اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبونل تبدیلی کا آرڈر کالعدم قرار دیدیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا،عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو تبدیل کرنے کا الیکشن کمیشن کا حکم بھی کالعدم قرار دیدیا،اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں میں مبینہ دھاندلی کا کیس جسٹس طارق محمود جہانگیری ہی سنیں گے۔
شعیب شاہین، عامر مغل اور علی بخاری نے ٹریبونل تبدیلی کیخلاف درخواستیں دائر کی تھیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملہ واپس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا۔الیکشن کمیشن نے ریٹائرڈ جج کو الیکشن ٹریبونل تعینات کردیا تھا۔ریٹائرڈ جج شکور پراچہ کو الیکشن ٹریبونل کا جج مقرر کرنے کا آرڈر بھی کالعدم قرا ردیدیا گیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ تحریری فیصلہ کچھ دیر بعد جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آبادہائی کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کو 3 حلقوں کے باقاعدہ ٹرائل کو مزید آگے بڑھانے سے روکنے کا حکم دے دیاتھا۔الیکشن ٹریبونل تبدیلی کیلئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی تھی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹریبونل میں کیا کارروائی چل رہی تھی؟، جس پر وکیل شعیب شاہین نے جواب دیا کہ ایک کیس تھا۔
چیف جسٹس نے کہا تھاکہ اگر ہم کیس 22 جولائی تک رکھ لیں تو کوئی ایشو تو نہیں؟۔ اگر پروسیجر کی کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے تو چیلنج کیا جا سکتا تھا۔لیگی امیدوار کے وکیل نے عدالت میں بتایا تھاکہ ہمارے پاس رِٹ میں آرڈر کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا تھاکہ رِٹ میں نہیں کر سکتے تو سڑک پار سپریم کورٹ چلے جائیں۔
اگر ٹریبونل کے کسی آرڈر سے متاثر تھے تو رٹ پٹیشن دائر کرتے۔ آرڈر کے خلاف رِٹ قابل سماعت تھی۔ آپ سیدھے تعصب پر چلے گئے۔ میں تو حیران ہوں آپ لوگوں نے قانون دیکھا ہی نہیں اور اعترض کر دیاتھا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے تھے کہ اگر تعصب کا تاثر ہو تو اسی جج سے کیس منتقلی کی استدعا کی جاتی تھی۔ مجھے اس کیس کو تفصیل سے سمجھنے میں وقت لگے گا۔ کیس کو 22 جولائی کو سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ ہم الیکشن ٹریبونل کو کارروائی آگے بڑھانے سے روک دیتے ہیں۔ میں روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر 4 یا 5 روز میں فیصلہ کردوں گا۔



