لاہور (نیشنل ٹائمز) آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دے دی، پاکستان کیلئے نیا قرض پروگرام 37 ماہ پر محیط ہوگا، پہلی قسط کی مد میں پاکستان کیلئے 1.1 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی منظوری کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے واشنگٹن کے ہیڈ آفس میں ہونے والے اجلاس میں جائزہ مشن اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے اسٹاف سطح کے معاہدے اور پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالرز قرض پروگرام کی بھی منظوری دی۔ ایگزیکٹیو بورڈ نے منظوری کے بعد 1.1 ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ پاکستان کیلئے نیا قرض پروگرام 37 ماہ پر محیط ہوگا۔
دوسری جانب فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی حامد عتیق سرور کا کہنا ہے کہ منی بجٹ نہیں لایا جارہا، جبکہ وزیراعظم نے نان فائلرز پرپابندیاں لگانے کی منظوری دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ممبر ایف بی آر آئی آر پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کہا کہ منی بجٹ نہیں لایاجارہا، حامد عتیق سرور نے کہا کہ وزیراعظم نے نان فائلرز پرپابندیاں لگانے کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا آڈٹ نظام فعال نہیں ہے اور ایف بی آر میں آڈیٹرز کی کمی ہے، آڈیٹرز اور انسپکٹرز کو کنٹریکٹ پر تعینات کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حامد عتیق سرور نے کہا کہ اے سی سی اے، اے سی ایم اے اور چارٹڈ اکاؤنٹنٹس فرمز سے آڈیٹرز تعینات کرنے پر غور کیا جارہا ہے، 4 ہزار آڈیٹرز کو تعینات کرنے کی تجویز ہے، پہلے مرحلے میں400 آڈیٹرز تعینات کیے جاسکتے ہیں۔
ممبر ایف بی آر نے کہا کہ 20 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانےکے لیے اقدامات کررہے ہیں، ٹیکس دہندگان کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، اور 15 لاکھ نان فائلرز کوپیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی ۔ ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں نان فائلرز پر پابندیوں کا اطلاق ہوسکتا ہے جبکہ ریٹیلرز کے ٹیئر ون کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے۔



