کراچی (نیشنل ٹائمز) پاکستان کا مجموعی قرض 70 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا، قرض بڑھنے سے ہرشہری 3 لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہے۔ میڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرض 70 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ مرکزی بینک نے اگست 2224 تک پاکستان پر مجموعی قرض کے نمبرز جاری کردیئے۔ مجموعی قرض 70 ہزار362 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو ملک کی جی ڈی پی کے 65 فیصد کے برابر ہے۔
قرض بڑھنے کے باعث پاکستان کا ہرشہری 3 لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق ملک کے مجموعی قرض میں ماہانہ بنیادوں پر 1.1فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 10فیصد اضافہ ہوا، ایک ماہ میں حکومت نے 739 ارب روپے کا ملکی وغیرملکی قرض لیا۔
جولائی 2024 میں پاکستان پر مجموعی قرض کا حجم 69 ہزار 600 ارب روپے تھا۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے کہاہے کہ قومی حکمت عملیوں کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی اور ڈیجیٹل تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینا ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی تخلیقی معیشت کا حصہ بننے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اقتصادی ترقی کوبھی فروغ حاصل ہوگا۔
یہ بات موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی کیلئے بینک کے ڈائریکٹر جنرل برونو کاراسکو نے ” ایشیا میں ڈیجیٹل تخلیقی صنعتوں کا جائزہ: ترقی اور معیاری روزگار پیدا کرنے کے مواقع اور پالیسیز” کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا کے موقع پرکہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تخلیقی صنعتوں میں ڈیجیٹل تبدیلی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں بے پناہ اقتصادی امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پالیسی ساز ایسی حکمت عملیوں پر عمل کریں جو اس خطے کی بھرپور ثقافتی ورثے کو دنیا بھر سے جوڑ کر اقتصادی ترقی کی راہیں ہموار کر سکیں۔ رپورٹ میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام اورخطہ کے دیگرممالک کے فلم، گیمنگ، اور موسیقی کی صنعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں کے 40 سے زائد انٹرویوز کے ذریعے ڈیجیٹل تخلیقی صنعتوں کو ترقی دینے کے مواقع اور پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔



