اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مخصوص نشستوں کا فیصلہ جلد کرنے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کوایک اور خط لکھ دیا، سردار ایازصادق نے پارلیمانی رہنماؤں کے مطالبے پر مخصوص اور خواتین کی نشستوں کے حوالے سے جلد فیصلہ کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا، پارلیمانی رہنماوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے جلد فیصلہ کرنے کیلئے خط لکھنے کی درخواست کی تھی۔
پارلیمانی رہنماوں نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خط لکھ کر الیکشن ترمیمی بل 2024ءکے تناظر میں خواتین اور غیر مسلم اراکین اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن کمیشن کی طرف سے فیصلہ نہ کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے بعدسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماوں کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دوسرا خط لکھ لکھا اور الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد کوئی فیصلہ کرے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 19ستمبر کو بھی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ کے تحت مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔سپیکر ایاز صادق نے خط کی کاپی چیف الیکشن کمشنر اور تمام ممبران کو بھجوادی گئی تھی۔سردار ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو خط لکھا تھاجس میںچیف الیکشن کمشنر کو الیکشنز ایکٹ میں ترمیم سے آگاہ کیاگیا تھا۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ ترمیمی الیکشن ایکٹ کے تحت کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے والا آزاد رکن اب پارٹی تبدیل نہیں کرسکتا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے لکھے گئے خط میں بتایاگیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن ایکٹ میں تبدیلی ہوچکی ہے جس کا اطلاق ماضی سے ہوتا ہے۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ آپ کی توجہ کیلئے الیکشن ایکٹ اس وقت نافذ العمل ہو چکا۔ اس لئے الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد کرے۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔



