اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کیلئے ترامیم پاس ہوجاتی ہیں تو سب کو سراپا احتجاج ہونا چاہئے،پی ٹی آئی آئینی ترامیم کی بھرپور مخالفت کرے گی، ان کی کوشش کہ آئینی عدالت میں مرضی کے ججز لگائے جائیں اور من پسند فیصلے لئے جائیں۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئینی عدالت کیلئے ترامیم پاس ہوجاتی ہیں تو سب کو سراپا احتجاج ہونا چاہئے، پی ٹی آئی آئینی ترامیم کی بھرپور مخالفت کرے گی، ان کی کوشش کہ آئینی عدالت میں مرضی کے ججز لگائے جائیں، جیسا کہ ایک ہم خیال بنچ تو بن چکا ہے، مولانا فضل الرحمان کا بھی مئوقف ہے کہ اس اسمبلی کو آئینی ترمیم کرنے کا استحقاق نہیں ہے، ابھی تک کسی کو پتا نہیں کہ مسودہ کیا ہے؟ آئینی ترامیم کے معاملے پر قوم بٹی ہوئی ہے۔
وکلاء کی اکثریت میں قابل قبول نہیں کہ ترمیم کی جائے، ایسی ترمیم تاریخ میں نہیں ہوئی، شرمناک ہے کہ ایک مسودے کو چھپا کر تھیلے میں ڈال کر لایا جائے۔ کب کسی معاشرے میں غصہ بڑھے اور معاشرہ پھٹ پڑے ، آپ مسلسل معاشرے کی تضحیک کررہے ہیں۔ شروع دن سے اسکیم تھی کہ ہمیں بلا نہ دیا جائے، ایک منصوبے کے تحت سب کچھ ہوا ہے، آٹھ ججز نے شاندار فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی کو مانیں۔
اب ان آٹھ ججز کا فیصلہ نظرثانی کیلئے آئینی عدالت میں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علی امین کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی حکومت قائم ہے یا نہیں، علی امین جو کہا اس کو قبول کرتا ہوں۔ دوسری جانب وزیردفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے، کسی بھی وقت میڈیا کو فراہم کردیا جائے گا، ججز تقرری کا اختیار پارلیمنٹ ایک ادارے کے پاس ہوگا ، جسٹس منصور علی شاہ کا کوئی مسئلہ نہیں 25اکتوبر تک نوٹیفکیشن آجائے گا ۔
موجودہ سپریم کورٹ میں آئینی بنچ بنانے والی بات گناہ بالزت کرنے والی بات ہے۔دنیا کی بیشتر جمہوریت میں ججز تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، آئینی ترامیم کی سیاسی حیثیت بہت زیادہ ہے، عدلیہ میں تقرریوں کیلئے جوڈیشل اور پارلیمانی کمیٹی ضم کردی جائے گی اکثریتی اراکین پارلیمان سے ہوں گے۔



