اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) نائب وزیراعظم ، وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اگر 9مئی نہ کراتے تو شاید آج ان سے بھی بات ہوسکتی تھی، آئینی عدالتوں کیلئے پیپلزپارٹی ہم سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے، مولانا فضل الرحمان بھی ملکی مفاد میں آئین ترامیم کے حق میں ہوں گے،عدالتی اصلاحات سے اگر عام آدمی کو ریلیف ملتا ہے تو غلط کیا ہے۔
انہو ں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم میں بجٹ اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے متعلق فیصلہ کرچکے ہیں، 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے، میثاق جمہوریت میں سول ملٹری ریلیشن اور جوڈیشل ریفارمز کے نکات شامل تھے، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالتوں سے متعلق بھی پوائنٹ شامل تھا، میثاق جمہوریت کی حمایت بانی پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان نے بھی کی تھی، قومی اسمبلی کی کمیٹی میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہیں کچھ وقت چاہیئے، آئینی ترامیم سے متعلق بحث روک دی ہے اور مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ مان لیا ہے۔
غلطیاں ٹھیک ہورہی ہیں تو اس کی تعریف کرنی چاہئے، آرٹیکل 63اے کا عدالتی فیصلہ غلط ہے تو اس کو ٹھیک ہونا چاہئے۔ آرٹیکل 63اے کا عدالتی فیصلہ بالکل غلط تھا، فضل الرحمان کا اپنا مئوقف ہے اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ اہم ملائشیئن وفد اور چینی وفد پاکستان آرہا ہے، پاکستان اہم اجلا س بھی ہورہا ہے جبکہ کہا جاتا تھا ہم آئسولیٹ ہوگئے ہیں۔
آئینی عدالتوں سے متعلق کام عام عوام کے حق میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف پارٹی صدر ہیں ان کو اعتماد میں لے کر سارے کام کئے جاتے ہیں۔سول ملٹری ون پیج ہمارے اور عمران خان کے مقاصد میں فرق ہے،ان کا ون پیج انتقامی کاروائیوں اور آئندہ 10سال حکومت ، فلاں کو چیف بنانا ایجنڈا تھا، ہمارا ایجنڈا پاکستان کوبحرانوں سے نکالنے کا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دو دارے ہی نہیں تینوں اداروں کو اکٹھا ہونا چاہیئے۔
ہمارے سابق دور میں پاکستان دنیا کی 24ویں معیشت بن گیا تھا، اس وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایجنڈا پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہونا چاہئے۔ عدالتی اصلاحات سے اگر عام آدمی کو ریلیف ملتا ہے تو غلط کیا ہے؟ آئینی ترمیم کے ذریعے سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اگر 9مئی نہ کراتے تو شاید ان سے بھی بات ہوسکتی تھی، آئینی عدالتوں کیلئے پیپلزپارٹی ہم سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے، مولانا فضل الرحمان بھی پاکستان کے مفاد میں آئین ترامیم کے حق میں ہوں گے۔



