اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بجٹ سیشن میں خطاب کا سنسرشدہ حصہ سامنے آگیا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ پارلیمان میں حملے کی قیادت کررہے تھے۔ وزیرخارجہ کو ضرورت ہے کہ وہ چین، سعودی عرب، بھارت اور امریکا کے معاملات کو سنجیدہ لیں۔وزیرخارجہ پارلیمان میں غیرذمہ دارانہ روئیے کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ وہ ایوان میں حملے کے وقت ٹارزن کا کردار ادا کررہے تھے۔مواصلات کے وزیر کو پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے چین سے رابطے رکھنے پڑتے ہیں تاہم حملے کے وقت وہ ڈیسک پر بندروں کی طرح اچھل رہے تھے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر سے مکالمہ کیا کہ میں نے کسی کو غیرپارلیمانی لفظ سے نہیں پکارا بلکہ عمل کو مثال کے ساتھ بیان کیا ہے۔جب ایک منتخب وفاقی وزیر اس ڈیسک پر کہ جہاں وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے میں کیا کروں کہا تھا، اسی ڈیسک پر وزیرمواصلات نے چھلانگیں ماریں، مجھے اس عمل کو کیا کہنا چاہئیے، مجھے الفاظ دیں۔میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی عزت کرتا ہوں تاہم وہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس جسے بڑی مشکل سے یورپی مارکیٹ تک رسائی کیلئے پی پی پی نے حاصل کیا اور وہ اس وقت خطرے میں ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کو ہمیں بتانا پڑے گا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس اس وقت خطرے میں ہے اور ہمیں اس کو بچانا ہے اور حملے کے وقت وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی وائرل ویڈیو کے عمل کو کیسے بیان کیا جائے، مجھے الفاظ دیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بجٹ سیشن میں خطاب کا سنسرشدہ حصہ سامنے آگیا



