تہران (نیشنل ٹائمز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خطے میں بے امنی کی جڑ امریکا اور بعض یورپی ممالک ہیں، امریکا اور یورپی ممالک کی خطے میں موجودگی کم کرنے سے جنگیں اور جھڑپیں مکمل ختم ہوں گی،حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد ہم سوگوار ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ جائیں،شہادت کے بدلے کے لیے اسرائیل پر 400 کے قریب میزائل داغے گئے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اسرائیل پر حملے کے بعد پہلی بار منظر عام پر آگئے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بے امنی کی جڑ امریکا اور بعض یورپی ممالک ہیں، امریکا اور یورپی ممالک کی خطے میں موجودگی کم کرنے سے جنگیں اور جھڑپیں مکمل ختم ہوں گی اور خطے کے ممالک اپنا اور خطے کا انتظام سنبھال سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد ملک میں سوگ کی فضا ہے، ہم سوگوار ہیں، لیکن سوگواری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ جائیں، ہمارا سوگ ہمیں آگے بڑھنے اور پیشرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ گزشتہ روز ایران کی جانب سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی شہادت کے بدلے کے لیے اسرائیل پر 400 کے قریب میزائل داغے گئے جس کے بعد امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل آئندہ چند روز میں ایران پر حملہ کریگا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو اسے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حملہ ہوا تو اسرائیل کو بہت شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائیگا۔
خطے میں بے امنی کی جڑ امریکا اور بعض یورپی ممالک ہیں، آیت اللہ خامنہ ای



