کرنا ہوگا جو اس وقت کساد بازاری کا شکار ہیں اور انہیں پائیدار ترقی کے اہداف 2030کے حصول کے راستے پر لانے کے لئے یہ سب فوری طورپر درکار ہے۔
ترقی پزیر ممالک کی معاشی بحالی کیلئے یہ ممکن بنایا جائے کہ ترقی پزیر ممالک، مارکیٹس میں موجودہ کم شرح سود پر قرض لے سکیں۔
حاضرین کرام
کورونا وبا سے موثر طورپر لڑنے کے لئے حکومت پاکستان نے ’سمارٹ لاک ڈاون‘ کی پالیسی اور تین نکاتی حکمت عملی اختیار کی ہے جس میں ایک طرف عوام کی زندگیوں کے تحفظ کو اہمیت دی گئی ہے تو دوسری جانب ان کے روزگار کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو سہارا دینے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ’احساس ہنگامی نقد رقوم کی فراہمی کے پروگرام‘ کے ذریعے معاشرے کے غریب اور نادار طبقات کے لئے 203 ارب، ایک کروڑ پچاس لاکھ خاندانوں میں تقسیم کئے ہیں۔
ہم نے دسمبر2021 سے 7 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگانے کی مہم شروع کی ہے۔ اس ضمن میں ایک کروڑ بیس لاکھ ویکسین کی خوراکیں ساڑھے 90 لاکھ شہریوں کو دی جاچکی ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں پاکستان نے چین کی تیار کردہ ویکسین کی مقامی سطح پر پیداوار شروع کی ہے جو ہماری صنعتی فراہمی کی صلاحیت کا مظہر ہے اور صحت عامہ کے شعبے میں چین کے عالمی تعاون میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہے۔
کورونا وبا کے انتہائی منفی اثرات پر قابو پانے اور اس سے بحالی میں چین نے ہماری بے حد مدد کی ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام چین کی قیادت اور عوام کے بے حد شکرگزار ہیں کہ انہوں نے کورونا وبا سے مقابلے کی ہماری کوششوں میں ہمارے ساتھ بھرپور یک جہتی اور مدد کی۔
حاضرین کرام
صنعتی انقلاب کے دو صدیوں بعد دنیا نے آخر کار یہ ادراک کیا کہ انسانیت کو فطرت کے مطابق پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنانی چاہئے۔ کورونا وبا کے درپیش چیلنج سے ہمارے لئے ایک بہتر اور سرسبز مستقبل تعمیر کرنے کا ایک بڑا موقع ہمیں دیا ہے۔ ہمیں لازما اس موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ہماری معیشتوں کو ایسے انداز میں تبدیل کرنا چاہئے کہ ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کا پھل ہمیں مل سکے۔ ترقی یافتہ ممالک کو پیرس سمجھوتہ کے تحت اپنے وعدوں کو لازماً پورا کرتے ہوئے ترقی پزیر ممالک کو ماحولیاتی اقدام میں مدد کرنا ہوگی اور 100 ارب امریکی ڈالر سالانہ کی ماحولیاتی وسائل کی فراہمی کا اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا۔
کورونا وبا کے نتیجے میں ہونے والے شدید معاشی اثرات سے نکلنے کے لئے پاکستان نے ان کوششوں کے سلسلے میں ’گرین اکنامک سٹیمولس انیشی ایٹو‘ شروع کیا ہے۔ معیشت کو تیز کرنے کے لئے اس اقدام سے 85000 گرین روزگار پہلے ہی پیدا ہوچکا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک ایک لاکھ مزید ایسا روزگار پیدا کیاجائے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے پاکستان نے شجرکاری اور دنیا میں جنگلات کی بحالی کے لئے ایک نہایت بڑا اقدام شروع کیا ہے۔ ہم پہلے ہی ایک ارب درختوں کی شجر کاری کرچکے ہیں اور 10 ارب مزید کا ہدف طے کررکھا ہے۔ گزشتہ دس برس میں ہمارے مینگرووز میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہم بون چیلنج 2020کے پہلے مرحلے میں اپنے ہدف سے آگے بڑھ چکے ہیں اور خیبرپختونخوا صوبے کے 8 لاکھ 65 ہزارسے زائد رقبے کو ماحولیاتی تبدیلی سے پہنچنے والے نقصان سے دوبارہ بحال کرچکے ہیں۔
ہم نے رضاکارانہ طورپر2023 تک شہری علاقوں سمیت اب پچیس لاکھ ایکٹر کی بحالی کا ہدف طے کیا ہے۔
پاکستان کے لئے باعث اعزاز ہے کہ رواں برس ماحولیات کے عالمی دن کی میزبانی پاکستان نے کی جس میں خاص طورپر توجہ یہ رہی کہ ”2021 سے 2030 تک ایکو سسٹم کی بحالی کے لئے اقوام متحدہ کی دہائی“ کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔
یہ ہمارے ماحولیاتی تنزلی کے انسداد اور بائیوڈائیورسٹی کی بحالی کے لئے عزم کا مظہر ہے۔
