اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) منگل آٹھ اکتوبر کو غزہ پٹی سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق حماس کے زیر انتظام شہری دفاع کے محکمے نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل کی جانب سے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے دوران اس علاقے کے وسط میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سول ڈیفنس کی ٹیموں نے عبدالہادی خاندان کے تین منزلہ گھر سے 17 لاشیں برآمد کیں، جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
ایران اسرائیل تنازعہ: کیا ترکی بھی اس میں شامل ہو جائے گا؟
اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری نتیجے میں کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ حملہ وسطی غزہ میں قائم البریج پناہ گزین کیمپ میں کیا گیا۔
غزہ میں محکمہ شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں نصیرات کیمپ کے العودہ ہسپتال اور دیر البلاح شہر کے الاقصی شہداء ہسپتال لے جایا گیا۔
دریں اثنا العودہ ہسپتال کے طبی عملے نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ بسال نے قبل ازیں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ منگل کی صبح سے غزہ کے وسطی اور شمالی حصوں میں اسرائیلی فوج نے متعدد فضائی حملے کیے جبکہ عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں نے یہ بھی کہا کہ جبالیہ کیمپ میں بھی اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں اسرائیل نے حالیہ دنوں میں کئی بار زمینی حملے کیے تھے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کے ایک بیان کے مطابق گزشتہ روز جبالیہ میں فضائی حملوں میں ”تقریباً 20 دہشت گردوں‘‘ کو ہلاک کر دیا گیا اور اسرائیلی زمینی دستوں نے علاقے میں ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی ایک جگہ کو بھی تباہ کر دیا۔
قبل ازیں اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ ایک سال کے حملوں اور سخت لڑائی کے باوجود حماس جبالیہ کے علاقے میں دوبارہ منظم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے وہاں دوبارہ آپریشن کیا جا رہا ہے۔حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوجیوں کی غزہ کے ان متعدد علاقوں میں واپسی ہوئی ہے، جہاں وہ پہلے حماس کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ ایک مختلف بیان میں فوج نےیہ اعلان بھی کیا کہ اس نے حماس کے ان تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے، جنہوں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا تھا۔



