اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کیلئے رولز بنانے کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس موخر کرنے کی تجویز دی،تمام اراکین نے اجلاس موخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا جس پر جسٹس منیب اختر جوڈیشل کمیشن اجلاس سے واک آوٹ کرگئے،جوڈیشل کمیشن مجوزہ رولز 2024 سے متعلق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس جاری ہے۔
اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس امین الدین، ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز ،جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک ،اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت چاروں صوبائی وزرا قانون سمیت ہائیکورٹس کے سینئر ججز بھی شریک ہیں۔
اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اجلاس میں مجوزہ سفارشات کا مسودہ پڑھا۔جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک پر مشتمل کمیٹی نے سفارشات تیار کیں جبکہ رولز میں ترامیم سے متعلق کمیٹی اپنی سفارشات جوڈیشل کمیشن کو بھجوا چکی ہے۔
دوران اجلاس جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس موخر کی تجویز دی، جس پر کمیشن نے اجلاس موخر کرنے کی تجویز سے اختلاف کیا تو جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیسن اجلاس سے واک آوٹ کردیا۔جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز تقرری کیلئے رولز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ہائیکورٹس میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس کیلئے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کئے گئے تھے۔
خط میں ہائیکورٹس سے ایڈیشنل ججز کے تقرر کیلئے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی تھی۔جوڈیشل کمیشن رولز کی منظوری کے بعد ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتیاں ہونگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو یا دو سے زائد ججز تعینات ہونے کا امکان بتایا گیا تھا۔واضح رہے کہ ہائیکورٹس میں نئے ججز کی تقرری کیلئے رولز کا جائزہ لینے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ہائیکورٹس میں ججز تقرری کیلئے نام بھی طلب کرتے ہوئے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کو خط بھی لکھے تھے۔



