اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 منظور کر لیا ہے وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس 2024 کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے جلد منظوری کا امکان ہے آرڈیننس کے مطابق کسی کمیٹی رکن کی عدم دستیابی پر چیف جسٹس کسی جج کو کمیٹی کا رکن نامزد کر سکیں گے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت تین رکنی کمیٹی بنچز تشکیل دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ سے عدلیہ میں جو بھی کارروائی ہوگی اس کا ٹرانسکرپٹ تیار ہوگا ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ترمیمی آرڈیننس 2024 کے نفاذ سے عدالتی کارروائی لکھی جائے گی اور عدالتی کارروائی عوام کیلئے دستیاب ہو گی. سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر 2023 کے فیصلے میں مذکورہ قانون کی دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ 2 کو خلاف آئین قرار دیا تھا آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت جاری حکم کے خلاف اپیل کا حق بھی آرڈیننس میں شامل کیا گیا ہے۔



