واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کو قطعاً ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو اس کی مذمت کرنی چاہیے امریکی صدر نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں اسے ایک غیرموثر اور ناکام کارروائی قرار دیا ہے.
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملے میں استعمال کیے گئے بیلسٹک میزائلوں کے لحاظ سے ایران کا اسرائیل پر حملہ اپریل میں کیے گئے حملے سے دوگنا بڑا تھا.
ایک پریس بریفنگ میں میجر جنرل پیٹرک رائڈر کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی بحری جہازوں نے ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے تقریبا ایک درجن میزائل داغے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ان میزائلوں نے حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں سے کسی کو نشانہ بنایا یا نہیں اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ معلومات کا تعین ہونا باقی ہے.
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر جیک سلیوان نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی حملے کا جواب دینے میں اسرائیلی فوج کے شانہ بشانہ کام کیا ان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں نے اسرائیلی فضائی دفاعی یونٹوں کے ساتھ مل کر ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا. انہوں نے ایران کے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حملوں کی ایک اور لہر کے حوالے سے نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگری نے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ مشرق وسطیٰ میں طاقتور حملہ کرے گی ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آج رات ایک سنگین اقدام کیا اور مشرق وسطیٰ کو کشیدگی کی طرف دھکیل رہا ہے اور جوابی حملہ آج رات کے واقعے کے نتائج ہوں گے.