ہم اپنے حصے سے بڑھ کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ اس کرہء ارض کو بچائیں اور صدیوں سے نظر انداز ہونے والے مسائل کو ٹھیک کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
ابھرتے ہوئے علاقائی اور عالمی ماحول میں پاکستان نے اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرتے ہوئے جیو پالیٹیکس سے جیو اکنامکس کی طرف سفر شروع کیا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ (بی۔آر۔آئی) کا ہراول اور مثالی منصوبہ ہے جو پاکستان کی جیو اکنامک کی طرف تبدیلی کی کوششوں کی تجدید میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس کا بنیادی محور معاشی یکجائی اور خطے کو باہم رابطوں سے منسلک کرنا ہے۔
صدر شی جن پنگ کے گرین چائنا وژن کے عین مطابق وزیراعظم عمران خان نے ”گرین وژن‘ دیا ہے جس کی روشنی میں سی پیک کو گرین سی پیک میں بدلنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
حاضرین کرام
ہمیں طویل المدتی سوچ اپنانا ہوگی جس میں آنے والی نسلوں کے بہترین مفاد کو ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ ہم سب کے لئے یکساں مفاد کی خاطر شراکت داری کے لئے تیار ہیں۔ ہماری کامیابی کثیرالقومی تعاون اور شراکت داری میں پنہاں ہے۔
آئیے ایشیاءپسیفک اور ’بی۔آر۔آئی‘ کے شراکت دار قائدانہ کردار اپنائیں۔ پاکستان ان مشترک اہداف کے حصول کی کوشش میں تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
ہم مشترک خوشحالی کے لئے اس سفر میں عزت مآب صدر شی جن پنگ اور ‘بی۔آر۔آئی‘ کے شراکت داروں کی طرف سے بھرپور اور غیرمتزلزل حمایت کو بے حد سراہتے ہیں۔
ہم بیلٹ اینڈ روڈ میں تعاون اور ثمرات سے مستفید اور اس میں حصہ ڈالنے والے ایشیاءپسیفک ریجن کے شراکت داروں اور دیگر جگہوں سے ہمارے ساتھ آنے والے دوستوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ جیسا کہ بی آر کے فلیگ شپ منصوبے کی میزبانی کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بیلٹ اینڈ روڈ کے دوسرے فورم کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان بھی اپنے حصے کے طور پر ہر ممکن کوشش کرے گا اور گرین بیلٹ اینڈ روڈ ترقی کے مشترکہ وژن کے ہمارے ممالک کی سوچ کو تعبیر کی شکل دینے میں شریک ہے۔
لہذا آج کے اظہار خیال میں سامنے آنے والے جذبات کو دواہرتے ہوئے میں اس معزز فورم کی طرف سے صدر شی جن پنگ کے اس اعلان کو دوہرانا چاہوں گاکہ ویکیسن کو عالمی سطح پر افادہ ء عام کے لئے میسر ہونا چاہئے، کسی پر الزام تراشی کی سوچ اور نظریات کو مسترد کیاجائے اور ویکسین کی کسی ایک قوم کی حد تک رکھنے کی سوچ کو مسترد کیاجانا چاہئے۔ ہم سب کو مل کر مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو مساوی انداز میں اور مناسب قیمت پر ویکسین فراہمی یقینی ہو۔ ہم آج شروع کئے جانے والے ’ بیلٹ اینڈ روڈ شراکت داری اور کورونا ویکسین تعاون‘ اور ’سرسبز عالمی تعاون کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ شراکت داری‘ کے اقدامات کی بھرپور تائید وحمایت کرتے ہیں۔
حاضرین کرام
ہمیں ڈھانچہ جاتی عدم مساوات کو ٹھیک کرنے کے لئے کورونا وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس موقعے سے فائدہ اٹھانا ہوگا جس کے نتیجے میں گلوبل ساوتھ میں معاشی بحران نے جنم لیا ہے۔ آئیے ہم خطرناک زیروسم جیوپولیٹیکل گیمز کو مسترد کریں اور ماحولیاتی تحفظ اور اس کی بقاءکے لئے ہماری توجہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ترقیاتی اہداف کے حصول کی کوشش کریں جو ہمارے پیش نظر ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ ہمارے آج کے غوروفکر کے نتیجے میں درست نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ مشترکہ کوششوں سے ہی ہم اپنی اقوام سے کئے ہوئے اپنے وعدوں کی تکمیل کرسکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے اپنی مشترکہ ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوسکتے ہیں۔
شرکاءکرام کی طرف سے اور اپنی جانب سے میں سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ کامیاب کانفرنس بلائی۔
میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔



