اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایک کے بعد دوسرے بحران اور غزہ کی جنگ کے اثرات کا سامنا کرتے لبنان کے شہریوں کے لیے مزید مدد فراہم کرے۔
لبنان میں ‘ڈبلیو ایچ او’ کے نمائندے ڈاکٹر عبدالناصر ابوبکر نے بتایا ہے کہ ادارہ حالیہ ہفتے الیکٹرانک آلات کے دھماکوں کی لہر کے بعد ملک کی وزارت صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔
منگل کو بیک وقت ملک بھر میں پیجر پھٹںے اور اس سے اگلے روز واکی ٹاکی میں ایسے ہی دھماکوں سے درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ہلاک ہونے والوں میں بچوں سمیت عام شہری بھی شامل ہیں۔
خطہ تباہی کے دھانے پر
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے تنازع کے تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کے لیے کہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی سرحد ‘بلیو لائن’ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملے تشویش ناک ہیں۔
تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں کیونکہ خطہ تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔
ہسپتالوں کے لیے امداد
عبدالناصر ابوبکر نے یو این نیوز کو لبنان کی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی شام تک الیکٹرانک آلات کے دھماکوں میں 37 ہلاکتیں ہو چکی تھیں جبکہ 3,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ خطے میں جاری بے چینی کے باعث ادارہ لبنان کے ہسپتالوں کو خصوصی مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر انسانی نقصان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
حالیہ دھماکوں کے بعد 100 ہسپتالوں میں زخمی لوگ لائے گئے ہیں۔ پچاس لاکھ کی آبادی والے ملک میں جب مختصر وقت میں اس قدر بڑی تعداد میں لوگ بری طرح زخمی ہو جائیں تو نظام صحت شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منگل اور بدھ کو ہونے والے دھماکوں کے بعد ‘ڈبلیو ایچ او’ نے وزارت صحت کو ہسپتالوں کے ساتھ بہتر طور سے رابطے قائم کرنے اور مریضوں کو علاج کے لیے موزوں جگہوں پر بھیجنے کے نظام کی تیاری میں مدد دی ہے۔
ادارے کی ٹیموں نے ہسپتالوں اور لبنانی ہلال احمر کو بھی ضروری سازوسامان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ طبی کارکنوں، مریضوں اور خاندانوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات بھی مہیا کی گئی ہیں۔
بحران در بحران
ڈاکٹر ابوبکر کا کہنا ہے کہ یہ بحران لبنان کو درپیش تازہ ترین مسئلہ ہے جہاں حالیہ برسوں میں طبی نظام کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
پہلے کووڈ۔
19 اور اس کے بعد اگست 2020 میں دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے جیسے واقعات سے طبی نظام پر بھاری بوجھ پڑا۔
یہی نہیں بلکہ ملک کو مالیاتی بحران اور غزہ کی جنگ کے اثرات کا سامنا بھی ہے۔ سرحد کے آر پار ہونے والی لڑائی کے باعث ہسپتالوں میں بہت سے زخمی آ رہے ہیں۔ 17 ستمبر کے دھماکوں سے پہلے تقریباً 2,700 زخمی ہسپتالوں میں لائے جا چکے تھے اور لڑائی کے باعث 550 اموات ہوئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ڈبلیو ایچ او’ جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے جہاں اس کے شراکت داروں کی جانب سے چلائے جانے والے متحرک ہسپتال جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے لوگوں کو حفاظتی ٹیکے، بنیادی طبی خدمات اور غذائیت فراہم کر رہے ہیں۔
امدادی وسائل کے لیے اپیل
ڈاکٹر ابوبکر نے بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام اور طبی کارکنوں، شہریوں اور طبی مراکز کو تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کو ناصرف حالیہ بحران سے نمٹنے بلکہ آئندہ کسی طرح کے بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مزید وسائل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ زخمیوں، بحران سے متاثرہ لوگوں اور نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے مزید وسائل مہیا کیے جائیں۔



